دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، بیانیہ اور عوامی ردِعمل ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگی ماحول نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے اثرات خود مغربی دنیا کے اندر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر نکلتے ہوئے عوام، بڑھتی ہوئی بے چینی، اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات ایک نئی فضا کو جنم دے رہے ہیں۔ بظاہر یہ منظر کسی بڑے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔
امریکہ میں حالیہ دنوں میں ہونے والے بڑے پیمانے کے احتجاج نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد مختلف شہروں میں جمع ہوئے، جنہوں نے جنگی پالیسیوں، معاشی دباو¿ اور حکومتی فیصلوں کے خلاف آواز بلند کی۔ یہ احتجاج بلاشبہ اپنی نوعیت اور وسعت کے لحاظ سے غیر معمولی ہیں۔ لوگ مہنگائی، بیرونی جنگوں میں مداخلت، اور اندرونی مسائل کے حل نہ ہونے پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم، اس تمام تر عوامی دباو¿ کے باوجود یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ امریکہ میں کوئی فوری رجیم چینج ہونے جا رہا ہے، حقیقت سے زیادہ ایک جذباتی تاثر معلوم ہوتا ہے۔ امریکہ کا سیاسی نظام ایک مضبوط جمہوری ڈھانچے پر قائم ہے، جہاں احتجاج کو تبدیلی کا ذریعہ ضرور سمجھا جاتا ہے، مگر یہ نظام کو گرانے کا سبب نہیں بنتے بلکہ اصلاح کی طرف لے جاتے ہیں۔
اسی طرح اسرائیل کے اندر بھی حالات مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔ وہاں بھی جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، مظاہرے ہو رہے ہیں اور حکومت پر دباو¿ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ مگر اسرائیلی معاشرہ اس وقت شدید تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو جنگ کو ضروری سمجھتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اس کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ اس داخلی تقسیم کے باوجود ریاستی ڈھانچہ اب بھی قائم ہے اور فوری طور پر کسی بڑے سیاسی انہدام کے آثار نمایاں نہیں ہیں۔
اگر اس صورتحال کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف امریکہ یا اسرائیل کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک عالمی ردِعمل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یورپ سے لے کر ایشیا تک مختلف ممالک میں عوامی مظاہرے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ جنگی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ یہ ایک ایسی لہر ہے جو سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانیت کے مشترکہ احساسات کی عکاسی کر رہی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ریاستی نظام اپنی جگہ برقرار ہیں اور عالمی طاقتوں کا توازن فوری طور پر بدلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے، تو وہ اس پوری صورتحال کا مرکزی کردار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ بیرونی دباو¿ ایران کے اندرونی نظام کو کمزور کر دے گا اور عوامی سطح پر بغاوت جنم لے گی۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس سامنے آئے ہیں۔ ایران نے نہ صرف اپنے ریاستی کنٹرول کو برقرار رکھا ہے بلکہ بیرونی دباو¿ کے باوجود اپنی پوزیشن کو مضبوطی سے تھامے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جملہ حقیقت کے قریب محسوس ہوتا ہے کہ ”ایران پھر ایران ہے، وہ ایران ہی رہے گا۔“
اصل سوال یہی ہے کہ کیا ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل میں رجیم چینج ہونے جا رہا ہے؟ منطقی تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسا کہنا قبل از وقت اور مبالغہ آرائی ہے۔ امریکہ میں جمہوری عمل، انتخابات اور اداروں کی مضبوطی ایسے کسی فوری امکان کو رد کرتی ہے، جبکہ اسرائیل میں اگرچہ دباو¿ موجود ہے، مگر وہ ابھی اس حد تک نہیں پہنچا کہ ریاستی نظام کو گرا سکے۔
البتہ ایک حقیقت جس سے انکار ممکن نہیں، وہ یہ ہے کہ عوامی غصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لوگ اب پہلے کی نسبت زیادہ باشعور ہو چکے ہیں، وہ حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور جنگ کے اثرات کو اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہے ہیں۔ یہ بیداری ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں پالیسیوں کی سمت ضرور بدل سکتی ہے، مگر فوری طور پر کسی انقلاب یا رجیم چینج کی صورت میں ظاہر ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ دنیا واقعی بدل رہی ہے، مگر یہ تبدیلی آہستہ، پیچیدہ اور مرحلہ وار ہوتی ہے۔ نظام اچانک نہیں گرتے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی دباو¿ کے نتیجے میں تبدیل ہوتے ہیں۔ احتجاج جمہوریت کی علامت ہیں، جنگ عالمی بے چینی کا سبب ہے، اور ایران اس وقت مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مگر ان تمام عوامل کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ عالمی سیاسی نظام اپنی جگہ قائم ہے، اور اسے بدلنے کے لیے صرف جذبات نہیں بلکہ وقت، حکمت اور مسلسل عمل درکار ہوتا ہے۔