ایران کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے خواب 4 ہفتوں میں بکھر گئے۔ شہادتوں کے جنون نے ایٹمی اسلحہ اگلنے والی سپر پاور کا غرور خاک میں ملا دیا، جنگ تاریخ کی بدترین جارحیت لیکن ایران نے ثابت کر دیا کہ خودداری اور مزاحمت کے سوا دنیا میں کوئی سپر پاور نہیں۔ سمندر، پہاڑ اس کے راستے میں حائل نہیں ہوتے، گریٹر اسرائیل کے قیام اور دنیا کے 90 فیصد تیل کے کنوو¿ں پر قبضہ کا برسوں پرانا خواب بحیرہ¿ احمر کے پانیوں میں غرق ہو گیا، ایران پر حملے کا تجربہ ناکام، عالمی سطح پر ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا، سینٹ کام کے مطابق امریکہ نے ایران پر 9 ہزار حملے کیے، 45 ہزار عمارتیں کھنڈر کا ڈھیر 35 لاکھ افراد بے گھر، ہزاروں انسان اس فضول جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انسانیت صدیوں کے سفر کے بعد تہذیب اور ترقی کے مراحل طے کرتی یہاں تک پہنچی تھی 30 دنوں کی جنگ نے اسے پھر صدیوں پیچھے دھکیل دیا، جنگلیں امریکہ کا کاروبار، اس کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا گولہ بارود، طیارے اور میزائل بکتے ہیں، وہ چار دن کا کہہ کر دس بیس سال لڑتا ہے اور پھر ذلت آمیز رسوائی کے بعد ویت نام اور افغانستان جیسے چھوٹے ممالک خالی کر دیتا ہے، اس کا صدر 77 ہزار فلسطینیوں کے قتل کے بعد نوبل پرائز کے خواب دیکھتا ہے اور اپنے معاشی استحکام اور عالمی چودھراہٹ کے لیے ہر جنگ کے بعد دوسری جنگ کا منصوبہ بنا لیتا ہے، عالمی میڈیا کی متفقہ رائے کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ہوش اڑا دئیے ٹرمپ حواس باختہ، اسرائیل کی چیخیں آسمان اول تک پہنچ رہی ہیں، تباہی کی تصویر بنے اسرائیلی شہروں کے میئر گلے پھاڑ کر نیتن یاہو حکومت کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ اسرائیلی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ ہم جنگ ہار گئے اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے ہمیں 20 ہزار فوج کی ضرورت ہے۔ ایرانی کلسٹر بموں کے حملوں میں سیکڑوں یہودی ہلاک ہزاروں زخمی ہو گئے، نیتن یاہو منہ چھپائے کسی بنکر میں چھپا بیٹھا ہے۔ اسرائیلی شہروں پر کوے منڈلا رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے نیتن یاہو کو ہدف تنقید بنایا کہ اس نے ٹرمپ کو ایران کے دفاعی نظام کے بارے میں غلط تصویر پیش کی جس کے بعد امریکہ حملے کی حماقت کر بیٹھا، ٹرمپ کے بقول ایران کی نیوی، ائیر فورس اور ایٹمی نظام تباہ کر دیا ایسا ہے تو ایران اسرائیلی شہروں پر میزائلوں کی بارش کیسے کر رہا ہے، کیا امریکی طیارے غلیلوں سے تباہ ہو رہے ہیں۔ ایرانی دعوے کے مطابق اس نے عرب ملکوں میں امریکہ کے 17 اڈے تباہ کر دئیے وہاں مقیم 3 سو امریکی فوجی ہلاک 5 ہزار زخمی ہوئے، ان کی تنصیبات رہائش کے قابل نہیں رہیں انہیں ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ اپنے کہنے لگے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنے آپ کو مشکل میں ڈال لیا ہے، جس سے باہر نکلنا آسان نہیں۔ نیویارک ٹائمز اور فنانشل ٹائمز برملا کہہ رہے ہیں۔ ایران جنگ جیت چکا ٹرمپ اپنی خفت مٹانے کے لیے جھوٹے بیانیوں اور یوٹرن پر مجبور ہو گیا، خود ہی جنگ چھیڑی، بے محابا مار پڑی تو 20 دن میں ہوش ٹھکانے آ گئے ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے تیل کا عالمی بحران پیدا کر دیا۔ تیل بردار جہازوں پر 20 لاکھ ڈالر ٹیکس عائد۔ ہاہا کار مچی تو ٹرمپ جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادہ بلکہ مجبور نظر آئے۔ 