(گزشتہ سے پیوستہ )
قبل ازیں کتاب ’’جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے‘‘کے بارے میں مصنف ڈاکٹر فاروق عادل اور اُن کے ساتھ مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر اظہر مسعود صاحب کی کتاب میں چھپی تحریروں کے حوالے دئیے جا چکے ہیں۔ یہ حوالے دینا اس لیے ضروری تھا کہ ان کے بغیر بات نہیں بن سکتی تھی۔ اب کتاب میں چند ایک مضامین کے بارے میں اپنے خیالات اور تاثرات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ ’’فقیر ایپی ‘‘کتاب کا پہلا مضمون ہے۔ پچھلی صدی کی ساٹھ کے عشرے میں جب میں نے تعلیم کے ساتھ عملی زندگی کا آغاز کیا توکچھ اس طرح کی خبریں پڑھنے سُننے میں آئیں کہ افغانستان کی حکومت کی مدد سے شمال مغربی سرحدی صوبہ ( موجودہ خیبر پختونخوا) میں پشتو بولنے والے علاقوں پر مشتمل ایک الگ آزادملک پختونستان بنانے کی تحریک چلائی جا رہی ہے جس کی سرحدیںاٹک سے ملحق دریائے سندھ تک پھیلی ہونگی۔ اس تحریک کوچلانے میں سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اور اُن کے خانوادے اور کچھ دوسرے لوگوں جن میں ایک قبائلی رہنما فقیر ایپی کا نام بھی شامل تھا لیے جا رہے تھے۔ اس طرح فقیر ایپی کا نام اُس وقت سے میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود چلا آ رہا ہے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے جانے کے لیے کئی بار H-11 سیکٹر سے گزرنے کا اتفاق ہوتا رہا ہے تو وہاں ایک رابطہ سڑک پر فقیر ایپی روڈ کا بورڈ نصب ہے۔ ذہن میں یہ سوال اُبھرتا رہا کہ فقیر ایپی پاکستان سے الگ آزاد مملکت پختونستان کے قیام کے لیے سرگرم رہا ہے تو اس طرح وہ پاکستان کا مخالف ٹھہرا اب اُس کے نام پر ایک سڑک کا نام رکھنا کچھ مناسب نہیں معلوم نہیں ہوتا تھا ۔اب کتاب میں ڈاکٹر فاروق عادل کا فقیر ایپی کے عنوان سے مضمون جو صفحہ 11سے 20 تک دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے اس کو پڑھ کر نہ صرف فقیر ایپی کے بارے میں تفصیلات معلوم ہوئیں بلکہ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ اُس کے نام پر سڑک کا نام کیوں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کے مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ فقیر ایپی ایک افسانوی ہی نہیں بلکہ زندہ کردار تھا جس کا نام حاجی مرزا علی خان تھا اور جس کا تعلق شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے اتمان زئی کی ایک شاخ بنگال خیل سے تھا۔ حاجی مرزا علی خان دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بنوں اور رزمک کے درمیان ایپی کے مقام پر مسجد کے پیش امام بنے۔ اس طرح وہ فقیر ایپی کے نام سے مشہور ہوئے انہیں مزید شہرت اُس وقت کی انگریز حکومت کی مخالفت اور اُس کے خلاف جنگی معرکوں میں حصے لینے سے ملی۔ اس طرح وہ ایک افسانوی کردار کے طور پر ہی مشہور نہ ہوئے بلکہ انہیں اپنے علاقے میں تقدس کا درجہ بھی حاصل ہو گیا اور وہ بتدریج اسلام کے سپاہی اور غیر ملکی قبضے سے قبائلی علاقوں کی آزادی کے پُر عزم اور سب سے بڑے مجاہد کی صورت اختیار کر گئے۔
تقسیمِ ہند سے قبل فقیر ایپی کے افغانستان کی حکومت کے ساتھ روابط استوار ہو چکے تھے ۔ اس دوران سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی سُرخ پوش تحریک سے وابستہ کچھ لوگوں سے بھی اُن کا تعلق قائم ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد افغانستان ، باچا خان کے ساتھیوں اور کانگریس کے بعض نمایاں لوگوں سے اُن کے روابط مزید مستحکم ہوئے جس کی بنا پر نئے ملک پاکستان اور اس کی قیادت کے ساتھ اُن کے تعلقات نہ بن سکے ۔ اس کے برعکس وہ شمال مغربی سرحدی صوبہ اور اس سے ملحق قبائلی علاقوں میں پختونستان کے نام سے ایک آزاد ریاست کے قیام کی راہ پر ہی نہ چل پڑے بلکہ اس کے قیام کا بھی اعلان کردیا۔ اس کی ماسکو، کابل اور دہلی سے خوب تشہیر کی گئی۔ اس دوران اُن کی پنڈت جواہر لال نہرو سمیت بھارتی قیادت کے ساتھ بھی خط و کتابت شروع ہو گئی۔
