پشاور : پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر لی ہے، لیکن ان کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 100 سے زائد مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے اور حملہ آوروں کے ایف سی ہیڈکوارٹرز تک پہنچنے کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، تفتیشی ٹیم حملہ آوروں کے سہولت کاروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں کے پاس کوئی موبائل فون نہیں تھا، جو ان کی نقل و حرکت کو چھپانے کی کوشش کا حصہ تھا۔
یاد رہے کہ 24 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے خودکش دھماکوں میں تین ایف سی اہلکار شہید ہو گئے تھے، اور تینوں حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ تفتیشی ادارے اس حملے کے پس پردہ سازشوں اور سہولت کاروں کا پتہ چلانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