بگرام کا فوجی اڈہ راتوں رات اس انداز میں خالی کیا گیا تھا کہ جب اسے خالی کرنے کی تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اس کی تمام روشنیاں گل کر دی گئیں، یوں سب لوگ اندھیرے میں منہ چھپاتے وہاں سے بھاگے۔ اب پھر بگرام کی محبت امریکہ کے دل میں جاگ اٹھی ہے، وہاں تک کیسے پہنچا جائے گا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ان بہانوں کو ہم چشم تصور سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک افغان کی طرف سے دو امریکی گارڈز کو نشانہ بنانے کی کہانی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ مکمل پلان کو سمجھنے کے لئے ذرا پرل ہاربر چلتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک کے حصے بخرے کرنے ان کے وسائل لوٹنے کا پروگرام بعض ملکوں کے درمیان کہیں اور بن چکا تھا۔ اس زمانے میں جاپانی بحریہ انتہائی طاقتور تھی لہٰذا سب سے پہلے جاپان کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ جاپانی اس ناکے کی اہمیت کو سمجھتے تھے لہٰذا انہوں نے اسے توڑنے کا فیصلہ کیا اور جزیرہ ہوائی پرل ہاربر میں بہت بڑے امریکی بحری بیڑے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا، اسے ’’آپریشن زیڈ‘‘کا نام دیا گیا۔ تین سو ترپن ہوائی جہازوں نے حملے میں حصہ لیا۔ آٹھ بحری جہاز مکمل تباہ کر دیئے گئے، 9کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ اس حملے میں 2403 امریکی فوجی ہلاک کر دیئے گئے جبکہ 68 سویلین بھی ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں 188 ہوائی جہاز تباہ ہوئے۔ اس معرکے کا نتیجہ امریکہ کے حق میں نکل رہا تھا لیکن صورتحال کو بھانپتے ہوئے جاپانیوں نے وہ کام کر دکھایا جس کا امریکی تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔ جاپانیوں نے جس طرح اپنی جانوں پر کھیل کر امریکی جہازوں کو تباہ کیا، وہ جرأت و بہادری کی ایسی مثال ہے جو بعدازاں کسی جنگ میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ درجنوں جاپانی فوجیوں نے اپنے جسموں سے بم باندھے انہیں امریکی بحری جہازوں کے عین اوپر اتارا گیا۔ وہ ان جہازوں کی چمنیوں میں گھس گئے اور انہوں نے اپنے آپ کو اڑا لیایوں ایک روز میں امریکی بحری کو وہ مہلک گھائو لگا جس نے ان کے ہوش اڑا دیئے۔ یہ واقعہ 7 دسمبر 1941ء کو رونما ہوا جس کے بعد باقاعدہ دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی اور امریکہ نے 6اگست اور 9اگست 1945ء کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم گرائے۔ جرمنی، جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ امریکہ نے 1945ء میں لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئے آج اکیاسی برس بیت چکے ہیں لیکن نیوکلیئر اثرات کے سبب آج بھی جاپان میں جو بچہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی نہ کوئی جسمانی نقص موجود ہوتا ہے۔ جاپانی آج بھی امریکہ اور امریکیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں لیکن چوکوں، چوراہوں، چائے خانوں پر اس کے خلاف بات نہیں کرتے۔
آئیے اب چلتے ہیں امریکہ جہاں افغانستان پر قبضے کا پروگرام فائنل ہو چکا تھا۔ دہشت گردی اور اس کے خطرات پر دنیا بھر کے میڈیا کو رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے انتظامات مکمل کئے جا چکے تھے۔ امریکی اعلیٰ سیاسی حلقوں اور منصوبہ سازوں کی محفلوں میں ایک ہی فقرہ گردش کر رہا تھا کہ ہمیں اس وقت ایک ’’پرل ہاربر‘‘ کی ضرورت ہے پھر ’’ٹوین ٹاور‘‘ ڈرامے کا منصوبہ تیار کر کے اس پر عمل درآمد کر دیا گیا جس میں کوئی افغان نہ تھا لیکن کہانی یہی گھڑی گئی کہ اس میں اسامہ بن لادن اور افغان شامل تھے۔ نئے ’’پرل ہاربر‘‘ کا واقعہ جس روز پیش آیا اس روز وہاں تزئین و آرائش کے نام پر تعطیل تھی، جتنی ہلاکتیں ہوئیں وہ عمارتوں کے گرنے سے ہوئیں۔ عمارتوں سے جہاز ٹکرانے کا منظر فلم بند کرنے کے موثر انتظامات قبل از وقت کئے گئے۔ جہاز ٹکرانے سے اتنی مضبوط عمارتیں نہ گر سکتی تھیں۔ انہیں زمین بوس کرنے کے لئے ان کی بیسمنٹ میں بارود بھرا گیا یوں عمارتیں اوپر سے نیچے زمین میں دھنستی نظر آئیں۔
