Wed, September 16, 2026

آزادی صحافت کا عالمی دن 

آزادی صحافت کا عالمی دن 

آزادی صحافت کا عالمی دن 3مئی کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت ہرسال دنےا کے بےشتر ممالک مےں مناےا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی بہت سی قراردادوں میں ایک المیہ موجود ہے کہ مغربی ممالک جن قراردادوں پر عمل کرانا چاہتے ہےں ےا اُن کے بارے مےں شعور اجاگر کرنا چاہتے ہےں اُن پر کچھ نہ کچھ عمل ضرور ہوتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی وہ قراردادےں جو مغرب کے مفاد مےں نہےں ہوتےں دےمک کی نذر ہو جاتی ہےں۔ انہی مےں اقوام متحدہ کی اےک اہم قرارداد بھارتی مقبوضہ کشمےر مےں استصوابِ رائے کے حوالے سے بھی ہے۔ صحافت کی داستان بھی بڑی عجےب ہے۔ دنےا مےں صحافت مذہبی پےغامات ےا فوجی مہمات میں احکامات پہنچانے کے لیے اےجاد ہوئی۔ صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد ”آزادی صحافت کے لیے شعور اجاگر کرنا اور حکومتوں کو آزادی اظہار کے حق کا احترام کرنے اور اسے ےقےنی بنانے کا فرض ےاد کرانا ہے“۔ پاکستان مےں بھی آزادی صحافت کا دن پورے صحافتی زوروشور کے ساتھ مناےا جاتا ہے۔ صحافت شعور کا نام ہے۔ شعور چےز ہی اےسی ہے جس کو آجاتی ہے اُسے چےن سے بےٹھنے نہےں دےتی اور جس کے خلاف آتی ہے وہ بھی چےن سے زندگی نہےں گزارتا جس کی تمام دنیا میں مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی صحافت مےں آزادی صحافت کے شعور کا مبینہ طور پر سب سے پہلا اظہار پاکستان کے قےام سے تےن دن پہلے ہوا جب بانی پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح نے آئےن ساز اسمبلی مےں 11 اگست 1947ءکو اپنی تارےخی تقرےر کی۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت کے روزنامہ ڈان کے اےڈےٹر الطاف حسےن کو اُسی شام اِس تقرےر کے کچھ حصے شائع نہ کرنے کا کہا گیا مگر ایڈیٹر نے انکار کیا۔ صحافت اور صحافےوں پر چھوٹے بڑے شب خون کے واقعات مےں اےوب خان کا دور قابل ذکر ہے جس مےں اخبارات کے دفاتر پر قبضہ کےا گےا تھا۔ ہوسکتا ہے اےوب خان اُس وقت صحافیوں کے خلاف جےت گئے ہوں لےکن صحافت نہےں ہاری۔ پاکستان مےں مارشل لاءہو ےا جمہورےت، صحافی اور صحافت پوری طرح کسی کو ہضم نہیں ہوتی۔ صحافےوں کو رام کرنے کے لیے سخت طرےقوں کے ساتھ نرم طرےقوں کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قوم پرست اور انتہاپسند جماعتوں نے بھی صحافت مےں اپنے نمائندے پےدا کرلیے۔ اس طرح وہ صحافی، صحافی کی بجائے سےاسی کارکن بن گئے۔ پاکستان مےں صحافت نے سنہ 2002ءکے بعد زیادہ طاقت حاصل کرلی جب ہرطرف الےکٹرانک مےڈےا چمکنے اور چیخنے لگا۔ الےکٹرانک مےڈےا مےں خواتےن کو بھی بہت مواقع ملے جنہوں نے صحافت مےں اعلیٰ مقام حاصل کےا۔ پاکستان مےں مےڈےا اب پہلے جیسا آسان ہدف نہیں رہا۔ اس کی وجہ صحافتی تنظےموں اور پرےس کلبوں کا پرواےکٹو ہونا ہے۔ مےڈےا کی مضبوطی کے ساتھ کچھ مےڈےا پرسنز کے اطوار بھی بدل گئے ہےں۔ اگر اُن کا کوئی تجزےہ درست ثابت نہ ہوتو وہ اپنا تجزےہ بدلنے کی بجائے حالات کو اپنی مرضی کے ماتحت لانے کے درپے ہو جاتے ہےں اور انقلابی کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب تو ایسے ہی نام نہاد انقلابی گروہ میں عجیب و غریب چند دانے سامنے آئے ہیں جو ملک اور اس کے اہم اداروں کو غیرملکی صحافیوں کے سامنے بدنام کرنے کو آزادی رائے قرار دیتے ہیں۔ اس جملے کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیں کہ ریاست یا ملک ماں کی طرح ہوتی ہے۔ اگر اس کے بچے اپنی ماں کو دوسروں کے سامنے بدنام کریں تو کیا وہ اچھی اولاد کہلائیں گے؟ بالکل نہیں بلکہ سب ان پر تھوکیں گے اور انہیں گندی اولاد کہیں گے۔ ایسے ہی یہ وہ نام نہاد چند گندے دانے ہیں جو اپنی دھرتی ماں اور اس کے محافظوں کی غیرملکی صحافیوں کے سامنے نیشنل پریس کلب کا نام استعمال کرکے رسوائی کرانا چاہتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ غیرملکی صحافی اور نیشنل پریس کلب کے اصلی عہدے دار اِن گندے انڈوں کو پہچان کر سوشل میڈیا پر ان کے چہروں سے نقاب الٹ دیتے ہیں۔ اِن کے علاوہ کچھ مےڈےا پرسنز کا روےہ اےسا ہوگےا ہے جےسا کہ کمےونسٹ فلسفے مےں استحصال کے خلاف اکٹھے ہونے والے غرےب مزدوروں کے لےڈر کچھ عرصے بعد خود استحصال کرنے والے بن جاتے ہےں۔ کچھ صحافےوں کی باڈی لےنگوئج سے پتا چلتا ہے کہ جن غےرجمہوری رویوں کے خلاف وہ آواز بلند کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہےں اُن غےرجمہوری رویوں کے مزاج اور اِن صحافےوں کے مزاج مےں کوئی فرق نہےں رہا۔ ےعنی اِن دونوں طاقتوں کے درمےان لڑائی محض اناپرستی کی ہے۔ ٹاک شوز مےں اکثر ےکسانےت آچکی ہے مگر کئی اےنکر پرسنز کے ٹی وی سکرےن پر حاضر رہنے کے رےکارڈ پر رےکارڈ قائم ہو رہے ہےں۔ ہمارے ہاں عام آدمی الےکٹرانک مےڈےا کے اےسے پروگراموں سے بور ہوکر کےا سوچ رہا ہے؟ اُسے ےوں بےان کےا جاسکتا ہے۔ ”اےک ٹی وی صحافی اےک کسان کا انٹروےو لے رہا تھا۔ صحافی: آپ بکروں کو کےا کھلاتے ہےں؟ کسان: کس بکرے کو؟ کالے والے کو یا چٹے والے کو؟ صحافی: چٹے کو۔ کسان: گھاس۔ صحافی: اور کالے کو؟ کسان: اسے بھی گھاس۔ صحافی: آپ ان بکروں کو باندھتے کہاں ہیں؟ کسان: کالے والے کو ےا چٹے والے کو؟ صحافی: چٹے کو۔ کسان: باہر کے کمرے مےں۔ صحافی: اور کالے کو؟ کسان: اسے بھی باہر کے کمرے مےں۔ صحافی: انہےں نہلاتے کس طرح ہیں؟ کسان: کسے ؟ کالے والے کو یا چٹے والے کو؟ صحافی: کالے کو۔ کسان: جی پانی سے۔ صحافی: اور چٹے کو؟ کسان: جی اسے بھی پانی سے۔ صحافی کا غصہ ساتوےں آسمان پر پہنچ گیا۔ صحافی بولا: جب دونوں کے ساتھ سب کچھ اےک جےسا کرتے ہوتو مجھے باربار کےوں پوچھتے ہوکہ کالے والے کو یا چٹے والے کو؟ کسان: کےونکہ کالے والا بکرا مےرا ہے۔ صحافی: اور چٹا بکرا؟ کسان: وہ بھی مےرا ہے۔ صحافی بے ہوش ہوگےا۔ ہوش آنے پہ کسان بولا ”اب پتا چلا جب تم اےک ہی نےوز کو سارا دن گھما پھرا کے دکھاتے ہوتو ہم بھی اےسے ہی دکھی ہوتے ہےں“۔ 

ٹیگز: