میں تو اسے تاریخ کا المیہ ہی لکھوںگا کہ مورخوں نے محنت کشوں کی تاریخ لکھنے کے بجائے اُن کی محنت سے تعمیر ہونے والے محلات اورکسانوں کی محنت سے پیدا کیے گئے اناج پر¾ زندہ رہنے والے شاہوں یا پھر مزدوروں اور کسانوں کی محنت لوٹنے والے جنگجوﺅں کے قصیدے ہی لکھے ہیں ۔دنیاکو رہنے کے قابل بنانے والوں کے ذکر سے نہ صرف تاریخ کے اوراق محروم ہیں بلکہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ محنت کشوں پرہونے والے ظلم و ستم کا ذکر بھی ویسے نہیں کیا گیا جو دیانتداری سے ہوناچاہیے تھا ۔کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کرنا مناسب سمجھا ہے کہ ہم پیدا ہوتے ساتھ ہی اپنی ماں کا جو دودھ پیتے ہیں وہ جس گندم ¾ پھل یا سبزی سے بنتا ہے وہ ہم نے پیدا نہیں کی ہوتیں ¾اور نہ ہی اُس مکان کی تعمیر میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا ہے جس کی چھت کے نیچے ہم زندگی کی پہلی سانس لیتے ہیں ۔جو لباس ہمیں پہلی بار پہنایا جاتا ہے وہ کپاس سے پیدا کرنے میں ہماری کوئی محنت شامل نہیں ہوتی ۔ نہ ہی اُس مزدور اور کسان سے ہمار ی کوئی رشتے داری ہوتی ہے جس نے ہمارے دنیا میں آنے سے پہلے ہمارے جینے کے تمام اسباب کا بندوبست کررکھا ہوتا ہے ۔محنت کشوں کا وہ طبقہ جو دنیا کہ تمام انسانوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے اُس کے اپنے بچے زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو ترستے رہتے ہیں ۔حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اگر نہیں بدلتا تو اِن طبقات کا نصیب جو روزاول سے ایسا ہی ہے جیسا ہم آج دیکھ رہے ہیں۔
دنیا آ ج سرمایہ داری کے چنگل سے نکل کر مہا سرمایہ داری کی دلدل میں اتر چکی ہے ۔سامراج نیست و نابود ہو چکا لیکن مہا سامراج اپنے نوکیلے جبڑوں میں پوری انسانیت کو دبوچے وحشیانہ رقص کر رہا ہے ۔آج سرمایہ داری کی بے رحمی کا یہ عالم ہے کہ وہ محنت کشوں کی خواہشات سے خیالی خوشیاں بھی کشید کرکے اپنی مخملی خواب گاہوں میں لے جا رہی ہے۔ سائنسی ترقی ¾ جدید آلات اور مہلک ہتھیاروں نے سرمایہ داروں کو مزید غیر مہذب اور بے رحم بنادیا ہے۔کتابِ فطرت کا مرکزی کردار” انسان “بیک وقت ظالم اورمظلوم بن چکا ہے ۔تجسس انسان کی سرشت میں شامل ہے اور ہر عہد کے انسان کے شعور کا تعین اُس کے مادی حالات ہی کرتے ہیں ۔مادی حالات کے تبدیل ہونے پر انسانی شعور بھی نئی کروٹ لیتا ہے ۔زرعی معاشرہ اور صنعتی انقلاب کے عہد دو مختلف ادوار ہیں لیکن صنعتی انقلاب کا منافع خور سرمایہ دار زرعی معاشرے کے جاگیر دار سے زیادہ بے رحم ثابت ہوا ہے جو اپنے مقاصدکے حصول کیلئے ایک دو نہیں انسان قتل نہیں کرتا بلکہ پوری قوم کوبارود کے ڈھیر پررکھ دیتا ہے۔ آج اُس کو قوت بازو کی ضرورت نہیں کہ یہ کام مشینیں اور روبوٹ سرانجام دے رہے ہیں۔
1886 ءتاریخ کا وہ سال ہے جب شکاگو کے مزدوروں نے 12 گھنٹے کی بیگار کرنے کے بجائے 8 گھنٹے مزدوری کرنے کا مطالبہ کردیا ۔حکومت ¾فیکٹری اور مل مالکان نے اُن نہتے مزدوروں پر گولیاں چلائیں اور پھانسیاں دیں لیکن عزم و ہمت کے وہ پیکر کوہساروں کی طرح مقابلے پر ڈٹ گئے۔ آخر کار وہ جنہیں عظمت ِانسان اور انسانی خون سے بھی عزیز منافع ہوتا ہے انہیں مزدوروں کے آگے جھکنا پڑا ۔شکاگو کے شہید مزدوروں نے دنیا بھر کے مزدوروں کہ جبر کی رات طویل ہو سکتی ہے لیکن ابھرتے سورج کو تونکلنا ہی ہوتا ہے ۔انہیں پہلے محنت کرکے خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے اور پھر اپنی محنت کے معاوضے کیلئے جان بھی دینا پڑتی ہے ۔آج دنیا بھر کے مزدور آٹھ گھنٹے کی مزدوری کے جس شجر کا پھل اپنے بچوں کے پیٹ میں اتار رہے ہیں انہیں ہمیشہ شکاگو کے شہید مزدوروں کا شکر گزار رہنا ہوگا ۔ جبر کا کوئی بھی قانون فطرت نے انسان پر لاگو نہیں کیا البتہ جبر کے ہر قانون سے آزادی حاصل کرنے کیلئے درد کے انگنت افسانوں کو جنم لینا پڑتا ہے ۔آج شکاگو کے مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ویسی ہی جدو جہد کی ضرور ت ہے جس کا آغاز انہوں نے1886 ءمیں کیا تھا ۔آج 140 سال گزرنے کے بعد بھی مزدورکے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہے ۔جبر کے نت نئے ضابطے لاگو کرکے مزدوری کے بجائے بیگار لی جا رہی ہے ۔آج ضرورت ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کی تنظیموں کو از سر نو منظم کیا جائے اور ایک ایسے انقلاب کی بنیاد رکھی جائے جو مستقل ہو۔آج مزدوروں اورکسانوں کی تنظیمیں چلانے والے زیادہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے زندگی میں ایک دن کسی فیکٹری یا کھیت میں کام نہیں کیا ۔انقلاب کی باتیں کرنے والے عالیشان محلات میں بیٹھ کرشہر کے لونڈوں کو روسی ¾ چینی اور وینز ویلا کا انقلاب پڑھا رہے ہیں لیکن اُن نوجوانوں کو اپنے معروض سے مکمل بے خبررکھا ہوا ہے ۔
امریکی ”مزدوروں کا دن“ یکم مئی کے بجائے ستمبر کی پہلی پیر کو مناتے ہیں جبکہ لیبر ڈے امریکہ میں پہلی بار 1887 ءمیں منایا گیا ۔روس میں یکم مئی 1917 ءمیں پہلی بار منایا گیا کہ اُس وقت مزدور اور کسان انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنٹفک معاشی انقلاب لانے سے چند قدم کے فاصلے پر تھے ۔برطانیہ کی لیبر پارٹی آج تک لیبرڈے کا اہتمام برطانیہ میں یکم مئی کو نہیں کرا سکی۔ یقینا اس کے پس منظر میں وہ ”عظیم سرمایہ داری “ عمارت کھڑی ہے جس کا کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔آج دنیا بھر کے محنت کشوں کا عالمی سرمایہ داری کی کھلی معاشی دہشتگردی اورشرح منافع کیلئے احترام آدمیت سے انکار کے خلاف متحد ہونے کادن سمجھا جاتا ہے ۔پاکستان میں کچھ حلقے یکم مئی کے بجائے یوم خندق کو مزدوروں کے دن کے طور پرمنانا چاہتے ہیں مجھے اس پر بھی خوشی ہو گی لیکن مجھے یقین ہے کہ غزوہ خندق کے عظیم ترین مزدوروں کا دن منانے کی اجازت سے پہلے سرکار کو یہ سوچنا ہو گا کہ سودی نظام پر چلنے والی ریاست میں اُس عظیم ترین ہستی کا دیا ہوا قانون نافذ ہو سکتا ہے جو قدر زائد کو بانٹے کا حکم دیتے ہیں ۔ اگر کوئی ایسی کاوش کی بھی گئی تو پھر مزدوروں کی نئی نقسیم سامنے آ جائے گی جو مسلکوں کی بنیاد پر ہو گی اور ہمیں سماج میں بریلوی مزدور ¾ دیوبندی مزدور ¾ اہلحدیث مزدور ¾ اہل ِتشیع مزدور ¾ شافی مزدور اور نجانے کون کونسے مزدور نظر آنا شروع ہو جائیں گے ۔ پاکستان میں تو قلم کے تیس مار خان مزدورں کا یہ عالم ہے کہ اپنے مالکان کے سامنے جا کر اپنی طے شدہ محنت کا معاوضہ طلب کرتے ہوئے اُن کی جان نکلتی ہے اور دنیا بھرکے انسانوں کو جرات ¾ بہادری اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس سب سے زیادہ یہی طبقہ دیتا ہے ۔ آج یکم مئی ہے لیکن قلم کا کوئی مزدور کسی اخبار میں اس حوالے سے نہیں لکھے گا کہ اُس پراور اُس کے اہل ِ خانہ پر سال بھرکیا بیتی ہے۔یاد رکھیں ! تبدیلی کائنات کا واحد قانون ہے جوکبھی تبدیل نہیں ہو گا آپ چاہیں یا نہ چاہیں ۔