یہ 2003ء کی بات ہے ریڈیو پاکستان ملتان میں بطور پروگرام پروڈیوسر میری پہلی پوسٹنگ تھی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے گھر کے عقب میں جس کالونی میں، میری رہائش تھی اس میں سبھی گھر تقریباً تین سے چار کنال پر بنے ہوئے تھے سوائے اس دس مرلہ گھر کے جس کے اوپر کے پورشن میں کرایہ دار کی حیثیت سے میں کوئی گیارہ ماہ کے قریب رہائش پذیر رہا۔ مگر حرام ہے جو ان گیارہ مہینوں میں اپنے مالک مکان جو ایک ریٹائرڈ پروفیسر اور انتہائی شریف النفس انسان تھے کے علاوہ میں نے یا وہاں کے دیگر مکینوں نے آپس میں کسی قسم کی کوئی باہمی راہ و رسم بڑھائی ہو یا بڑھانے کی کوشش کی ہو۔ حالانکہ میرے ڈرائنگ روم کی بالکونی سے سامنے گھر کا انتہائی کھلا، ہرا بھرا اور دیدہ زیب لان دکھائی تھا جس کا نظارہ کرنے کے لیے میں اکثر چھٹی والے دن بالکونی میں گھنٹوں بیٹھا مشق شعر و سخن کرتا رہتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس دوران کبھی کبھار وہاں کا نظارہ ہو جاتا تھا اور کبھی نہیں بھی ہوتا تھا مگر یہ نظارہ اتنا جاذب نظر اور خوبصورت تھا کہ آج بھی میرے دل اور یادوں میں ترو تازہ ہے۔ اللہ جانے میرے وہاں سے آنے کے بعد اس نظارے کا کیا بنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ آپ میرے اس نظارگی کے شوق کو کوئی غلط رنگ دیں میں وضاحت کر دوں کہ میرے لیے ملتان میں رہائش کے لیے خاص طور پر اس کالونی کے انتخاب کی ایک وجہ تو اس کا صاف ستھرا اور پُرسکون ماحول تھا۔ نظارے والا معاملہ تو رہائش کے بعد میرے سامنے آیا تھا البتہ ایک دوسری وجہ اس جگہ کا میرے آفس کے بے حد قریب ہونا بھی تھا۔ یہاں سے میرے آفس کا دس پندرہ منٹ کا پیدل راستہ تھا جسے میں اکثر پیدل ہی طے کیا کرتا تھا۔
ایک روز آفس جاتے ہوئے میں نے راستے میں ایک بڑے سائز کا بینر دیکھا جس پر لیڈری کے شوقین کسی وکیل صاحب کی طرف سے جلی حروف میں ’’اساں قیدی تخت لاہور دے‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں چونکہ لاہور سے ملتان گیا تھا اور ایک طویل عرصہ لاہور میں گزارنے کے بعد یہاں کے حالات سے بھی شاید کچھ واقف تھا اس لیے مجھے اس بینر کی تحریر ناصرف عجیب محسوس ہوئی بلکہ شاید لاہور سے اپنائیت کی وجہ سے کچھ بُری بھی لگی۔ جس مقصد کے تحت اور جس تناظر میں بنیر پر یہ تحریر تھی مجھے اس کا کچھ اندازہ تو تھا مگر اس کے باوجود میرے دل میں اس حوالے سے وہاں کے ادیبوں کے خیالات جاننے کا خیال بھی پیدا ہوا۔ چونکہ بطور پروڈیوسر میرے پاس وہاں کے ادبی پروگراموں کی ذمہ داری بھی تھی اس لیے میرا ملتان کے نئے اور پرانے لکھنے والوں سے اچھا خاصا رابطہ رہتا تھا۔ اپنی اسی سوچ کے تحت چند دنوں بعد جب میں نے ایک ادبی پروگرام میں شرکت کے لیے ریڈیو پاکستان ملتان آنے والے وہاں کے چند نوجوان ادیبوں جن کے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں سے اُن کا موقف جاننے کے لیے بینر کا ذکر کیا تو سبھی نوجوان جنوبی پنجاب کی تمام تر محرومیوں کا ذمہ دار لاہور کو قرار دے کر پھٹ پڑے۔ میں خاموشی سے ان کے گلے شکوے سنتا رہا جب سبھی نوجوان خوب اچھی طرح باری باری اپنے دل کا غبار نکال چکے تو میں نے ان سب سے یہ سوال کیا ’’کیا آپ میں سے کسی نے لاہور میں کینال روڈ، مال روڈ، گلبرگ، ڈیفنس اور ماڈل ٹائون کے علاوہ کبھی شمالی لاہور کی بستیوں اور انڈسٹریل ایریا کی آبادیوںکو دیکھا ہے۔ جہاں شدید گرمیوں اور حبس کے دنوں میں محض دو وقت کی روٹی کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں مرد و خواتین، بچے، بوڑھوں، کمزوروں اور بیماروں سمیت آٹھ دس افراد رہتے ہیں۔ اسی ایک کمرے میں ان کے لیے کھانے پکانے کا بندوبست ہوتا ہے اور اسی کمرے کے ایک کونے میں بغیر چھت کے چھوٹی چھوٹی دیواروں کی ایک لیٹرین بھی بنی ہوتی ہے۔‘‘ اس پر ایک نوجوان کہنے لگا ’’اس بات کا ہماری بات سے کیا تعلق ہے؟‘‘۔ میں نے کہا ’’اگر آپ تھوڑا غور کریں تو بہت گہرا تعلق ہے‘‘۔ ان چاروں میں سے ایک نوجوان جو اپنے موقف کے حق میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو کر بول رہا تھا بڑے تمسخرانہ انداز میں کہنے لگا ’’جناب آپ ہی بتا دیں آپ بھی تو لاہور سے
آئے ہیں‘‘۔ میں نے ایک نظر سب کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا ’’اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ کمزور ہر جگہ کمزور ہے اور طاقتور ہر جگہ طاقتور ہے‘‘۔ اسی نوجوان نے جلدی سے کہا ’’وہ کیسے؟‘‘۔ میں نے کہا ’’میں ابھی تک یہاں کسی ایسے شخص سے ملا تو نہیں ہوں لیکن مجھے اندازہ ہے کہ اس علاقے کے غریبوں کے حالات اور محرومیاں کسی بھی حوالے سے لاہور میں رہنے والے غریبوں اور ناداروں سے کم نہیں ہیں‘‘۔ ایک دوسرے نوجوان نے میری بات کاٹ کر کہا ’’بلکہ کچھ زیادہ ہی ہونگی‘‘۔ میں نے کہا ’’بالکل درست کہا آپ نے مگر میں نے یہاں ملتان میں بھی چار چار کنال کی محل نما کوٹھیاں اُن کے اندر مہنگی مہنگی گاڑیاں اور اُن کوٹھیوں کے مالکوںکے خدمت گاروں کی ایک فوج بھی دیکھی ہے جو ٹھاٹ باٹھ میں لاہور، اسلام آباد یا کراچی میں رہنے والے امیروں سے کسی طور کم نہیں ہیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی ہونگے‘‘۔ میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’سوچنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی تفریق کے بغیر پورے ملک میں ہر جگہ ان غاصبوں، لیٹروں اور بدمعاشوں کا ایک ٹولہ ہے جو غریب، مسکین اور نادار لوگوں کو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کر کے تمام تر وسائل پر قابض ہو کر بیٹھا ہے۔ وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وہ تمام علاقے جو محرومیوں کا شکار ہیں یہاں کے چودھری، وڈیرے، جاگیردار، خان اور نواب غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کی نسلوں کا استحصال کرنے کے لیے سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ ان سب نے قیام پاکستان سے آج تک اپنے اپنے علاقوں میں اپنی اپنی راجدھانیاں بنا رکھی ہیں جس میں اپنی معصوم اور بھولی بھالی رعایا کو مختلف حیلوں بہانوں اور نعروں سے بہلا پھسلا رکھا ہے۔ آج تک کسی قدرتی آفت، سیلاب، زلزلے یا سیاسی و غیر سیاسی تحریک میں کوئی سردار، چودھری، جاگیردار، وڈیرے یا خان اور اس کا بیٹا نہیں مارا گیا۔ ملک اور قوم کے لیے جب بھی قربانی دی ہے یا زبردستی قربانی لی گئی ہے اس کی بھینٹ غریب اور مسکین ہی چڑھے ہیں۔‘‘ مجھے نہیں پتا میری ان باتوں کا اُن نوجوانوں پر کچھ اثر ہوا یا نہیں مگر آج اتنے برس بعد یہ واقعہ مجھے وطن عزیز میں ایک بار پھر سے انہی غریبوں اور ناداروں کو بے بسی سے تنکوں کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتا دیکھ کر یاد آ گیا ہے۔ جو لگتا ہے اس بار بھی سب کچھ لٹا کر اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گے۔