Wed, September 16, 2026

ایٹم بم کی گرد جھاڑ لی گئی

ایٹم بم کی گرد جھاڑ لی گئی

امریکہ اور اسرائیل کے اپنے دیگر سہولت کاروں کے ساتھ ایران پر حملے کو ایک ماہ ہو چکا ہے۔ پہلے دو گھنٹے پھر دو دن پھر دو ہفتے میں ایران کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے بلبلا اٹھے ہیں اور جنگ بندی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ایران کیلئے اللہ ہی کافی ہے جبکہ اسرائیل سے حزب اللہ بہترین انداز میں نمٹ رہا ہے۔
ایرانی میزائلوں نے حملہ آوروں کو مار مار کر ان کی پشت لال اور چہرہ پیلا کر دیا ہے، ان کی قمیض اور پتلون اتار کر دیکھیں تو ان کا پورا جسم نیلا نظر آئے گا۔ امریکی صدر جو اپنے لڑاکا ہوائی جہازوں کو فرینڈلی فائرنگ میں گرنے اور اپنے طاقتور ترین بحری جہاز کی لانڈری میں آگ لگنے کے قصے سنا کر ہر طرف سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے تھے۔ اب بذبان خود دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ستر برس سے دنیا پر لرزہ طاری کئے رکھنے والے بحری بیڑے کے ایک ائیرکرافٹ کیرئیر جیرالڈ فورڈ کی ایران نے کیا درگت بنائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہمارے اس ائیرکرافٹ کیرئیر پر چار مختلف سمتوں سے سترہ حملے کئے گئے۔ ہم اپنے ہزاروں فوجیوں کی جان بچا کر بمشکل وہاں سے بھاگے۔ امریکی صدر اور کچن کابینہ کے ارکان گزشتہ رات بے چینی سے بسترپر کروٹیں بدلتے رہے کیونکہ انہیں سرشام ہی خبر مل گئی تھی کہ ان کے حلیف ملک میں کھڑے امریکہ کے چھ بحری جہازوں پر میزائل قیامت ٹوٹی ہے جس کے نتیجے میں تین جہاز تو دیکھتے ہی دیکھتے ڈوب گئے جبکہ آخری اطلاعات آنے تک دیگر تین بحری جہازوں میں لگی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، ان جہازوں کے ذریعے امریکی میرینز کو ایران کے کسی جزیرے پر پہنچانا تھا۔ دوسری اطلاع جس نے ان کے ہوش گم کر دیئے وہ یہ تھی کہ بوبیان نامی جزیرے پر اگلے حکم کے منتظر ہزاروں فوجی اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے ہی میزائل برسات میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ خبر ایرانی ذرائع نے دی جسے بعدازاں مغربی ذرائع نے اپنے انداز میں دنیا تک پہنچایا۔ ایک اور واقعہ اس سے بھی زیادہ دلخراش تھا۔ امریکی ٹرانسپورٹ طیارے ایرانی جزیرہ خارگ ہیں۔ بیاسی ائیربورن ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کمانڈرز اتار رہے تھے۔ ایرانی سپاہ کو ان کی پہلے ہی سے خبر تھی، پہلا جہاز جب اپنے سواروں کو اتار کر روانہ ہو گیا تو اس کے چند منٹ بعد ایک دوسرا ٹرانسپورٹ طیارہ وہاں مزید امریکی کمانڈرز کو اتارنے لگا، ابھی اس کا کام مکمل نہیں ہوا تھا کہ ان کی تاک میں بیٹھے فرزندان اسلام نے انہیں نشانے پر رکھ لیا کچھ لوگ زمین پر پہنچنے سے قبل ہی مارے گئے جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں زمین پر پہنچنے والوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ٹرانسپورٹ طیارہ ایک میزائل کی زد میں آیا جو لڑکھڑاتا ہوا ایران کے ایک ہمسایہ ملک کی طرف اترتا نظر آیا ہے، اسے کس قدر نقصان ہوا ہے یہ دوبارہ پرواز کر پائے گا یا نہیں ایران کا ہمسایہ ملک اس حوالے سے دم سادھے خاموش ہے۔
میدان جنگ سے موصول ہونے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کچھ دنوں میں تو ختم نہیں ہو گی بلکہ اس وقت ختم ہو گی جب بالواسطہ اور بلاواسطہ جنگ کرنے اور ایران فتح کرنے والوں کے شوق کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ جنگ بندی کی آخری رات تک ایرانی افواج نئی تاریخ رقم کرتی رہیں گی۔ یہ آخری رات کب آئے گی ، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن گزشتہ روز پہلی مرتبہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ شاید اب بھی ایسا نہ کرتے لیکن ایران، حزب اللہ اور اب یمن نے مار مار کر اسرائیل کا سر پولا کر دیا ہے جبکہ امریکہ جو کبھی دنیا کی سپرپاور ہوا کرتا تھا اس سپر کا سر اتار کر امریکہ کے ہاتھ پکڑا دیا ہے۔ امریکی جرنیل آن ریکارڈ آچکے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا کہ ایران کے جزیرہ خارگ پر حملے کی حماقت بہت مہنگی پڑے گی لیکن امریکی صدر نہ مانے انہیں اس حملے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے ثابت کیا شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا، ان کے حکم پر ایک اور شہرئہ آفاق ائیرکرافٹ کرئیر خلیج فارس کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا لیکن امریکی اور اسرائیلی سپاہ کا منہ پھیر دیئے جانے کے بعد ”ٹریپولی“ نامی ائیرکرافٹ کرئیر اور اس کے دو ساتھیوں کو ”ڈیگو گارشیا“ کے قریب پہنچ کر روک دیا گیا ہے کیونکہ جیرالڈ فورڈ اور ابراہام لنکن کے بارے میں اطلاع ملی ہے کہ دونوں ائیرکرافٹ کریئر مکمل ناکارہ ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد یہ ایسے ملک کے ساحل پر ملیں گے جو کھٹارا جہاز توڑنے اور اس کا سامان بیچنے میں شہرت رکھتا ہے۔ دونوں جہاز جہاں اس وقت کھڑے ہیں وہ ملک یونان ہے اور جہازی صنعت میں اپنا نام رکھتا ہے۔ خیال ہے کہ ان دونوں امریکی جہازوں کی آخری رسومات یونان کے ساحل پر انجام دی جائیں گی۔
جاری جنگ میں گھوڑے بدلے جاتے ہیں نہ کسی محاذ پر اپنی بڑی ناکامی یا پسپائی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ذرا سوچئے اور اندازہ کیجئے کہ ایران کے جانبازوں نے امریکہ اور اسرائیل کی کس قدر ٹھکائی کی ہے کہ دونوں ملکوں کے جرنیل ساتھ کھڑے کر چکے ہیں۔ اسرائیلی آرمی چیف نے اسرائیلی فوجی طاقت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے، وہ کہتے ہیں میری فوج بری طرح تھک چکی ہے۔ نفری میں بے حد کمی واقع ہو چکی ہے اور اسرائیلی سپاہی لڑنے کے لئے کسی طور تیار نہیں۔ اندر کی بات ہے کہ اسرائیلی فوج اور ائیرفورس میں بغاوت ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کی خواہش ہے کہ اب کچھ اور ممالک کی فوجیں اس جنگ میں کود پڑیں۔ جی سیون ممالک کے علاوہ بعض یورپی ممالک کو اس جنگ میں کھینچنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اب امریکہ کی امیدوں کا مرکز مسلمان ممالک ہیں۔ مسلمان ممالک کو امریکہ کی جنگ میں چھلانگ لگانے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تقریر کے حصے کو سوبار سن لینا چاہئے۔ جس میں وہ ایک ٹریلین ڈالر کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے والے مسلمان ملک کے سربراہ کے خلاف غیرپارلیمانی ہی نہیں بلکہ بیہودہ ترین گفتگو کر رہا ہے۔ فرض کر لیجئے اگر کوئی گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیںہوتے تو پھر ہم آپ کیا کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ہاری ہوئی جنگ شروع کرنے کا الزام اپنے وزیروں کے سر رکھ کر خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں لیکن ایسا ہو نہ سکے گا۔ امریکی نائب صدر دل ہی دل میں بہت خوش ہیں۔ ٹرمپ ناکام ہو کر منظر سے ہٹے گا تو وہ خودبخود امریکہ کے صدر بن جائیں گے لیکن فی الحال انہوں نے ٹرمپ کو دکھانے کے لئے نیتن یاہو کو فون کیا اور اس کے خوب لتے لئے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے ہمارے بھولے بھالے صدر کو خواہ مخواہ اپنی جنگ میں گھسیٹا۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھولپن میں جیفر ایپسٹین کی باتوں میں آکر ننگے ہو گئے، اب نیتن یاہو انہیں جنگ میں گھسیٹ لایا۔ امریکہ میں بحث شروع ہو چکی ہے کہ ٹرمپ کا دماغی توازن درست نہیں۔ اب دیکھنا ہے امریکی قوم کب ایک پاگل سے پیچھا چھڑاتی ہے۔
نیتن یاہو پر بھی پاگل پن کے دورے پڑ رہے ہیں۔ وہ اپنے انٹیلی جنس چیف کو تمام ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غلط انٹیلی جنس معلومات دی گئیں، انہیں ایران کی اصل طاقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ امریکی اور اسرائیلی دو بھولے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر لے آئے ہیں لیکن ان کے اپنے لوگ انہیں نشان عبرت بنا دیں گے۔
دنیا پٹرول بحران کی زد میں آچکی ہے۔ بھارت، آسٹریلیا، کیوبا اور تھائی لینڈ میں پہیہ جام ہونے کے قریب ہے۔ عین اس وقت روس نے پٹرول فروخت کرنا بند کر دیا ہے، جس کے بعد پٹرول کا اقبال بلند ترین ہو جائے گا۔ روس اور کوریا نے احتیاطً اپنے ایٹم بم کی گرد جھاڑ لی ہے اور امریکہ و اسرائیل کو مطلع کر دیا ہے۔

ٹیگز: