Wed, September 16, 2026

ڈیل غتربود، ٹرمپ کا نیا پینترا، وفاقی بجٹ

ڈیل غتربود، ٹرمپ کا نیا پینترا، وفاقی بجٹ

امریکہ ایران ڈیل غتربود ہو گئی، اگرچہ فاکس نیوز، سی این بی سی اور فنانشل ٹائمز سمیت پوری مغربی میڈیا میں ڈیل کی خبریں شائع ہو گئیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں کامیاب رہیں، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا کردار تاریخی ”جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ“ پاکستانی کمانڈر انچیف نے وہ کر دکھایا جو کوئی نہ کر سکا، ٹرمپ نے جمعہ کی رات (امریکہ میں صبح) اعلان کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہو گئے، ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی، 60 روزہ جنگ بندی کے دوران یورینیم سمیت حل طلب معاملات پر مذاکرات ہوں گے، اعلانات کے بعد ڈیل پر حتمی فیصلہ کی منظوری کے لیے سچویشن روم میں گئے۔ دو گھنٹے بعد باہر نکلے تو بہت کچھ بدل چکا تھا، بولے ایران کا زیرِ زمین دفن یورینیم ہم نکالیں گے، ایران پر سے پابندیاں ہٹانے اور 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے صاف انکار، ایران ہماری شرائط مانے گا تو ڈیل ہوگی۔ اجلاس میں اسرائیلی لابی کا دباو¿ کہ امریکہ کسی ڈیل کی بجائے ایران پر حملے جاری رکھے، موجودہ قیادت کو بھی شہید کر دے رجیم چینج ہو جائے گی۔ مغربی میڈیا اب بھی ڈیل کے موقف پر قائم ہے، تاہم ٹرمپ نے اسرائیلی لابی کے دباو¿ میں آکر ڈیل پر دستخط کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، عالمی قوانین کے منافی مزید مطالبات پورے ہونے تک ڈیل مو¿خر، اسرائیلی لابی ابتداءہی سے مذاکرات کے خلاف سرگرم عمل تھی، اس دوران نیتن یاہو سے تلخ کلامی بھی ہوئی، تاہم ری پبلکن پارٹی میں یہودی لابی نے صدر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اور انہوں نے ڈیل کے پہلے فیز پر عملدرآمد کی بجائے ایران کی بندرگاہ بندرعباس پر بمباری اور ڈرون حملے تیز کر دیے، ایران ہمہ وقت الرٹ اس نے امریکی جہاز پر ڈرون سے حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا، ایک طیارہ بھی مار گرایا، نہلے پہ دہلا، اس سے قبل اسی لابی کی ڈکٹیشن کے تحت ابراہام ایکارڈ کا شوشہ چھوڑا گیا کہ خطے کے تمام عرب اور اسلامی ممالک اس معاہدے پر دستخط کرےں اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال کریں، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل قیامِ امن کا یہی واحد راستہ ہے، معاہدہ ابراہیمی 2020ءمیں ٹرمپ نے ہی متعارف کرایا تھا جس کے دوران یو اے ای سمیت چند ملکوں نے اسرائیل سے خفیہ تعلقات قائم کر لیے، حالیہ جنگ میں ایران کی طرف سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں کو اردن میں تباہ کیے جانے اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران پر یو اے ای کے حملوں سے خفیہ اور اعلانیہ تعلقات کا بھرم کھل گیا، 40روزہ جنگ کے دوران عرب ممالک میں سوچ ابھر رہی تھی کہ ایران پر حملوں کے بعد ان ملکوں میں قائم 18 امریکی اڈے ان کا دفاع نہیں کر سکے، سعودی عرب اور پاکستان میں دفاعی معاہدے کے بعد علاقہ کے دیگر ممالک کا بھی واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کی طرف جھکاو¿ نظر آ رہا تھا لیکن اسرائیل اور ٹرمپ کی شیطانی سوچ نے گیم بدل دی، اور ڈیل کے منظور شدہ مسودے کو فی الحال سرد خانے میں ڈال دیا، ٹرمپ پیچھے ہٹنے لگے ہیں اور پورا زور ابراہام ایکارڈ کو تسلیم کرانے پر صرف کر رہے ہیں، پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار جو اس وقت امریکہ میں ہیں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکوروبیو سے ملاقات کے دوران واضح کر دیا کہ فلسطین کی خودمختار آزاد ریاست کے قیام تک پاکستان کسی صورت ابراہام ایکارڈ پر دستخط کرے گا نہ ہی غاصب اور غیر قانونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرے گا، سعودی عرب نے بھی اس سلسلہ میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ دریں اثناءساو¿تھ کیرولینا سے تعلق رکھنے والے اسرائیل نواز سینیٹر لِنڈسے گراہم (جسے عمران دور میں پاکستان آمد پر قائد اعظم میڈل دیا گیا تھا) نے ابراہام ایکارڈ کی شرط عائد کرنے پر ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے کہا کہ ٹرمپ سعودی عرب سمیت تمام ملکوں کو اس معاہدے پر راضی کر لیں تو وہ نوبل ایوارڈ کے بجا طور پر حقدار ٹھہریں گے بلکہ نوبل ایوارڈ کا نام ٹرمپ ایوارڈ رکھنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔ آئندہ عالمی منظرنامہ خطے میں امن کی بجائے کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنتا دکھائی دیتا ہے۔ اللہ اپنا کرم کرے گھر کی حالت بھی قابلِ رحم ہے، وفاقی بجٹ سر پر آپہنچا، ویسے تو ماشاءاللہ مہنگائی سال بھر اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے لیکن جون میں بجٹ کے تصور سے ہی سارا بدن پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے، سچ پوچھئے تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے نعروں، شور 
شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سننے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اپوزیشن کا کوئی رکن بجٹ کے بعد بڑھنے والی مہنگائی سے متاثر نہیں ہوتا لیکن لاکھوں کی تنخواہ اور کروڑوں کی مراعات حاصل کرنے کے لیے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے آکر بجٹ کی کاپیاں پھاڑنا لازمی ازبس ضروری اور قومی روایت ہے، عید قربان پر ایک امیر وضع قطع شخص نے گاڑی سے اتر کر ہانک لگائی یارو اس سال تو گائے میں حصہ ڈال لیا، پتہ نہیں آئندہ سال اس قابل بھی رہیں گے یا نہیں، بجٹ کا اعلان 5 جون کو ہو گا، اس سے پہلے ہی ہر گھر میں شوزِ طوفان آنے والا ہے۔ غریبوں کو رگڑا لگے گا دو قسم کے لوگ سکون سے ہوں گے، کھرب پتی اشرافیہ اور شفٹوں میں ہر سگنل پر بھیک مانگنے والے گداگر، گاڑیوں کے شیشے بجا کر سو روپے وصول کرنے والے مرد، خواتین، بچے، بچیاں، رات گئے اسلام آباد کے مراکز سے لوٹنے والے نوٹ گنتے ہیں اور صبح 20 سے 25 ہزار بنک یا تجوری میں جمع کرا دیتے ہیں، بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہو گا، ہم آئی ایم ایف کی شرائط ماننے پر مجبور، مقروض شخص کی بھی کیا زندگی ہے، ”ہر بلاول ہے قوم کا مقروض، پاو¿ں ننگے ہیں بے نظیروں کے“ سرکاری ملازمین اور پنشنروں کی تنخواہوں میں اضافہ سبسڈی اور غریبوں کو مراعات کی مخالفت، عالمی ادارے کا سوال ان چونچلوں کے لیے رقم کہاں سے آئے گی، قرضے لے کر ہمارا قرض ادا کرتے ہو مانگے تانگے کی رقوم سے زرِ مبادلہ کا بھرم قائم ہے، ٹیکس لگاو¿، ٹیکس وصول کرو اور ہماری قسط ادا کرو، دو سال قبل شنید تھی کہ ہم جلد ہی آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل جائیں گے، ہر سال کی طرح خسارے کا بجٹ، خسارہ پورا کرنے کے لیے تین چار سو ارب کے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس ضروری، سب وزرائے خزانہ آئی ایم ایف کے ذریعہ ہی آتے ہیں اور ماہرین معیشت بن کر ایک ہی فارمولے کے تحت بجٹ بناتے ہیں اور اصلاحات کرتے ہیں ”تاجروں پر فکسڈ ٹیکس لگے گا تو وہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر کسر نکال لیں گے“ 28 ویں ترمیم کا شور حکومت خاموش جب لانی ہو گی لے آئیں گے، صدر زرداری صاحب حکومت کا حصہ ہیں، حصہ رہیں گے، پی ٹی آئی اپنی نہیں تو پی پی کی دوست کیسے بنے گی، 18 ویں ترمیم پر شور، اسلام آباد والوں کو گلہ سارا خزانہ صوبے لے گئے ہم صرف تقریریں کرنے کے لیے ہیں، حصہ کم کرنے کی بات کرو تو صوبے کلہاڑیاں لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں، فکر کی ضرورت نہیں حکومت ماشاءاللہ مستحکم ہے، جو کرناہو گا پلک جھپکتے ہو جائے گا۔

ٹیگز: