سینئر صحافی ارشاد بھٹی کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں انجینئر محمد علی مرزا نے عمران خان کی قید تنہائی کے متعلق تحریک انصاف کے دعوئوں کی جس طرح انجینئرنگ کی ہے تو اس کے بعد تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’’ ہائے تیری قید تنہائیاں اور دیسی گھی میں بنی ککڑ کڑائیاں ‘‘ ۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے جب بھی سختی کی جاتی ہے تو تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کہانیاں وائرل ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ان کہانیوں کو وائرل کرنے کے ایک سے زائد مقاصد ہوتے ہیں ۔ پہلا تو ظاہر ہے کہ حکومت پر ملاقات کے لئے دبائو ڈالنا ہوتا ہے ۔ دوسرا عوامی جذبات کو ابھارنا تاکہ لوگ بانی پی ٹی آئی کی حالت زار پر اشتعال میں آ کر سڑکوں پر نکل آئیں لیکن یہ تو اس وقت ممکن ہوتا کہ اگر بانی کی عوام میں واقعی اتنی مقبولیت ہوتی کہ جتنی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر بیان کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ عوام نے کبھی ان کہانیوں پر توجہ نہیں دی ۔ عوامی مزاج کو دیکھتے ہوئے یہاں تک کہا گیا کہ حکومت بانی سے اس لئے ملاقات نہیں کرا رہی کیونکہ خدا نخواستہ جیل میں ان کی موت ہو گئی ہے ۔ اس انتہائی منفی پروپیگنڈا کو پہلے افغانسنان اور پھر انڈین میڈیا سے وائرل کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی عوامی سطح پر کوئی رد عمل دیکھنے کو نہیں ملا ۔ تیسرا مقصد بین الاقوامی سطح پر اس بات کو باور کرانا ہوتا ہے کہ جیل میں حکومت کی جانب سے عمران خان پر بہت زیادہ ظلم ہو رہا ہے ۔ اس مقصد میں تحریک انصاف کو بہت زیادہ تو نہیں لیکن کچھ حد تک کامیابی ملتی ہے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے امریکن کانگریس اور دیگر ممالک کی پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے عمران خان کے حق میں بیانات کا آنا شامل ہے لیکن بعد میں جب انھیں حقیقت حال کا علم ہوا تو اس کے بعد ان کی جانب سے بھی بیانات آنا بند ہو گئے ۔ ابھی حال ہی میں جو ٹرسٹ کی رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسداد تشدد نے بھی عمران خان کی حراست کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، جن میں محدود رابطے کے ساتھ طویل مدت تک قید رکھنا شامل ہے لیکن آگے بڑھنے سے پہلے قید تنہائی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر70/175(جسے نیلسن منڈیلا رولز بھی کہا جاتا ہے ) کے Rull 44کے مطابق قید تنہائی کی تعریف ہے کہ ’’ تنہائی میں قید سے مراد کسی قیدی کو دن میں 22گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت کے لئے با معنی انسانی رابطے کے بغیر قید رکھا جائے ‘‘ ۔
کہانیاں کرانے میں تو تحریک انصاف اور اس کا سوشل میڈیا اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت بانی کو جیل قوانین سے ہٹ کر بھی جو سہولتیں دے رہی ہے اس کے باوجود بھی وہ سوشل میڈیا پر جھوٹی پڑ جاتی ہے اور جھوٹ کا پرچار کرنے والے سچے ہو جاتے ہیں لیکن جھوٹ آخر جھوٹ ہوتا ہے اس کا بھانڈا تو ایک دن بیچ چوراہے میں پھوٹنا ہی ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوا اور سچ سامنے لانے کا جو ذریعہ بنے وہ کوئی حکومت کے حامی نہیں بلکہ عمران کے چاہنے والے سینئر صحافی ارشاد بھٹی صاحب ہیں۔ مشہور مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا گذشتہ دنوں 101دن کی قید کے بعد رہا ہوئے تو ارشاد بھٹی صاحب ان کا انٹرویو لینے پہنچ گئے ۔ اب اتفاق دیکھیں کہ جیل میں عمران خان ان کے پڑوسی تھے ۔ جس بیرک میں مرزا صاحب کو رکھا گیا تھا اس کے ساتھ والی بیرک نہیں بلکہ بیرکس میں عمران خان کو رکھا گیا تھا ۔ اس انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ خان صاحب کے حوالے سے قید تنہائی والی بات تو سرے سے غلط ہے انھیں ایک دو نہیں بلکہ 6عدد بیرکس کی کشادہ جگہ ملی ہوئی ہے ۔ 50x20فٹ کا احاطہ چہل قدمی کے لئے ہے ۔ ورزش کی سہولیات الگ ہیں جبکہ روزانہ دو اخبار اور ٹی وی بھی ملا ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ خدمت کے لئے ایک مشقتی بھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بیچ میں دیوار تھی لہٰذا وہ دیکھ تو نہیں سکتے تھے لیکن جب عمران خان کا کھانا پکتا تھا تو دیسی گھی کی خوشبو سے پتا چل جاتا تھا کہ کھانا دیسی گھی میں پک رہا ہے اور جیل کے عملہ سے گفتگو کے ذریعے یہ بھی پتا چل گیا کہ ککڑ کڑائیاں فارمی مرغی کی نہیں بلکہ دیسی مرغی کی بنتی ہیں ۔ اسے کہتے ہیں کہ ’’ چوپڑیاں تے نالے دو دو ‘‘ ۔
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ۔ ارشاد بھٹی تحریک انصاف کے بندے تصور کئے جاتے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر ڈٹ کر عمران خان کی وکالت کرتے ہیں اور اب انہی کی زبانی جیل میں بانی کی ’’ قید تنہائی ‘‘ کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ بانی کو جیل میں جو سہولتیں ملی ہوئی ہیں ان کی تفصیل پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی یہ تمام حقائق ایک سے زائد بار اس سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ میڈیا میں آ چکے ہیں اور ان کی تفصیل جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالت میں جمع بھی کرائی جا چکی ہے لیکن جب بھی یہ حقائق منظر عام پر آتے ہیں تو چند دن تو خاموشی رہتی ہے لیکن اس کے بعد جھوٹ کی فیکٹریوں سے پھر وہی منفی پروپیگنڈا کا بازار گرم کر دیا جاتالیکن اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ بانی کو جیل میں کتنی زیادہ سہولتیں مل رہی ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو اتنی زیادہ سہولتیں کس کی اجازت اور کس قانون کے تحت مل رہی ہیں ۔