Wed, September 16, 2026

اوورسیز کنونشن: لوگ مایوس کیوں ہیں؟ 

اوورسیز کنونشن: لوگ مایوس کیوں ہیں؟ 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اوورسیز کنونشن کی کامیابی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے امکانات روشن کر دیے ہیں۔ میری تجویز پر جو پہلا قدم اٹھایا گیا، ۔جو شروعات ہوئی ہے، جو بسم اللہ کی گئی ہے اچھی کی گئی ہے۔ ہر کتاب کے آغاز میں ایک یا دو صفحات کا پیش لفظ یا دیباچہ دیا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسلام آباد میں ہونے والا تین روزہ کنونشن ایک دیباچہ تھا، ایک پیش لفظ، ایک آغاز تھا اور اب اس کے تحت پوری کتاب لکھی جائے گی۔تاہم یہ اطمینان بخش نہیں،کنونشن کی جس قدر اہمیت تھی اس قدر تیاری نظر نہیں آئی۔
زیادہ معنی خیز، زیادہ نتیجہ خیز اور ٹو دی پوائنٹ تیاریوں کی ضرورت ہے تاکہ جو کمی حال ہی میں ہونے والے کنونشن میں رہ گئی تھی وہ پوری ہو سکے اور جن مقاصد کو پیش نظر رکھ کر اوورسیز پاکستانیوں کو یہاں مدعو کیا گیا تھا، وہ پورے ہونے کے در وا ہو سکیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حالیہ کنونشن کا سلسلہ جہاں ٹوٹا ہے اگلے کنونشن کا سلسلہ وہی سے آگے بڑھنا چاہیے اور اگلا کنونشن سیکٹر وائز ہونا چاہیے۔ یہ دیکھنا، جاننا اور اندازہ لگانا چاہیے تھا کہ کون سا اوورسیز پاکستانی کون سے سیکٹر میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جو جس شعبے میں دلچسپی کا حامل ہوتا اس کی ملاقات پاکستان میں موجود اسی شعبے کے ایکسپرٹ یا اسی شعبے میں کامیابی سے کام کرنے والے افراد اور اداروں سے کرائی جانی چاہیے تھی۔ یعنی سبھی کو انوالو (Involve) کر کے ون ٹو ون، بی ٹو بی میٹنگز ارینج ہونی چاہیے تھی۔ تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایکٹو ہونے چاہئیں تھے۔
 اپنے اوورسیز پاکستانیوں کو سیکٹر وائز دعوت دی جاتیتو اس سے بھی بہتر نتائج سامنے آ سکتے تھے، جیسا کہ اگر کوئی بندہ سپورٹس آئیٹمز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے تو سیالکوٹ ہمارا بہت اچھا سٹی ہے جہاں کھیلوں سے متعلق ہر قسم کا سامان تیار ہوتا ہے۔ اگر کوئی کٹلری اور ہنٹنگ آئیٹمز جیسے چاقو چھریوں 
وغیرہ میں کشش محسوس کرتا ہے تو سب جانتے ہیں کہ اس کے لیے وزیر آباد کے ماہر بہترین لوگ تھے جن کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی ملاقات کرائی جاتی۔ اگر کوئی اوورسیز پاکستانی پنکھا سازی کی صنعت کو دلچسپ سمجھتا ہے تو گجرات کے پنکھا سازوں اور صنعت کاروں کے ساتھ اس کی ملاقات کرائی جانی چاہیے تھی۔ اگر اوورسیز پاکستانیوں کا ایک گروپ سرامکس کو تجارت کے لییے اہم سمجھتا ہے تو اس گروپ کی ملاقات کے لیے گوجرانوالہ کے سرامکس سے وابستہ صنعت کاروں کو تیار کرنا چاہیے تھا۔ اسی طرح اگر کوئی بندہ زراعت میں انٹرسٹڈ ہے، زراعت میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے تو اس سے متعلقہ کسانوں یا متعلقہ کاشتکاروں کو ملایا جانا چاہیے۔ اگر کوئی بندہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کا کوئی پروگرام رکھتا ہے تو اس کے ساتھ کپاس کے یہاں کے لوکل ذمہ دار اٹیچ ہونے چاہئیں تھے، یعنی محض اسلام آباد میں نہیں، پورے پاکستان میں جشن کا سماں ہونا چاہیے تھا۔جس طرح ولی عہد محمد بن سلامن کی آمد پر آرائش کی گئی اسی طرح خیر مقدمی سجاوٹ کی جاتی ، ہمارے پاکستان بھائی اپنے وطن میں آ رہے تھے۔ 
