Wed, September 16, 2026

بلوچ ریاستوں کا انضمام ۔۔۔!

بلوچ ریاستوں کا انضمام ۔۔۔!

بلوچستان جو ہمارے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے ساتھ بی ایل اے جیسے مسلح باغی گروپوں کی طرف سے پُر تشدد اور قتل و غارت گری پر مبنی کاروائیاں روز مرہ کا معمول بنی ہوئی ہیں۔ ان حالات میں بلوچستان کے معاملات و مسائل کو سمجھنے کےلئے کچھ تاریخی حالات و واقعات کا تذکرہ جن سے پتہ چلے کہ بلوچستان میں نفرت انگیز جذبات اور علیحدگی پسندانہ خیالات کی ابتداءکیسے ہوئی اور کیسے پروان چڑھی کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔ اس ضمن میں معروف مصنف، مورخ، محقق اور تجزیہ نگار محترم ڈاکٹر فاروق عادل کی پاکستان کی تاریخ کے گم شُدہ گوشوں پر مبنی تصنیف ” جب مورّخ کے ہاتھ بندھے تھے“ کے مضمون ”بلوچ ریاستوں کا انضمام“ کو سامنے رکھ کر کچھ حالات و واقعات کو بیان کیا جاتا ہے۔ ان سے ہمیں بلوچستان کے معاملات و مسائل کو سمجھنے میں یقینا مدد مل سکتی ہے۔
”بلوچ ریاستوںکا انضمام“ کے عنوان سے مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے وقت انگریزوں کے زیرِ انتظام علاقوں کے علاوہ بلوچستان میں قلات ، خاران، مکران اور لسبیلہ چار بڑی ریاستیں تھیں۔ قلات ان میں سب سے بڑی تھی اور خان آف قلات میراحمد یار خان بلوچستان کی ان ریاستوں کی یونین کے صدر تھے۔ 3 جون 1947 ءکے تقسیمِ ہند کے فارمولے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ پورے ہندوستان میں ریاستیں جنہیں دیسی ریاستیں کہا جاتا تھا اور جن کی تعداد 560 کے لگ بھگ تھی وہ آزادمملکتوں پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کےساتھ الحاق کر سکیں گی اور اس کے لیے انہیں اپنے محلِ وقوع اور اپنی آبادی یا اپنی عوام کے جذبات واحساسات کا خیال رکھتے ہوئے الحاق کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ 
ڈاکٹر فاروق عادل کا بلوچ ریاستوں کے پاکستان میں انضمام کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی ابتدا دو رشتہ داروں کی لڑائی سے ہوئی۔ جس میں پہلے خطے کی طاقتیں کودیں اور اس کے بعد عالمی طاقتیں بھی متحرک ہوگئیں۔ وہ بلوچستان کی تاریخ کے ماہر اور ممتاز قانون دان ڈاکٹر صلاح الدین مینگل کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ کیچ مکران کے حکمران نواب آف کچکی نواب بائیان جو خان آف قلات کے رشتہ دار تھے چاہتے تھے کہ خان کچھ مہربانی کریں ، کچھی کے علاقے کی زرعی زمینیں ان کے سپرد کر دیں تاکہ ان کی ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے لیکن خان آف قلات میر احمد یار خان نے اُن کا یہ مطالبہ اس بنا پر مسترد کر دیا کہ یہ زمینیں قبائل کی ہیں اور وہ انہیں کسی دوسرے کی ملکیت میں دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس پر والیِ مکران نواب بائیان خان آف قلات سے ناراض ہی نہ ہوگئے بلکہ خان آف قلات کے خلاف اُن کی سرگرمیوں کا طویل سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔ ڈاکٹر فاروق عادل نواب بائیان کی سرگرمیوں کی تفصیل بیان کرنے کےلئے مورخ ڈاکٹر حمید بلوچ کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کا سراغ ایک خط سے ملتا ہے جو مسقط میں مقیم پولیٹیکل ایجنٹ سر روپرٹ نے بحرین میں تعینات برطانوی ریذیڈینٹ کو ارسال کیا تھا جس میں انکشاف کیا گیا کہ نواب بائیان اور مسقط کے امام (مسقط میں حکمران کو امام کہا جاتا تھا) مقیم گوادر کے درمیان ملاقاتیں ہو رہی ہیں ۔ نواب بائیان اپنے بھائی بیٹے اور دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ گوادر پہنچے تو مسقط کے والی (امام) سعید بن تیمور نے اُن کے اعزاز میں عشائیہ دیا تو اگلے دن گوادر میںمقیم برطانوی ایجنٹ نے اُن کے اعزاز میں چائے پارٹی منعقد کر دی۔
ڈاکٹر فاروق عادل لکھتے ہیں کہ نواب بائیان کو یہاں (گوادر میں) جو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ، اس کی خبروں نے علاقے میں دھوم مچا دی اور کئی طرح کے انکشافات کئے جانے لگے جن کے مطابق نواب بائیان لچکی اور خان آف قلات کے درمیان تعلقات ہی نہیں بگڑ چکے ہیں بلکہ خاران اور لسبیلہ کی ریاستیں جو بلوچستان کی اسٹیٹ یونین کے ماتحت تھیں اب باغی ہو چکی ہیں اور بلوچستان اسٹیٹ یونین کے سربراہ خان آف قلات کی قیادت کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی کہ نواب خاران اور جام لسبیلہ نواب بائیان کے ہمنوا بن کر خان آف قلات پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیں۔ 
ڈاکٹر فاروق عادل ڈاکٹر عنایت اللہ بلوچ کی کتاب ”دی پرابلم آف گریٹر بلوچستان“ کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ یہ اگست 1947 ءکے دن تھے جب حکومتِ پاکستان کے نواب بائیان کے بیٹے عمر کچکی کے ذریعے نواب بائیان سے راوبط استوار ہوئے اور آنے والے دنوں میں ان روابط میں مزید اضافہ ہوا۔ اسی دوران خاران اور لسبیلہ کے حکمران جن کے نواب آف قلات سے پرانے اختلافات تھے وہ نواب آف قلات کے ساتھ اختلافات کے اظہار میں کچھ مزید آگے بڑھ گئے۔ میر گل خان نصیر کی کتاب ”تاریخِ بلوچستان“ کے مطابق اس ضمن میں قلات کے وزیرِ اعظم کا بھی اہم کردار تھا جس نے درخواست مرتب کی تھی۔ 
ڈاکٹر فاروق عادل نے اس مضمون میں اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ خان آف قلات اور بانیِ پاکستان حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کے درمیان تحریکِ آزادی کے زمانے سے جو خوشگوار تعلقات چلے آ رہے تھے قیامِ پاکستان کے بعد مخاصمت میں کیسے بدل گئے ۔ اُن کے خیال میں اس کی ابتدا تقسیمِ ہند کے سلسلے میں سامنے آنےوالے فارمولوں اور برطانیہ سے آنے والی شخصیات کی سرگرمیوں سے ہوئی ورنہ 3 جون 1947 ءکو تقسیمِ ہند کے فارمولے کے سامنے آنے تک بانیِ پاکستان قلات کی آزاد ریاست کے تصور کے حامی ہی نہ تھے بلکہ ریاست قلات کے وہ علاقے جو برطانوی حکومت نے پٹے پر لے کر برٹش بلوچستان میں شامل کر رکھے تھے اُن کی قلات کو واپسی کےلئے بھی آمادہ تھے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر فاروق عادل نے ڈاکٹر حمید بلوچ کا حوالہ دے کر دولتِ مشترکہ کے وزیرِ تعلقات برائے رُکن ممالک کے خط کا ذکر کیا ہے جس میں کراچی میں برطانوی ہائی کمیشن سے کہا گیا تھا کہ اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان ریاست قلات کی آزاد ی کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، اسے اس سے روکا جائے۔ خط میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ خان قلات کا جو علاقہ فارس (ایران) کے ساتھ واقع ہے اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ بین الااقوامی ذمہ داریوں کوکما حقہ ادا کر سکے۔ یہ وہ صورتحال تھی جس میں خان آف قلات اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مخاصمت پید اہوئی اور خان آف قلات نے 15 اگست 1947ءقلات کی آزادی کا اعلان کر دیا جس سے صورتحال مزید بگڑتی گئی ۔اس پر پاکستان نے قلات کے وزیرِ اعظم نواب زادہ محمد اسلم اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈگلس فل جو کراچی میں حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کرنے کےلئے موجود تھے مطالبہ کیا کہ وہ قلات کے پاکستان کےساتھ الحاق کےلئے کردار ادا کریں۔ قلات میں پاکستان کے اس اندازِ فکر یا موقف کےخلاف شدید ردِعمل ہوا اور قلات کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے بارے میں نفرت انگیز تقاریر ہی نہ ہوئیں بلکہ قلات کے ایران ، افغانستان اور بھارت میں سے کسی ایک کےساتھ الحاق کے موقف کا اظہار بھی سامنے آیا۔ اسی دوران آل انڈیا ریڈیو سے ایک خبر نشر ہوئی جسے وی پی مینن (بھارتی سیکرٹری خارجہ) سے منسوب کیا گیا نے انکشاف کیا کہ خان آف قلات نے حکومتِ ہند سے درخواست کی ہے کہ انڈین یونین سے اُنکی ریاست کا الحاق منظور کیا جائے۔ اب حکومتِ پاکستان کے پاس اسکے سوا اور کوئی چارہ کار نہیںتھا کہ وہ خاران، لسبیلہ اور مکران کی ریاستوں کے پاکستان کےساتھ الحاق کے بعد ریاست قلات کے پاکستان میں الحاق کے فیصلے کو حتمی شکل دے چنانچہ جون 1948 ءمیں خان آف قلات کو مجبوراً اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا پڑا۔ 

ٹیگز: