ایک اور سال اپنی تلخیوں اور تجربات کے ساتھ رخصت ہو گیا اور نئے سال کا سورج نئے سوالات، نئی امیدوں اور نئی ذمہ داریوں کے ساتھ طلوع ہو چکا ہے۔ سالِ نو صرف جشن کا موقع نہیں بلکہ گہرے غور و فکر اور قومی احتساب کی ساعت بھی ہے۔ دنیا سال نو کی رات کو عیاشیوں میں گزارتی ہے گو بہ حیثیت مسلمان ہمارا سال یکم محرم کو شروع ہوتا ہے اسکے باوجود نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایسے مسلمان بھی ہیں جو یکم جنوری کی رات بھی حرمین میں آ کر نئے سال کی کامیابیوں کیلئے دعائیں کرتے ہیں یہ دنیا انہی لوگوںکی عبادات سے قائم ہے۔ پاکستان کیلئے 2025ءایک بہترین سال رہا، پاکستان نے اپنے سے زیادہ کئی گنا فوجی طاقت، کئی گنا بڑے رقبے کے ملک، کئی گنا بڑی آبادی والے ملک جو پاکستان کے یوم آزادی سے لے کر آج تک پاکستان کا ہر لمحہ دشمن ہے وہ خواب بھی پاکستان کی تباہی کے دیکھتا ہے مگر اسکے یہ خواب جانے والے سال میں ملیا میٹ کر دئیے ہیں وہ شائد تا قیامت یہ خواب نہ دیکھ سکے۔ پاکستان کی بہادر افواج نے جو مزہ ہندوستان کو چکھایا ہے وہ اب یہ خواب نہیں دیکھ سکے گا۔ بھارت نے اپنی مکروہ کوششوں سے دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف جو زہریلا پراپیگنڈہ کر رکھا تھا وہ بھی تباہ ہو گیا، جس کا کریڈٹ پاکستا ن کی سچائی، حکومت و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت اور فہم و فراست کو جاتا ہے جس نے بھارت کو دنیا میں بھی رسوا کیا۔ آج بھارت گھبراہٹ میں اپنا اصلی چہرہ دنیا کو دکھا رہا ہے اور وہ چہرہ ایک دہشت گرد ملک کا ہے۔ چاہے آسٹریلیا، فرانس ہو، برطانیہ یا کوئی اور ملک بھارت اب کشمیر اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بیرون دنیا بھی اپنی دہشت گردانہ کارروائیاںکر رہا ہے۔ بھارت اپنی مجرمانہ حرکتوں سے از خود دنیا کو باور کرا چکا وہ ایک دہشت گرد ملک ہے۔ بھارت کا ہم پیالہ دوست اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہے۔ 2025 فلسطین، ایران، اسرائیل جنگ میں دنیا میں تلخیاں بکھیرتا رہا ہے، عالمی طاقتیں حسب روایت اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے منافقت کا مظاہرہ کرتی رہیں، لاکھوں بے گناہ جانیں ضائع ہوتی رہیں، لاکھوں بلند بالا عمارتوں کے ملبے میں شائد تاحال بے شمار لاشیں دبی ہیں، اسرائیل کی پشت پر امریکہ، بھارت اور دیگر مسلمان دشمن ریاستیں ہیں اسلئے سال 2026 میں اسلامی ممالک کو اپنے اتحاد کی طرف مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، اتحاد کے حوالے سے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کلیدی کردار کر رہے ہیں اور مزید کر سکتے ہیں۔ گزرا ہوا سال پاکستان کے لیے معاشی دبا¶، سیاسی بے یقینی اور سکیورٹی چیلنجز سے بھرپور رہا۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑی، روزگار کے مواقع محدود ہوئے اور قوم اضطراب کا شکار رہی۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ وہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتی۔ قربانی، صبر اور جد و جہد ہماری اجتماعی شناخت ہے۔ نیا سال اس امید کے ساتھ شروع ہو رہا ہے کہ سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کا ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، ادارے ہوں یا عوام .... ذمہ داری سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ سالِ نو ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں گے، دیانت داری کو فروغ دیں گے اور ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیں گے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی محنت اور قربانیاں بھی اس قوم کا سرمایہ ہیں، جن کی امیدیں وطنِ عزیز سے وابستہ ہیں۔ 