کابل:افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد گروہ "فتنۃ الخوارج" (TTP) کی مسلسل سرپرستی اور پشت پناہی کا کچا چٹھا ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور معتبر جرائد نے اس گٹھ جوڑ کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور خوارج کے درمیان تعلقات اب محض ہمدردی تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک منظم عسکری شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ افغان سرزمین کو ایک بار پھر دہشت گردوں کی نرسری کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں فتنۃ الخوارج کے جنگجوؤں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم ناصرف ان دہشت گردوں کو جدید اسلحہ فراہم کر رہی ہے بلکہ سرحد پار کارروائیوں کے لیے مکمل سہولت کاری بھی دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کی یہ دوغلی پالیسی ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک "ٹائم بم" ثابت ہو رہی ہے۔ افغانستان سے ہونے والی مداخلت نے پڑوسی ممالک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جریدے نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے ان گروہوں کی پشت پناہی ترک نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا۔