5 دن بعد مزید 10 دن کی جنگ بندی کا اعلان لیکن اس دوران تابڑ توڑ حملے جاری، اسرائیل نے ایران کے ایٹمی مرکز پر حملہ کر دیا، تابکاری اثرات پھیلنے سے قبل کنٹرول کر لیے گئے۔ جنگ بندی کے باوجود وہائٹ ہاو¿س سے خطرناک سگنل مل رہے ہیں، 6 اپریل کے بعد خوفناک زمینی لڑائی کی خبریں، ایٹم بم گرانے کے ارادے لیکن اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے اشارے تاہم عرب ملکوں کو یقین دہانی امریکہ خطہ سے چلا گیا تب بھی تمہارا دفاع کرے گا، ہم سے جڑے رہو ورنہ ایران تمہیں کھا جائے گا۔ جنگی اخراجات کے نام پر چندے کی اپیل تین ملکوں نے دو دو کھرب ڈالر جھولی میں ڈال دیئے، ٹرمپ کے کئی چہرے، 15 شرائط کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش، ایران نے حملے بند کرنے کی شرائط تسلیم کیں جبکہ اپنی 6 شرائط سے امریکہ کو حیران کر دیا۔ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب، پاکستان
جنگ کے خاتمہ کے لیے سہولت کاری ہی نہیں ثالثی کا کردار ادا کرے گا، کیا پاکستان تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچا پائے گا، ان شاءاللہ۔ ترکیہ اور مصر ساتھ ہیں۔ روس چین سمیت پوری دنیا میں پاکستان کی دھوم، واہ واہ محبِ وطن پاکستانیوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا، سینہ فخر سے بلند، ازلی دشمن بھارت میں صف ماتم، مودی سر پیٹنے پر مجبور، ملک کے اندر ملک دشمن اگلا نشانہ کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، ہمارے فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور انتھک وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شبانہ روز محنت غیر جانبدار خارجہ پالیسی اور خطے کے تمام ممالک سے بہترین دوستانہ تعلقات۔ امریکہ چین روس سے بیک وقت دوستی۔ عرب ملکوں سے برادرانہ روابط سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، ایران میں تشکر پاکستان کے نعرے۔ اللہ کا کرم، دم درود کام آ رہا ہے، ذہانت، فطانت لیڈرشپ کا کمال، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے انسانیت کا بھلا ہو گا جنگ کی آگ ٹھنڈی ہو گی تو پاکستان خطے ہی میں نہیں عالمی سطح پر ایک معزز مکرم اور بااعتماد دوست کی حیثیت سے پہچانا جائے گا، دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں۔ امریکہ سے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران سے صدر پژشکیان اور سپیکر باقر قالیباف شریک ہوں گے۔ مذاکرات شروع ہو گئے پہلے مرحلے میں فریقین کی شرائط ان تک پہنچا دی گئیں، کچھ لو کچھ دو کے لیے بات چیت شروع ہو گئی مذاکرات کامیاب رہے تو دنیا سکھ کا سانس لے گی، ان شاءاللہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں گی لیکن ان ملک دشمن رنگ بازوں کا کیا ہو گا جو اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے بیانیوں اور افواہوں کے اسرائیلی ساختہ میزائل چھوڑنے میں سرگرم عمل ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادے قاسم خان اچانک والد کی رہائی کے لیے سرگرم ہوئے زلفی نے راہ دکھائی یہودی والدہ کی گود میں پرورش پانے والے صاحبزادے نے ایک یہودی جاسوس کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اپنے والد کی ”قید تنہائی“ کا رونا روتے ہوئے جی ایس پی پلس کی پاکستانی درجہ بندی ختم کرنے کی نئی بحث چھیڑ دی، درجہ بندی آنکھیں بند کر کے ختم نہیں کی جائے گی لیکن اس سے صاحبزادے کی ملک دشمنی ظاہر ہو گئی، پارٹی کے دیگر لیڈر اس سے پہلے خانہ جنگی، ترسیلات زر روکنے اور آئی ایم ایف کو خطوط لکھنے جیسے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ دنیا میں دو شخصیات جنہیں سمجھنا مشکل ٹرمپ اور عمران انہیں خدا ہی سمجھے۔