پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کو پرائیویٹ پبلشرز کے ساتھ درسی کتابوں کی چھپائی اور منافع کی شراکت داری کے معاہدوں سے روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا، جس میں عدالت نے حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدوں پر سوالات اٹھائے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس ثابت اللہ پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کی کتابیں چھپانے کے لیے منتخب پبلشرز کو دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ منافع کی شراکت داری کے معاہدے کیے جا رہے ہیں، جو کہ پالیسی کے تحت نہیں ہیں۔ وکیل نے کہا کہ حکومت نے قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر یہ معاہدے کیے، جس کے نتیجے میں درخواست گزار پبلشرز کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔
وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ اس عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور عدالت سے استدعا کی کہ درسی کتابوں کی چھپائی کا عمل شفاف بنایا جائے۔ عدالت نے حکومت کو اس معاہدے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیا اور جمعرات تک جواب طلب کیا۔
عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا۔