چند برس قبل عالم اسلام اور امریکہ کا مشترکہ ہیرو اسامہ بن لادن بڑا مجرم قرار پایا اور افغانستان کے خلاف امریکہ کی قیادت میں نیٹو فورسز خم ٹھونک کر میدان میں آگئیں پھر تاریخ نے وہ منظر دیکھا جس اسامہ بن لادن کیلئے واشنگٹن میں سرخ قالین بچھائے گئے اور اس کے استقبال کیلئے امریکی صدر اوول آفس کے دروازے پر اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا تھا وہی امریکی صدر اسے دنیا کا بڑا دہشت گرد قرار دے رہا تھا۔
نائن الیون جیسا ایک جھوٹ اس سے قبل بھی گھڑا گیا تھا، جب نیٹو کے اہم ترین ممبر ملک اور امریکہ کے بغل بچے نے دنیا کو ایک بریکنگ نیوز دی کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ وہ کسی بھی وقت امریکہ اور یورپ کو تباہ کر سکتا ہے لہٰذا اس کی سرکوبی ضروری ہے۔ یہ اطلاع برطانیہ نے دنیا کو پہنچائی اور عراق پر حملے کا جھوٹا اور مکروہ جواز تراشا، عراق کی تباہی کے کئی برس بعد امریکی حکومت نے تسلیم کیا کہ عراق کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاع غلط تھی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ سراسر جھوٹ تھا، جسے بنیاد بنا کر ہزاروں افراد اور ایک ہنستے بستے مسلمان ملک کو تاراج کر کے اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا گیا۔ تمام دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں گونگی ہو گئیں، تمام عالمی عدالتیں اندھی ہو گئیں، جن کے ضمیر صبح شام انسانی حقوق کے لئے چیخ و پکار کرتے نظر آتے تھے۔ سب کے سب پرسکون نیند سو گئے۔
امریکہ میں چند روز قبل دو امریکیوں پر ایک افغان کی طر ف سے حملہ افغانستان پر حملے کا جواز فراہم نہیں کرتا لیکن یہ اسی منصوبے کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ ابھی تو دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ افغانستان آج بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا بیس برس قبل تھا۔ وہاں دہشتگردوں کے مسکن ہیں، وہاں کی حکومت کے پاس انہیں ختم کرنے کی استعداد نہیں ہے، انہیں ختم کئے بغیر دنیا میں امن نہیں ہو سکتا اور یہ نیک کام امریکہ ہی کر سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے بگرام کا فوجی اڈہ امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر دنیا کے امن پر نظر رکھ سکے اور اپنی مرضی کے اقدامات کر سکے۔
امریکی فوجیوں، گارڈز پر حملہ کرنے والا کہنے کو تو افغان ہے لیکن وہ مستند طورپر سی آئی اے کا اپنا آدمی ہے، ان کا تنخواہ دار ہے، ان کے مفادات کے لئے افغانستان میں کام کرتا رہا ہے اور ان لاکھوں افراد میں شامل ہے جنہیں امریکہ نے افغانستان سے بھاگتے ہوئے خاص انتظامات کے تحت وہاں سے نکالا، انہیں امریکہ کی شہریت فراہم کی، انہیں امریکہ میں بسانے کے بعد نوکریاں فراہم کیں۔ امریکہ جب غیر ملکیوں کو یہ تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے تو آنکھیں بند کر کے یہ سب کچھ نہیں کرتا، ان کی سخت سکروٹنی کی جاتی ہے۔ امریکی نظام اس اعتبار سے فول پروف ہے، پس کسی بھی ناپسندیدہ شخصیت کا اس نظام کا پرزہ بن جانا ناممکنات میں ہے۔
امریکیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اس ڈرامے کی مزید کتنی اقساط آتی ہیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن دنیا بھر میں مختلف محاذوں پر پے در پے ناکامیوں کے بعد اور بگرام کا فوجی اڈہ حاصل کرنے کیلئے امریکہ ایک ’’پرل ہاربر‘‘ کی تلاش میں ہے جو ملک جو طاقتیں اس کی معاون بنی ہیں انہیں سب کچھ کرنے سے قبل کچھ سوچنا چاہئے وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