مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ملک میں ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے۔ چاروں اکائیاں خطرات کی لپیٹ میں ہیں۔ دریائے ستلج، چناب اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ 38 سال کے طویل عرصے کے بعد دریائے راوی میں سیلابی صورتحال نے جنم لیا۔ اگرچہ بھارت نے 1988 کے مقابلے میں ابھی کم پانی دریائے راوی میں چھوڑا۔ اس وقت پانی کا بہاؤ کہیں زیادہ ہونے کے باوجود دریائے روای کے اردگرد ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے لاہور بچ گیا۔ اس بار صورتحال یکسر مختلف رہی۔ دریائے راوی کے بیڈ پر قائم ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانی داخل ہو گیا جس سے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ لوگوں کے گھر، فرنیچر اور الیکٹرانکس سب پانی کی نذر ہو گئے۔ آبی گذرگاہوں پر کمرشل سرگرمیوں، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور موٹر ویز بنا کر جو رکاوٹیں پیدا کی گئیں اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ پانی نے اپنا راستہ تو لینا تھا پھر چاہے جو بھی راستے میں آتا تباہی اس کا مقدر تھا۔ قدرت نے اپنی اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو شروع کر دی ہے کیونکہ ہمارے رویے تو نہیں بدلے۔ حکمران تو شروع دن سے ہی صرف بیانات اور دعووں تک ہی محدود رہے۔ بتایا جاتا تھا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے 6 لاکھ کیوسک پانی تک کی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ بہرحال گراؤنڈ پر ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ ایک طاقتور وزیر بھی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کو نہ بچا سکے۔ پنجاب بھر کے متعدد اضلاع میں ہزاروں دیہات اور لاکھوں ایکڑ اراضی پر فصلیں زیر آب آ گئی ہیں، غریب کا آشیانہ تنکوں کی مانند پانی میں بہہ گیا۔ کسان گذشتہ 3 سال سے فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے سے پہلی ہی پریشان تھے اور اب سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ وسیع پیمانے پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے سے مہنگائی اور غذائی قلت کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ سیلاب سے معاشی بحران سنگین ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1950 سے 2010 کے دوران آنے والے سیلابوں سے 8887 لوگ اپنی جانوں سے گئے تھے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان الگ سے ہوا تھا۔
ہماری سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ 2022 کے سیلاب کی مد میں جنیوا میں 11 ارب ڈالر کی سیلابی امداد سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکے، جس کا اعتراف وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب کر چکے ہیں۔ اس وقت پی ڈی ایم کی حکومت تھی اور وزیراعظم شہباز شریف ہی تھے جو خود جنیوا تشریف لے گئے تھے، تاکہ دنیا کو موسمیاتی تغیرات سے ہونے والی تباہی بارے بتا سکیں اور فنڈز اکٹھے کر سکیں۔ یہ پاکستان کی کوتاہی تھی کہ ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، چین، امریکا اور دیگر ممالک نے جو فنڈز سیلاب متاثرین کیلئے پلج کیے ان سے ہم استفادہ نہیں کر سکے۔ وجہ یہ تھی کہ ہم نے ان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے منصوبے
بنا کر ہی نہیں دے سکے کہ وہ سارا پیسہ ہمیں مل سکتا۔ افسوس صد افسوس! نالائقیوں کی داستان کا تسلسل جاری ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب ملک میں سیلابوں کا آنا جانا لگا رہے گا اب یہ ہم پر ہے کہ اس سے نمٹنے کیلئے عملی طور پر کیا کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اتنی زیادہ تعداد میں ڈیم نہیں ہیں۔ ڈیم اور نہریں سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ سیلاب سے مرنا اور معیشت کی تباہی قبول ہے لیکن یہ قوم ڈیم بنانے پر متفق ہوتی ہے اور نہ ہی نہریں۔ ہمارے پاس بڑے چھوٹے ڈیمز ملا کر کل 164 ڈیمز ہیں جو کہ ناکافی ہیں۔ ڈیمز جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں کی شدت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں وہیں خشک سالی اور پانی کی قلت سے بھی بچاتے ہیں۔ پہلے ہی 44 فیصد سے زائد ملکی آبادی کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں۔ اب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ چاروں وزرا اعلیٰ کی حمایت سے ڈیم بنانے کی حکمت عملی بنا لی ہے گویا ڈیم نہ ہوئے کوئی مٹی کا کھلونا ہو گیا جسے اب منٹوں میں بنا لیا جائے گا۔ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ، کینیڈا، جاپان اور چین سمیت مغربی یورپ کے ممالک کا موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والے زہریلے مواد اور گیسوں کے اخراج میں حصہ 50 فیصد ہے۔ یہ ممالک دنیا کی آبادی کا صرف 12 فیصد ہیں جبکہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے لیکن خمیازہ کہیں زیادہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے کہیں گلیشیئرز تو کہیں بادل پھٹ رہے ہیں۔ شدید بارشیں سب موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے لیکن ان سے نمٹنے کیلئے حکومتی سطح پر کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ جب بھی ایسا سانحہ پیش آیا، حکمران سے کیش کرانے کیلئے جھولی پھیلا کر دنیا بھر کے دوروں پر نکل کھڑے ہوئے۔ متاثرین کے نام پر امداد اکٹھی کی اور اسے اپنے اللے تللوں پر خرچ کر دیا۔ اس بار اک نئی روش دیکھنے کو ملی ہے کہ اپنی نااہلی اور کچھ نہ کرنے کا ملبہ دوسروں پر ڈال دو۔ اس بار سارا الزام بھارت پر ڈال دیا ہے کہ اس نے آبی جارحیت کی ہے اس بات میں ایک حد تک تو حقیقت ہے لیکن صرف بھارت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس بربادی میں ہم اس سے کہیں زیادہ قصوروار ہیں۔ جن دنوں ہم اربوں ڈالر قرض لیکر موٹرویز بنا رہے تھے، بھارت نے اپنی توجہ ایکسپورٹ بیسڈ اکانومی کو فروغ دینے اور ڈیمز بنانے پر مرکوز کی۔ چین، امریکا، بھارت، جاپان اور برازیل ڈیم بنانے میں سب سے آگے ہیں۔ سوچیں دنیا میں کل 57 ہزار ڈیمز ہیں جن میں سے 24 ہزار چین اور 5 ہزار 1 سو بھارت کے پاس ہیں جبکہ وہ مزید ڈیمز بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارا مسئلہ ہماری فرسودہ سوچ بھی ہے۔ بہت سارے لوگ ڈیمز کی اہمیت کو نہیں مانتے اور ان کے خیال میں ڈیمز بنانے سے سیلاب رک نہیں جائیں گے۔ جی بجا فرمایا۔ مگر سیلاب کی شدت کو کم کرنے میں اور ایک بڑی تباہی سے بچنے کے لیے ڈیمز کی اشد ضرورت ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے ملک کے لیے جو آٹھ ہزار سے زائد گلیشئرز کا گھر ہو اور موسمیاتی تغیرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو۔ نہریں بنانے کے معاملہ ہو یا ڈیمز، ان کے خلاف مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم بھی تنازعات کے باعث نہ بن سکا۔ آج اگر ہمارے پاس دریاؤں پر ڈیمز بنے ہوتے تو سیلابی پانی کا زیادہ تر حصہ ذخیرہ کیا جا سکتا تھا۔ ایک تو سیلاب کی شدت سے بچ جاتے دوسرا سارا سال زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے وافر مقدار میں پانی دستیاب رہتا۔ مگر عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے۔ 2010 کی فلیش فلڈنگ کے بعد تو ہر صورت ڈیمز بنانے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے تھی۔ تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جا سکتا۔ بھارت ڈیم بناتا رہا اور ہم قرض کی موٹرویز، نیلی پیلی ٹیکسی سکیمز، میٹرو بسوں، بلٹ ٹرینوں کو ترقی کا پیمانہ سمجھتے رہے۔ دھرتی کے سینے میں سریا سیمنٹ ٹھوک دیا گیا اور عوام بھی خاموش رہی۔ ماحولیات کو محفوظ رکھنے اور درختوں کے قتل عام پر احتجاج ہوتا نہیں دیکھا۔ ہمیں اپنے رویے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اتنی سنگین سیلابی صورتحال میں پیشگی انتظامات کو دیکھنے کی ضرورت تھی۔پنجاب کی وزیر اعلیٰ صوبے کے چیف سیکرٹری کے ہمراہ طویل غیر ملکی دورے پر چلی گئیں۔ اب واپسی ہوئی ہے توکشتیوں پر بیٹھ کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے وہی روایتی دوروں سے عوام کے دکھوں کا مداوا کیا جا رہا ہے۔ ہر سال تباہی کے بعد وزیراعظم اور ان کے وزرا اعلانات کرتے ہیں کہ طاقتور اور اشرافیہ کو نہیں چھوڑیں گے۔ جیسا کہ ابھی وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ دیکھیں گے کون زیادہ طاقتور ہے، ریاست یا یہ چند سیٹھ۔ دریائوں پر ہوٹل، ریزارٹ اور ہائوسنگ سوسائٹیاں بنانے والوں کیخلاف اعلان جنگ تو ہو گیا ہے اب عملی مظاہرہ دیکھنا باقی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی آج کل ایک بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ کہاں کتنی کرپشن ہو رہی ہے بس اشاروں کنایوں میں ایکس پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور ساتھ میں ان طاقتور لوگوں پر ہاتھ نہ ڈال سکنے کا شکوہ بھی۔ حالات دیکھیں کہ حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ کرپشن، ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹیز اور ہوٹلز بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کر سکتے۔ جب آپ کچھ کر ہی نہیں سکتے تو بہتر ہے کہ اس عہدے کو چھوڑیں اور گھر بیٹھ جائیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں بے بسی کے دعوے سے اب کام نہیں چلے گا۔