گزشتہ دنوں میرے دوست نے واٹس ایپ پر ایک پیغام دیا اور مجھ سے سوال کیا کہ یہ کرپشن پریکٹس کیا ہوتی ہے۔ انسان زندگی کے سفر میں کچھ نہ کچھ کرنے کی جستجو میں سیکھتا سکھاتا ہے جسے ہم عام زبان میں پریکٹس کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح اچھے اور برے کی شناخت، اس کے کردار اور حالات و معاملات سے ہوتی ہے۔ جب میں نے واٹس ایپ پر تحریر پڑھی تو اس سوال کا جواب یوں آسانی سے دوں گا کہ میرے عمران خان کے ساتھ گزرے پچیس سال جو اس کی کرکٹ، شوکت خانم اور تحریک انصاف کے ابتدائی سالوں میں، میں نے دیکھا کہ اس کے اندر کرپٹ پریکٹس تو دور کی بات وہ کرپشن کے بہت خلاف تھا۔ اس موضوع پر میرے سامنے اس کی ایک نہیں کئی مثالیں دے سکتا ہوں۔ کرپٹ پریکٹس تو 2013ء کے انتخابات سے پہلے شروع ہوئی ہے۔ میرے نزدیک میرے دوست کا یہ مؤقف درست ہے کہ خان کو کرپشن سے ذرا بھی نفرت نہیں۔ اس نے کرپشن میں ملوث ہونے پر اپنے ہر ساتھی، دوست اور ڈونر کو تحفظ دیا ہے۔ اس نے دور اقتدار سے پہلے اور پھر بعد میں بدنام لوگوں سے مالی فائدے اٹھائے۔ زمان پارک میں واقع اس کے والد کا پرانا اور بوسیدہ گھر گرا کر وہاں ایک انتہائی جدید طرز کا گھر بنایا گیا۔ یہ گھر عمران خان نے نہیں بلکہ ملک ریاض نے اسے بنوایا۔ اس بات کی عمران خان کبھی تردید نہیں کر سکا۔ پی ٹی آئی کے وہ لوگ جو اس کو ایماندار کی سند دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے وہ ان باتوں کی تصدیق کر لیں مگر اس بات کا ضرور لحاظ کریں کہ کسی ایسے شخص کو جس کا دامن داغدار ہو، اسے عظیم لیڈر یا مرشد یا نجات دھندہ کہنا چھوڑ دیں۔ کسی بھی ملک کی تقدیر وہی شخص بدل سکتا ہے جس کے دامن پرکسی مالی یا اخلاقی کرپشن کا کوئی داغ نہ ہو۔
پراپرٹی آئی کون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سب کو خرید لیتا تھا لیکن لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عمران خان کو اس جیسا بندہ بھی نہیں خرید سکے گا مگر پھر زمانے نے دیکھا اور سنا کہ اسی عمران بارے باتیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ کہا تو یہ بھی گیا کہ جلسوں کا خرچہ ملک ریاض سے لیا جاتا رہا اور یہ سب کچھ ہونے یا کرنے کے بعد عمران خان کا بھی اس سے ویسا ہی تعلق بن گیا جیسا دوسرے سیاستدانوں کا تھا۔ اسی طرح ایک کیس میں ملک ریاض کو سپریم کورٹ نے خاص رویہ کے تحت 2ہزار ارب کی بجائے صرف 460ارب روپے جرمانہ کیا۔ جہاں تک القادر ٹرسٹ میں بڑی چوری کا تعلق ہے تو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اس معاملے پر ملک ریاض کے برطانیہ میں اثاثوں پر تحقیق کی اور اسے غیر قانونی قرار دیکر 190ملین پونڈ کا جرمانہ کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت کو لکھ دیا کہ وہ ضبط شدہ رقم حکومت پاکستان کو بھیج رہے ہیں تاکہ وہ قومی خزانے میں جائے اور عوام پر لگائی جائے۔
ایسے معاملات کیلئے عمران خان نے کوئی دیانتدار آدمی رکھنے کی بجائے شہزاد اکبر جیسا فراڈیا رکھا ہوا تھا جو یہ خط لے کر عمران خان سے ملا اور وہاں یہ فیصلہ ہوا کہ عوام کو چھوڑو بلکہ یہ رقم ملک ریاض کو دے دو اور اس کے بدلے میں ہم اس سے کئی گنا زیادہ کے فائدے لیں گے۔
آج عمران خان کے حامی دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ دیں کہ برطانیہ سے آیا ہوا پیسہ عوام کو دینے کی بجائے ملک ریاض کو دے دینا کوئی جرم نہیں ہے؟۔ اگر عمران کی بجائے یہی کام نوازشریف نے کیا ہوتا تو کیا عمران کے حامی اسے بھی بے گناہ قرار دیتے؟ کیا وہ ایسا کام کرنے پر نوازشریف کیلئے 7 سال قید کا مطالبہ کرتے یا 14سال کا؟
اب آتے ہیں سیرت النبیؐ سے روشناس کرانے کیلئے کسی یونیورسٹی کے قیام کا ایشو کیوں کھڑا کیا گیا اور کن وجوہات پر اتنا بڑا فراڈ کرایا گیا۔ کسی بھی ماہر یا سکالر سے پوچھیں تو سب یہی کہیں گے کہ ایسی یونیورسٹی اسلام آباد یا کسی بڑے شہر میں قائم ہوتی تاکہ طلباء اور اساتذہ کو آسانیاں پیدا ہوتیں یا پھر نئی یونیورسٹی کی بجائے اسلام آباد یا لاہور کی کسی بڑی یونیورسٹی میں ہی ایک بہت بڑا نیا ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کسی بھی صورت میں ایسی اسلامی یونیورسٹی ملک ریاض سے مشکوک ڈیل میں لی گئی زمین پر نہیں بننی چاہئے تھی۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ ایسا ادارہ سرکاری زمین، کسی نیک بڑے نام شخص کی طرف سے عطیہ کی گئی زمین پر بنتا اور پھر اسے اپنی ذاتی جائیداد بنانے کی بجائے حکومت کے کنٹرول میں دے دیا جاتا تو وہ ایک گھر کی بجائے ملک کا اثاثہ ہوتا اور کسی بھی شکل میں اسے زلفی بخاری یا عمران خان کی بیوی کی بجائے وزارت تعلیم یا وزارت مذہبی امور چلاتی مگر قوم سمجھے کہ یہ کرپٹ پریکٹس نہیں تھی۔ یہاں تو لگتا ہے کہ مقصد اور ہدف ہی کرپٹ پریکٹس تھا۔ القادر میں سیرت النبیؐ کی تعلیم دی گئی یا کیا عمران خان نے کبھی وہاں جا کر تعلیمی ماحول اور معیار کا معائنہ کیا تھا۔ ان حالات و واقعات کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایماندار کے جو سبق پڑھائے جا رہے تھے وہ سب فراڈ ثابت ہوئے اور عمران خان کو بے گناہ ہی سب سے بڑا گناہ ہوگا۔
پاکستان میں کرپٹ پریکٹس کوئی نئی بات نہیں۔ بات یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا دعویدار بھی اس چوری کا سبب بنا جس کے بارے یہی کہا جا رہا تھا کہ اس سے بڑا ایماندار شاید ہی کوئی اور ہو یہ تو کرپٹ پریکٹس کا ایک حصہ ہے ابھی تو وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی واقعات کرپٹ پریکٹس کے نام پر سامنے آنے والے ہیں۔