ڈاکٹر فاروق عادل لکھتے ہیں کہ فقیر ایپی ایک طرف پختونستان کے استحکام کے لیے بھارت اور افغانستان سے اُمیدیں وابستہ کیے بیٹھے تھے ، دوسری طرف زمینی حقائق بدل چکے تھے اور لوگ ماضی کی طرح ماورائی قوتیں رکھنے والے ایپی فقیر کی عظمت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ پھر پاکستان کی حدود کے اندر ایک اور ریاست کے قیام کی باغیانہ کوشش کے خلاف حکومتِ پاکستان کی طرف سے طاقت کے استعمال اور بھارت اور افغانستان کے طرزِ عمل نے ایپی فقیر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اور وہ بتدریج آزاد مملکت پختونستان کے دعوے سے دستبردار ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے قبائلی علاقے میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو ہدایت کی کہ افغان حکومت اگر آئندہ میرے نام پر پاکستان کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے تو اس سے کبھی تعاون نہ کیا جائے۔ اپریل 1960 ء میں فقیر ایپی کا انتقال ہوا اور وہ تحصیل دتہ خیل میں دفن ہوئے جہاں اُن کے عقیدت مند اُن کے مزار پر اب بھی حاضری دیتے ہیں۔ فقیر ایپی یا اپپی فقیر کا تبصرہ کچھ طویل ہوگیا لیکن یہ اس لیے ضروری تھا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد افغانستان اور بھارت کیسے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے لگے اور یہاں علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی میں مصروف ہو گئے۔
’’ریاست کا قبولِ اسلام ‘‘کتاب کا ایک اورمضمون ہے جو صفحہ 27 سے صفحہ 34 (8 صفحات ) پر پھیلا ہوا ہے اس میں مارچ 1949 ء میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قراردادِ مقاصد کو پیش کرنے کی ضرورت اس کے اہم نکات ، اس پر ہونے والی بحث اور اس کی منظوری کو پورے سیاق و سباق اور پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے سرکاری ریکارڈ میں ایک دستاویز ایسی بھی موجود ہے جسے مذہبی تقدس کا درجہ حاصل ہے ، اسے قراردادِ مقاصد کہتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949 ء کو یہ قرارداد منظور کی تو ایک تبصرہ (جسے غلط یا صحیح جماعتِ اسلامی کے بانی امیر سید ابو الاعلیٰ مودودی سے منسوب کیا جاتا ہے)اس طرح زبانِ زدِ عام ہوا ،’’ریاست کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی ، اس کی اطاعت اب فرضِ عین ہے ‘‘۔ قراردادِ مقاصد کی منظور ی ریاست کے مسلمان ہونے سے تعبیر کرنا کس حد تک درست ہے اس کاتفصیلی جائزہ لینے کی یہاں گنجائش نہیں تاہم قراردادِ مقاصد کے نکات اور اس کی منظوری کے وقت دستور ساز اسمبلی میں ہونے والے بحث مباحثے کوسامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اس قرارداد کی منظور ی کے بعد ریاست پاکستان کا بطور اسلامی مملکت تشخص مستحکم ہوا۔اس قرارداد کو یہ اہمیت بھی حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان سے 1973 ء تک ملک میں تین دساتیر کا نفاذ ہوا۔ قراردادِ مقاصد کا امتیاز یہ ہے کہ یہ دستاویز ہر دستور کا حصہ بنی 1985ء معروف آٹھویں ترمیم کے بعد یہ قرارداد دستور کا قابلِ نفاذ حصہ بن گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ دستور کے دیباچے کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ یہاں اس امر کا اظہار کرنا غلط نہیں ہو گا کہ قراردادِ مقاصد کے دستور کے قابلِ نفاذ حصہ ہونے کے باوجود پاکستان میں کئی طبقات ایسے ہیں جو اس قرارداد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہی نہیں بلکہ اُن کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ محترم وجاہت مسعود بھی ایک اسی طرح کی شخصیت ہیں جنہوں نے ایک قومی معاصر میں اس قرارداد کی مخالفت میں کئی مضامین لکھ رکھے ہیں۔
سچی بات ہے ڈاکٹر فاروق عادل کی اس تصنیف میں مختلف عنوانات کے تحت دئیے گئے تمام ہی مضامین میرے لیے خصوصی دلچسپی کے حامل ہیں ۔ ان میں سے بعض کو پڑھ کر بلا شبہ میرے ذہن میں ان موضوعات کے بارے میں پہلے سے موجود کچھ پڑھی، سُنی اور لکھی آدھی ادھوری معلومات میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ ان کے بارے میں جو میرے کچھ ذاتی مشاہدات ہیں اُن کو بھی تازگی ملی ہے۔ کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ مضامین کے عنوانات لکھ کر اُن کے بارے میں توضیح و تشریح کی جائے۔ اس ضمن میں میں چند ایک مضامین کے عنوانات لکھنا چاہوں گا کہ جن کے بارے میں کچھ مزید خیال آرائی کرنا چاہتا تھا۔ ان میں’’ سوشلزم جب کفر ٹھہرا‘‘، ’’الف لیلوی نواب ‘‘، ’’اگر تلہ کیس : سازش یا افسانہ‘‘، ’’وہ ایٹمی چھکا‘‘ اور ’’جنرل مشرف کا بُلبلہ‘‘ وغیرہ مضامین شامل ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر فاروق عادل کے اندازِ تحریر کے بارے میں ایک دو جملے ضرور لکھنا چاہوں گا بلا شبہ ان مضامین میں بیان کیے گئے حالات و واقعات اور حقائق کی چھان بین اورعوام الناس میں پائے جانے والے غلط تاثرات کو دور کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق عادل نے جس محنت ، مشقت ، تحقیق و تفتیش ، جاں سوزی اور پُر سوزی سے کام لیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ پھر اُن کی تحریر کاانداز بھی اتنا رواں دواں، شگفتہ ، دلفریب اور پُر کشش ہے کہ قاری پڑھنے سے اُکتاتا نہیں ۔ بہت خوب ، ڈاکٹر فاروق عادل صاحب۔