کابل : افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل فرید حامدی نے افغان جریدے "اٹلس پریس" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان طالبان کے عدالتی نظام پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
فرید حامدی کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے ملک میں رائج قانونی نظام کے پرخچے اڑا دیے ہیں اور اب وہاں صرف بندوق کا قانون چل رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عسکری اور عدالتی نظام میں اختیارات کی علیحدگی کا تصور مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سابق اٹارنی جنرل نے دنیا کو مطلع کیا کہ طالبان کی قائم کردہ نام نہاد عدالتیں کسی آزاد تفتیشی ادارے کے بغیر خود ہی فوجداری مقدمات کی انکوائری کرتی ہیں اور خود ہی منصف کا چوغہ پہن کر یکطرفہ فیصلے صادر کر دیتی ہیں، جو کہ عالمی قوانین کے تحت انصاف کا سرعام جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