یقینا آئی ایم ایف کے پریشر اور کچھ دیگرمالی رکاوٹوں، جدوجہد کرنے والی معیشت اور بجٹ خساروں کی ٹینشن کی ہی وجہ ہوگی کہ حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ملازمین کی گردن یقینی طور پر اتنی ہی پتلی ہوتی ہو گی کہ جب بھی حکومت کو کسی قربانی کی ضرورت پڑتی ہے تو انہیں سب سے پہلے سرکاری ملازمین کا ہی خیال آتا ہے۔ ہمارے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی غریب پروری اور ان کی عوامی سیاست پر تو کسی کو شک ہی نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ا گرچہ ان کی حکومت نے بھی بیچارے سرکاری ملازمین کا خون تو بھر پور انداز میں نچوڑانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے پیکج منظور ہونے کے بعد اپنی تقریر میں وہ سرکاری ملازمین کی قربانیوں کا ذکر کرنا بالکل بھی نہیں بھولے ۔ جب انہوں نے جب ملک کی بہتر ہوتی ہوئی اقتصادی صورتحال کی خبر سنائی تو اس موقع پر وہ سرکاری ملازمین کی قربانی کا ذکر بھی بھرپور انداز میں کیا۔بے چارے اراکین پارلیمنٹ کو تو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے پر مجبور ہیں لیکن یہ بات تو ماننے والی ہے کہ اپنی تقریروں میںغریبوں کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔
اس صورتحال ہمیں ان ویلے قسم کے لوگوں کی باتوں اور تنقید پر بالکل بھی دھیان نہیں دینا چاہیے جو ہمارے بیچارے ارکین پارلیمنٹ اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں صرف خاطر خواہ اضافے پر بلاجواز شور مچا رہے ہیں اور اعتراض کررہے ہیں۔کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قوم کے ان معماروں کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کیا ہی نہیں گیا کہ جتنی ان کی اس قوم کے لیے خدمات ہیں یعنی وہ حقدار تو اس سے بہت زیادہ اضافہ کے تھے لیکن جانے کیوں ان سے اس قدر زیادتی کی گئی کہ انہیں اس معمولی سے اضافہ پر ٹرخا دیا گیا۔
بہت سے لوگ یہ نامعقول منطق بھی پیش کر رہے ہیں کہ قانون سازوں، جو پہلے ہی تنخواہ کے علاوہ مختلف بھرپور انداز میں الاؤنسز اور مراعات حاصل کرتے ہیں، کو تنخواہ میںاس قدر اضافہ نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جب قربانیاں دینے کے لیے سرکاری ملازمین موجود ہیں تو اپنے پیارے اراکین پارلیمنٹ کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کے مسلہ پر ہم نے دیکھا کہ کسی بھی بات پر متفق نہ ہونے والے حکومتی اور اپوزیشن اراکین کم ازکم اس نقطہ پر ایک ہی پیج پر نظر آئے۔ ایسے دلفریب اور نایاب منظر کودیکھنے کے لیے قوم کو اگر چند ارب روپے کا ٹیکا لگوانا پڑ جائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟
حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اپنے عوام کو مکمل طور پر یہ ریلف ٹرانسفر نہ کرنا بھی ایک احسن قدم تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر عوام کو سستے پیٹرول یا کم کرایوں کی عادت پڑ گئی تو جب کبھی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پیٹرول مہنگا کرنا پڑے تو ان کو تکلیف ہو گی۔ شائد اسی تکلیف سے بچانے کے لیے حکومت نے پہلے تو پیڑول تو سستا ہی نہیں کیا اور پھر ایک روپے کا لالی پاپ دے کر ٹرخا دیا۔
اگرچہ پیڑول کی قیمیں توکم نہ ہو سکیں لیکن اس کے جواب میں عوام کو بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی لانے کا لارا لگا دیا گیا۔ ابتدائی طور پر تو بجلی کے نرخوں میں آٹھ روپے فی یونٹ تک کی کمی کی خبریں تھیںلیکن شائد اسی وجہ سے کہ کہیں عوام کی عادتیں نہ بگڑ جائیں یہ رعایت کم ہوتے ہوتے ایک روپے تک آ چکی ہے۔ اگرچہ رعایت کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا چنانچہ عوام کو اپنی مہربان حکومت سے پوری امید رکھنی چاہیے کہ شائد انہیں ایک روپے کے لگ بھگ کی رعایت بھی میسر نہ آ سکے۔
ویسے تو اگر تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو سستی بجلی کا اصل فائدہ بھی بڑے بڑے گھروں ، فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان کو ہی ہو گا۔ اس لیے اگر وعدہ کے مطابق آٹھ روپے کی کمی بھی کر دی جائے تو شائد اس کے پیچھے سرمایہ داروں اور کارخانہ داروں کو فائدہ پہنچانا ہی ہو گا۔
الزام لگانے والے تو یہ بھی کہتے پھرتے ہیں کہ تمام تر دعووں اور وعدوں کے باوجود موجودہ حکومت عملی طور پر نہ تو اب تک اپنے عوام کو کسی بھی طرح کی معاشی ریلیف دے پائی ہے اور نہ ہی ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نظر آتے ہیں۔ ملک میں ایک طرف تو روزگار کے مواقعے سکڑتے جا رہے ہیں تو دوسری طرف سرکاری اور نجی شعبے کے کارکنوں کی تنخواہوں میں معقول حد تک اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ لاکھوں بچے سکول جانے جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں اور جنہیں کسی نہ کسی طور یہ حق میسر ہے بھی انہیں دستیاب نصاب اور دیگر سہولیات کسی بھی طور ایسی نہیں ہیں جو طالبعموں کو بین الاقوامی سطح پر تیار کر سکیں۔
صحت کا شعبہ بھی بنیادی اصولوں اور نگہداشت کی کمی سے دوچار ہے۔ سرکاری اسپتال ایک تو انتہائی کمیاب ہیں دوسرا ان میں ڈاکٹروں، عملہ اور دستیاب ادویات کی شدید کمی رہتی ہے اور تیسرایہاں اس قدر بھیڑ ہوتی ہے کہ ڈ اکٹر چاہتے ہوئے بھی مریضوں کو بھر پور توجہ نہیں دے سکتے۔ مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے اراکین پارلیمنٹ یا ٹاپ بیوروکریسی کو تو بیرون ملک تک میں علاج سرکاری خرچ پرمیسر ہے۔
سرکاری ملازمین کو چاہیے کہ وہ خواہ مخواہ اپنی تنخواہوں یا پینشن میں اضافے یا حکومت کی جانب سے کسی بھی اور قسم کے ریلیف کی توقع رکھنے کے بجائے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے اتفاق رائے اور اپنے محبوب وزیر اعظم کی تقریروں میں اپنی تعریف کو انجوائے کریں۔ رہی بات ان کو درپیش بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، ان کی محرومیوں اور ان کو میسر نامناسب حالات کی تو اس پر کسی اور وقت بھی غور کیا جاسکتا ہے۔