 اس کنونشن میں 80 ممالک سے 1500 سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں نے شرکت کی۔ سبھی خوش تھے کہ کوئی بڑا اعلان ہو گا۔ کوئی ایسا اعلان جس سے ملکی ترقی کی نئی راہیں کھلتیں اور ستر برسوں سے جو غفلت جاری ہے اس خاتمہ ممکن ہو سکتا۔آرمی چیف نے دلیرانہ خطاب کیا ۔توقع تھی کہ وزیر اعظم بھی اسی طرح موضوع سے متعلقہ بات کرتے لیکن پرائم منسٹر سٹیج پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے کہ مجھے پتا ہے آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ اس بات کا اوورسیز والوں نے بہت ب±را منایا کہ ہم کھانا کھانے نہیں آئے تھے، ہم تو کھانا کھلانے والوں میں سے ہیں، ہم تو وہ لوگ ہیں جو ملک کی خدمت کرنے آئے تھے، تو ہمیں یہ کہہ دینا آپ کو بھوک لگی ہو گی ہماری انسلٹ ہے۔ ایسی بات مذاق میں بھی نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ 
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوئی اتھارٹی بنانے کا اعلان کیا جاتا جس میں اوورسیز اور مقامی نمائندے شامل ہوتے، باہر کے کاروبار کا تجربہ رکھنے والے ٹائکون شامل ہوتے ،ان کی بات سنی جاتی اور تعظیم کی جاتی۔اسی طرح تمام سیکرٹریٹ، تمام شعبے ایک ایک یونیورسل نمبر دیتے کہ ہفتے میں ایک دن اوورسیز پاکستانیوں کا ہے۔ پورے ڈیپارٹمنٹ الرٹ ہوتے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی کالیں آئیں گی، ہمیں ان کالوں کو اہمیت دینی ہے، اوپر ان کا کمپلین سیل بنایا جاتا جس کے اوپر بائیسویں گریڈ کا کوئی افسر لگایا جاتا جو سارے معاملات کو دیکھتا۔ ضروری نہیں کوئی سول بیوروکریٹ ہی ہوتا، کسی جنرل کو بھی ان معاملات کا ہیڈ بنایا جا سکتا تھا۔ بلکہ بہتر تھا کوئی جنرل ہیڈ ہوتا کیونکہ وہ ایک منظم سسٹم اور ادارے سے نکلے ہوتے ہیں اور وہ اچھی مینجمنٹ کر سکتے ہیں۔ ان ڈیپارٹمنٹس کو یہ ٹاسک دیا جاتا کہ اوورسیز پاکستانیوں کا کام ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہے۔ غرض ہر کام ایسا ہوتا کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی واقعی سمجھتے کہ اپنے وطن واپس لوٹے ہیں۔ وہ فیل کرتے کہ ہم اپنے وطن میں، اپنے پاکستان میں آئے ہیں، ہمیں یہ لوگ خوش آمدید کہہ رہے ہیں، ہمیں عزت دے رہے ہیں۔
اس ساری تمہید کا مقصد صرف یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے اوورسیز بھائیوں کے لیے اچھی کانفرنس منعقد کی، جو مزید اچھی ہو سکتی تھی اگر تھوڑی سی اور توجہ دی جاتی۔ توقع کرتا ہوں کہ میں نے دوسری اوورسیز کانفرنس منعقد کرنے کی جو تجویز دی ہے، اس پر توجہ دی جائے گی اور اگلے مرحلے میں ہر تین ماہ اوورسیز کا کنونشن بلانے کا اہتمام کیا جائے گا، ان تمام کمیوں، سقموں اور خامیوں سے بچنے کی کوشش کی جائے گی جو اس پہلی کانفرنس یا کنونشن میں نادانستہ رہ گئیں۔ اس طرح کامیابیوں کے اس سلسلے کو آگے بڑھایا جا سکے گا ۔ علاوہ ازیں ایک اوورسیز انویسٹمنٹ اتھارٹی بنائی جانی چاہیے۔ اسی سے کام آگے بڑھے گا۔

ٹیگز: