Wed, September 16, 2026

پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک اور میگا پراجیکٹ

پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک اور میگا پراجیکٹ

ماضی میں پنجاب کے شہروں میں ترقیاتی سکیمیں ضرور مکمل ہوئیں لیکن ان کا دائرہ اثر محدود تھا۔ کسی حکومت نے ایک شہر میں سڑک بنا دی تو دوسری حکومت نے آکر ایک دو گلیاں بنوا دیں۔ پھر ارکان اسمبلی کی کوششوں سے کہیں سٹریٹ لائٹ لگ گئی اور کہیں سیوریج کا کام ہوگیا۔ یہ سب منصوبے اپنی جگہ افادیت کے حامل ضرور ہوں گے لیکن سچی بات ہے کہ بڑھتی آبادی بالخصوص اربنائزیشن میں اضافے کی شرح مدنظر رکھتے ہوئے "کچھ بڑا" کرنے کی شدید ضرورت تھی اور یہ کریڈٹ بالآخر پنجاب کی موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے حصے میں آیا جنہوں نے حلف اٹھاتے ہی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کے ذمے 200 شہروں کے لئے جامع پلاننگ کا کام لگایا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چاہتی ہیں کہ طویل مدتی پالیسی اپناتے ہوئے اگلے پچیس سال تک ممکنہ آبادی کے لئے سیوریج، گلیاں پختہ کرنے یا سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پارک، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور اربن فلڈنگ کی روک تھام کی سکیموں کی منصوبہ بندی کی جائے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی)ایسا ہی ایک منصوبہ ہے جس پر کام کا افتتاح وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے وزیرِاعلیٰ مریم نواز کی نمائندگی کرتے ہوئے ضلع وہاڑی کے شہر بوریوالہ سے کر دیا ہے۔پنجاب ترقیاتی پروگرام کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں، ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ احمر سہیل کیفی، ارکان اسمبلی سید ساجد مہدی، سلیم شاہ، چودھری محمد یوسف کسیلیہ، میاں ثاقب خورشید، ڈپٹی کمشنر وہاڑی خالد جاوید گورائیہ، ڈپٹی کمشنر خانیوال ملیحہ رشید اور ڈپٹی کمشنر لودھراں محمد اشرف بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب میں وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پی ڈی پی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت پہلے مرحلے میں 52 شہروں میں بہترین میونسپل سروسز کی فراہمی اور پائیدار ترقی کیلئے انقلابی اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے بہترین میونسپل سروسز کی فراہمی کیلئے 300 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب ترقیاتی پروگرام ایک تاریخی نوعیت کا پراجیکٹ ہے جو بہترین پلاننگ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل شہروں میں کبھی اس طرح کی پلاننگ نہیں کی گئی۔ مستقبل کے مسائل کو مدنظر رکھ کر اس ڈیزائن کو تیار کیا گیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پی ڈی پی کے تحت پورے شہر کے تمام بنیادی مسائل حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ نے ہمارے سرکاری اداروں کی سوچ بدل دی ہے۔ اب محکمے ڈنگ ٹپائو کلچر اپنانے کی بجائے دیرپا ترقی کے وزیراعلیٰ کے ویژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پی ڈی پی کے تحت جامع سیوریج سسٹم، سولرائزڈ ڈسپوزل سٹیشنز، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور بارانی پانی کی نکاسی کیلئے موثر نظام بنایا جارہا ہے۔ اس پروگرام کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ہر شہر میں بارانی پانی کے ذخیرے کے لئے انڈر گرائونڈ ٹینک بنائے جائیں گے۔ پہلی بار جدید لائننگ والے پائپوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے سیوریج لائن کی میعاد 25 سے بڑھ کر 100سال ہو جاتی ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ہم ہر شہر کی ماسٹر پلاننگ کر کے چل رہے ہیں۔ اس ماسٹر پلاننگ میں 2050 تک کی آبادی کو سامنے رکھ کر پروگرام ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اپنے والد میاں نواز شریف کے مشن "سیاست برائے خدمت" کو لے کر چل رہی ہیں۔ اسی پروگرام کے تحت سیوریج کے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد زرعی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 78 سال کے بعد پنجاب کو ایسی وزیراعلیٰ ملی ہے کہ جس نے وہ کام شروع کئے جو پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ اب پوری دنیا پنجاب کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پوری دنیا میں ستھرا پنجاب پروگرام کو سراہا جارہا ہے۔ پہلے کبھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ دیہات میں اور چھوٹے شہروں میں بھی ایسی صفائی کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے باقی صوبوں کے عوام بھی خواہش کر رہے ہیں کہ کاش ان کے وزرائے اعلیٰ بھی ایسے ہوں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں پرخصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ مرحلہ وار شہروں میں جدید انفراسٹرکچر، نکاسی آب اور ماحولیاتی بہتری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام عوام کے معیارِ زندگی میں عملی اور دیرپا بہتری لانے کا جامع منصوبہ ہے۔ سیور 3497 کلومیٹر، سٹارم واٹر ڈرینز 181 کلومیٹر تعمیر اور 2612 کلومیٹر فٹ پاتھ بنائے جائیں گے۔  56 نئے ڈسپوزل سٹیشنز تعمیر ہوں گے جبکہ 61 موجودہ ڈسپوزل سٹیشنز کی بحالی کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 52 میں سے 10 شہروں میں ترقیاتی سکیمیں شروع ہوں گی۔ ان دس شہروں پر 54 ارب خرچ ہونگے۔ اس کے لئے پنجاب حکومت نے 7.5 ارب کی ابتدائی گرانٹ جاری کردی ہے۔ زیادہ خراب انفراسٹرکچر والے شہر اٹک، لالہ موسی، لیہ، میلسی، علی پور چٹھہ ابتدائی مرحلے میں شامل ہیں۔ اس طرح خانیوال، بوریوالہ، جڑانوالہ، وہاڑی اور سلانوالی شہر میں بھی سب سے پہلے کام ہوگا۔ پنجاب میں تمام ڈسپوزل سٹیشنز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ یوں 21 ہزار کلوواٹ بجلی پیدا کر کے کروڑوں روپے کے ماہانہ بل کی بچت کی جائے گی۔ ڈسپوزل سٹیشنز کی صلاحیت 2114 کیوسک تک بڑھنے سے اربن فلڈنگ کے خطرات بھی کم ہونگے۔ منصوبے کے تحت انڈرگرائونڈ واٹر ٹینک تعمیر کئے جائیں گے جس کے باعث برساتی پانی ضائع کرنے کی بجائے جمع کیا جائے گا۔ترقی کا یہ عمل صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے مثالی گائوں پروگرام کے تحت پنجاب کی دس ڈویژن کے 469 دیہات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق دیہات میں جدید سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ اس پروگرام کے تحت سرگودھا ڈویژن کے 38، ساہیوال 44 اور گوجرانوالہ کے 55 گائوں مثالی بنیں گے۔ اسی طرح گجرات کے 47، ملتان 62 اور ڈی جی خان کے 39 دیہات پہلے مرحلے میں شامل کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے شیخوپورہ کے 47 اور راولپنڈی ڈویژن کے 56 دیہات کا انتخاب کیا ہے۔ بہاولپور ڈویژن کے 47 جبکہ فیصل آباد کے 34 دیہات میں جدید سہولیات مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی(پی آر ایم ایس سی)نے 336 دیہات کے لئے ٹینڈرز جاری کر دئیے ہیں۔ پروگرام کے تحت 114 دیہات کے لئے ورک بھی ایوارڈ کیا جا چکا ہے۔ متعلقہ علاقوں میں انجینئرز اور سب انجینئرز کا تقرر کر دیا گیا۔ مثالی گائوں پروگرام کے تحت دیہات میں واٹر سپلائی، سیوریج سسٹم بچھانے اور گلیاں پختہ کرنے کی سکیمیں شروع ہونگی۔ اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر مثالی گائوں میں روایتی چھپڑ کو بحال کیا جائے گا جس کے ماحول پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ ہر گائوں میں پارک بھی بنایا جائے گا۔ گلیوں میں خوشنما رنگوں والی ٹائلز کا استعمال ہوگا۔صوبائی وزیر بلدیات نے پی آر ایم ایس سی کو اچھے ڈیزائن والی ٹائلز لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے زور دیا کہ دیہات کی گلیوں کو لاہور کی طرز پر پختہ بنایا جائے گا۔ ان شاء اللہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد کسی بھی مثالی گائوں میں کوئی گلی کچی نہیں رہے گی۔چلتے چلتے ستھرا پنجاب پروگرام کا ذکر کرتا چلوں جو صفائی کا دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے جس کے تحت صوبے بھر کے ہر گائوں اور شہر میں صفائی کا یکساں نیٹ ورک مہیا کیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں ایک لاکھ چالیس ہزار 413 ورکر اور 2418 انتظامی افسر کام کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کے بیڑے fleet کی تعداد 29 ہزار 131، آلات و مشینری کی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار 751 ہے۔چوالیس ہزار ویسٹ انکلوژرز اور 409 عارضی کولیکشن پوائنٹس (ٹی سی پی) اور 143 لینڈ فل سائٹس ہیں۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے آغاز سے اب تک صوبہ بھر میں ایک کروڑ ٹن سے زائد ویسٹ ٹھکانے لگایا جا چکا ہے۔ صفائی کے اہداف کے حصول کے بعد اگلے مرحلے میں ویسٹ ٹو انرجی پر کام کیا جا رہا ہے۔ لاہور کے قریب لکھوڈیر لینڈ فل سائٹ میں بائیوگیس کا پائلٹ پراجیکٹ شروع ہو گیا ہے جبکہ سندر انڈسٹریل سٹیٹ لاہور میں 150 میگاواٹ کا پاور پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔ اس کے لئے متعدد غیرملکی کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ان سب اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت پنجاب میں مریم نواز حکومت کس طرح منظم پلاننگ کے تحت عوام کی بہتری اور آسانی کے منصوبے مکمل کر رہی ہے۔ کسی بھی منصوبے کے لئے کبھی فنڈز کی کمی نہیں ہونے دی جا رہی۔ وزیراعلیٰ خود بھی دن رات پالیسی سازی میں مصروف رہتی ہیں اور اپنی کابینہ کے ارکان کو بھی مسلسل متحرک رکھتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج گھروں سے باہر نکلیں تو کہیں کوڑے کے ڈھیر دکھائی نہیں دیتے۔ بارش ہو تو پانی کی نکاسی چند منٹوں میں ہوجاتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں پبلک ڈیلنگ نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام، ستھرا پنجاب، مثالی گائوں جیسے منصوبے گواہ ہیں کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اپنے والد محترم میاں محمد نواز شریف کی سوچ آگے لے کر بڑھ رہی ہیں۔ ہر نیا دن پنجاب کے عوام کی بہتری کا پیام لے کر آتا ہے۔ ان شاء اللہ پی ڈی پی شہریوں کے لئے طویل المدت ریلیف کا باعث بنے گا۔

ٹیگز: