پاکستان اور چین کے مضبوط دفاعی تعلقات پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ چین نے جہاں ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ نبھایا وہیں پاکستان کی عسکری قوت کو مضبوط تر بنانے میں بھی ہمیشہ آئرن برادرز کے عزم کو تقویت دینے کے لئے تعاون کیا۔ یہ مضبوط تعلقات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔ PNS/M Hangor کی کمیشننگ تقریب چین کے شہر ژنیہ میں منعقد ہوئی ہے۔ اس پروقار تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ پاک بحریہ کے سربراہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ تقریب نہ صرف پاکستان نیوی کی جدیدیت کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ ملک کے دفاعی عزم اور سمندری سلامتی کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے۔صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں اس کمیشننگ کو پاکستان نیوی کی تاریخ کا ایک سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع، سمندری مفادات کے تحفظ اور اقتصادی راہداریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں عالمی سطح پر سمندری راستے تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں ایک مضبوط اور جدید بحریہ ناگزیر ہو چکی ہے۔دوسری جانب اہم سمندری گزرگاہوں (چوک پوائنٹس) پر بڑھتے ہوئے خطرات عالمی تجارت کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس بحری قوت ہی خطے میں استحکام برقرار رکھ سکتی ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ہتھیاروں، جدید سینسرز اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن جیسی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو انہیں خاموشی اور طویل وقت تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ یہ خصوصیات انہیں دشمن کے لیے ایک مو¿ثر اور ناقابلِ پیش گوئی قوت بناتی ہیں۔اگر ہم ماضی کی طرف نظر ڈالیں تو پاک بحریہ کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی درخشاں مثالیں موجود ہیں۔ انیس نو اکہتر کی جنگ میں PNS Hangor نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز INS کھکری کو غرق کر کے تاریخ رقم کی۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار کسی آبدوز نے دشمن کے جنگی جہاز کو تباہ کیا۔ اس کامیابی نے نہ صرف پاکستان نیوی کا وقار بلند کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی تسلیم کیا گیا۔
آج نئی ہنگور کلاس آبدوز کو پاک بحریہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک جدید جنگی پلیٹ فارم یے جو پاک بحریہ کی عظیم طاقت کا مظہر ہے۔ یہ آبدوز اس تاریخی نام کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے جو بہادری، حکمت عملی اور قربانی کی علامت بن چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی تاریخ کو یاد رکھتا ہے بلکہ اسے مستقبل کی طاقت میں بھی ڈھالتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی کی جنگیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ بحری محاذ ہمیشہ سے انتہائی اہم رہا ہے۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کا معرکہ، سمندر میں برتری حاصل کرنا کسی بھی ملک کی مجموعی دفاعی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان نیوی نے محدود وسائل کے باوجود ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرا¿ت سے دشمن کو حیران کیا۔ آج جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ساتھ یہ قوت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت سے پاکستان نیوی کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ آبدوزیں نہ صرف دشمن کی جارحیت کو روکنے میں مددگار ہوں گی بلکہ بحرِ عرب اور بحرِ ہند میں اہم تجارتی راستوں (Communication of Lines Sea) کی حفاظت بھی یقینی بنائیں گی۔ خاص طور پر سی پیک جیسے بڑے اقتصادی منصوبوں کے تناظر میں سمندری سکیورٹی کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔یہ کمیشننگ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کا بھی مظہر ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھارت کی نیندیں پہلے ہی اڑا چکا ہے۔ پاکستان کی عسکری برتری سب سے بڑھ کر ہے۔ بحریہ کی طاقت بھی خطے میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔ چین کی جانب سے فراہم کردہ جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی دفاعی خودمختاری کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہنگور کلاس آبدوز کی کمیشننگ محض ایک دفاعی اضافہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے.... ایک ایسا پیغام جو دشمن کو خبردار کرتا ہے اور دوستوں کو اعتماد دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی اس پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت وہ امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاک بحریہ کی تاریخ بہادری، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے بھری پڑی ہے، اور ہنگور کا نیا باب اسی روشن روایت کو آگے بڑھانے کا عزم لیے ہوئے ہے۔