2025 پاکستان کے لیے مشکل مگر فیصلہ کن رہا، جس میں سکیورٹی اور معیشت دونوں محاذوں پر چیلنجز نمایاں رہے، تاہم کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کا سال ثابت ہو۔ ہمارے نوجوانوں کو مواقع ملیں، معیشت سنبھلے اور پاکستان ایک بار پھر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔ 2026ءمیں دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات خصوصی طور خیبر پختون خوا میں موجود ہیں جہاں ایک سیاسی جماعت حکومت نہیں چلا رہی بلکہ وہ اپنے اڈیالہ کے قیدی کو چھڑانے کیلئے کوشاں ہیں۔ لگتا ہے مقابلہ ہو رہا ہے کہ کون سڑکوں پر عوام کو لا سکتا ہے مگر یہ خام خیالی ہے عوام جان چکے ہیںکہ اس جماعت کے مقاصد کیا ہیں۔ 2025 میں سرحدی صورتحال، خاص طور پر افغان سرحد پر دبا¶ اور غیر یقینی حالات موجود رہے پاکستان نے اپنی معیشت خراب کی، اپنے ملک میں اسلحہ کلچر کو جنم دیا اور یہ سب افغانستان کی جانب سے ہوا اور افغانستان، طالبان پاکستان میں بھارت کی مدد سے مستقبل پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہے ہماری عسکری قیادت یہ مسئلہ بھی ان شاءاللہ 2026ءمیں حل کر لے گی۔ جانے والے سال کو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے نہ ہی مکمل ناکامی کا سال تھا اور نہ ہی کامیابی کا۔ یہ سال بحران سے نکلنے کی جد و جہد، سخت فیصلوں اور عوامی صبر کی علامت رہا۔ سکیورٹی کے میدان میں خطرات قابو میں رکھے گئے، جبکہ معیشت میں بقا یقینی بنائی گئی، مگر عام آدمی کے لیے سال سخت رہا۔ 2025ءنے پاکستان کو یہ سبق دیا کہ سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات اور سکیورٹی ہم آہنگی کے بغیر پائیدار بہتری ممکن نہیں۔ یہی بنیاد 2026 کے لیے امید کا راستہ بن سکتی ہے۔خدا کرے، نیا سال ہم سب کے لیے امید، حوصلے اور نئے عزم کا پیغام لے کر آئے۔ توقع ہے کہ یہ سال ذاتی زندگی میں خوشحالی، صحت اور سکون کا باعث بنے گا۔ معاشی حالات میں بہتری آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ملک میں امن، استحکام اور قانون کی بالادستی مضبوط ہو گی۔ تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروبار میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ امید کرتا ہوں کہ 2026 ایسا سال ہو گا جو مایوسی کے بجائے امید، اختلاف کے بجائے اتحاد اور رکاوٹوں کے بجائے کامیابیوں کی
علامت بنے گا۔ ان شاءاللہ پاکستان کیلئے یہ نیا سال مبارک اور خوشیوں بھرا ہو گا۔ امید ہے کہ بین الاقوامی طور پر بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی اور سفارتی مکالمہ فروغ پائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کے سیاسی حل کی سنجیدہ کوششیں تیز ہوں گی۔ یوکرین، غزہ اور دیگر علاقوں میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔ عالمی معیشت کو درپیش دبا¶ کم کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ یہ دعا بھی ہے اور خواہش بھی کہ کاش اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے تنازعات کے حل میں م¶ثر کردار ادا کریں۔ اب خصوصی طور پر سعودی عرب کے مغربی صوبہ جدہ اور دیگر شہروں میں رہنے والے پاکستانیوںکیلئے سال نو کی ایک بہترین خوشی، گزشتہ چالیس سال سے زائد جس بھوت نما عمارت میں پاکستان کا قونصل خانہ تھا اب اس سال آئندہ دو ایک ہفتے میں قونصلیٹ کی نئی عمارت کا حکومت پاکستان کی جانب سے ایک تحفہ ہو گا۔ نیز چھ سال بعد پاکستان کے نئے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ بھی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں کو تحفہ ہے، کمیونٹی بھر پور انداز میں انہیں خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ اللہ سے قوی امید ہے کہ نئے سال اور اپنی مدت تعیناتی میں وہ پاکستان و سعودی عرب کے تعلقات میں مزید بہتری، مضبوطی اور کمیونٹی کے مسائل بہتر انداز میں حل کرینگے۔