Wed, September 16, 2026

سب کوعیدمبارک

سب کوعیدمبارک

مہینہ بھررحمتوں اوربرکتوں کی بارش کے بعدماہ رمضان ایک بارپھرہم سے سال کے لئے رخصت ہو رہاہے ۔ماہ مقدس کے اختتام یارخصتی کے ساتھ انعام،اکرام اورتحفے کاوقت بھی تقریباً قریب آپہنچاہے۔یہ الفاظ اورکالم جس وقت آپ پڑھ رہے ہوں گے اس وقت پورے ملک میں عیدکی تیاریاں زوروشورسے جاری ہوں گی کیونکہ آج وطن عزیزمیںانتیس واں روزہ ہے جس کے بارے میں نہ صرف غالب گمان بلکہ ماہرین فلکیات اور موسمیات سمیت اکثریت کویہ یقین بھی ہے کہ آج آخری روزہ اورکل ملک میں عید ہے۔ عید کا چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کااجلاس آج ہو گا اور رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق ملک میں عید یا تیسویں روزے کا فیصلہ ہوگا۔باالفرض آج اگرچاندنظرنہیں آیاتوپرسوں ہرحال میں عید ہو گی کیونکہ تیس روزے مکمل ہونے کے بعدپھرکسی اعلان اورفیصلے کا انتظار باقی نہیں رہتا، بچوں کوہی سب سے زیادہ عید کا انتظار رہتاہے،ہم بھی جب چھوٹے تھے تو عید کا اسی طرح بے تابی کے ساتھ انتظار کرتے، اب اس بارجس طرح ماہرین فلکیات کی پشین گوئیوں کی روشنی میں ذہن سا بن چکا ہے کہ اس بار انتیس روزے اورپیروالے دن عیدہوگی،بچوں کااس طرح ذہن بننے کے بعدجب اس دن عید نہیں ہوتی تو پھر بچوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے، حالانکہ ایک دن پہلے یابعدمیں عیدہونے سے کوئی پہاڑ گرتا ہے اور نہ کوئی قیامت آتی ہے لیکن بس بچوں کا پھر ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ عید آج کیوں نہیں ہوئی۔ خیربچوں کاذکرتوہوگیااب کچھ ذکرخیر بڑوں کی بھی کرتے ہیں کیونکہ عیدکے معاملے میں بڑے بھی تو بچوں سے کچھ کم نہیں ہوتے،عیدکواس قدرانجوائے بچے نہیں کرتے جتنے یہ بڑے اس سے لطف اندوزہوتے ہیں اورویسے بڑوں کوعیدمیں مگن ہونابھی چاہئیے کیونکہ عیدیہ رب کی طرف سے اپنے بندوں بالخصوص روزہ داروں کے لئے انعام،اکرام اور تحفے کاایک بہت بڑادن ہے۔دنیاکے لوگوں سے ملنے والے چھوٹے چھوٹے انعامات پرانسان کتناخوش ہوتا ہے۔ پھر انعام اوراکرام اگراس رب کی طرف سے ہوجس کے قبضہ قدرت میں نہ صرف ہماری بلکہ پوری کائنات کی جان ہے خوداندازہ لگائیں کہ اس رب کی جانب سے ملنے والے انعام و اکرام پر انسان کتنا خوش ہوتا ہو گا۔؟ اللہ نے عید والے دن میں قدرتی طور پر اتنی کشش، خوشی اور اتنا سکون اس لئے رکھاہے کہ یہ رب کی طرف سے انعام ہے،اسی وجہ سے اس دن مردوعورت،بچے وجوان مطلب چھوٹے بڑے سب اتنے خوش، ہشاش بشاش ہوتے ہیں کہ سب کے چہرے دور سے کھلکھلا رہے ہوتے ہیں۔ عیداصل میں اجر و ثواب والا دن ہے، قیامت والے دن یہی اجر و ثواب توکام آئیں گے۔روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے،دنیامیں تورمضان کے انوارات وبرکات اپنی جگہ پرہیں اوریہ عیدبھی اصل میں رمضان کی برکت سے ہے لیکن رمضان اور روزوں کا اصل بدلہ بندے کو حساب اور کتاب والے اس دن ملے گاجس دن حساب وکتاب کے ڈرسے ہر بندہ اور ہر انسان غم و فکر، پریشانی، مایوسی اور پسینے میں اس طرح ڈوبا ہوا ہو گا کہ وہاں ہر انسان و بندے کو ایک ایک نیکی کی تلاش و فکر ہو گی۔اللہ کرے کہ یہ رمضان اوریہ روزے ہمارے اس دن کے لئے شفاعت، سفارش اور نجات کا ذریعہ بنیں۔ زندگی یہ ویسے بھی موت کی امانت ہے،ہم سب کوبارباراللہ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ اس رب نے زندگی میں ایک بارپھر ہمیں رمضان المبارک کے ذریعے آخرت کے لئے کچھ کمانے کاموقع دیا۔ دعاہے اللہ آئندہ اور آگے بھی باربارہمیں اجروثواب کمانے کے ایسے مواقع دیں۔اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے اس بابرکت اوراہم موقع سے فائدہ اٹھانے اوراس مہینے کے انوارات و برکات سے مستفید ہونے کی دعا فرمایا کرتے تھے۔ عید کی خوشی اس لئے نہیں کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو گیا یا گزر گیا اور ہم روزے رکھنے، بھوک وپیاس کی قیدسے آزادہوگئے بلکہ عیدکی یہ خوشی اس لئے ہے کہ ہمارے رحیم وکریم رب نے ہمیں رمضان کے اس بابرکت مہینے میں ثواب پرثواب کمانے کی ہمت او رتوفیق دی۔ یہ مواقع قسمت اورنصیب والوں کو ہی ملتے ہیں۔ روزے رکھنایہ بھی ہرانسان ومسلمان کے بس کی بات نہیں۔آپ نے اپنے آس پاس اور قرب و جوار میں ایسے کئی لوگ دیکھے ہوں گے جواس دنیامیں موجودہونے کے باوجودرمضان کے انوارات وبرکات سے مستفیدنہ ہوسکے۔اس لئے اللہ نے اگراس مبارک مہینے میں ہمیں آخرت کے لئے کچھ کمانے کاموقع دیاتویہ عیدہمیں اللہ کے اس فضل، کرم اور رحم پر شکر بجا لانے کے لئے ہے۔ عید کے دن ہماری خوشی اس لئے ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے قبول کیا۔ایک منٹ کے لئے سوچئے کہ ہم دنیامیں نہ ہوتے،بیمارہوتے یا روزے رکھنے اوراس مبارک مہینے میں عبادت کرنے کی ہمت اورسکت سے محروم رہتے توپھرہم کیا کر سکتے تھے۔؟ انسان تو حد سے بھی زیادہ کمزور ہے، اپنے طورپرتواس میں ایک گھنٹے تک بھی کچھ کھانے اورپینے سے بازرہنے کی ہمت اورطاقت نہیں یہ توفقط اللہ کی عطاء اوردین ہے کہ وہ انسان کواپنی محبت اوربندگی میں بارہ اورتیرہ گھنٹوں تک کچھ نہ کھانے اورنہ پینے کی ہمت وطاقت عطاء کر دیتا ہے۔ پورے مہینے روزے رکھنا، ذکر و اذکار اور عبادت کرنایہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اسی وجہ سے تواس ماہ مبارک کے اختتام پراگلے مہینے یعنی شوال کاپہلاہی دن عیدیعنی خوشی،مسرت اورجشن منانے کے لئے مقرر ہے۔ رمضان کامہینہ تومبارک تھاہی لیکن وہ لوگ بھی بڑے مبارک اورخوش قسمت ہیں جنہیں برکتوں اور رحمتوں والایہ مہینہ نصیب ہوا۔ اللہ ایسے ہزارہا مبارک مہینے اورلاکھوں دن ہمیں نصیب کرے اورخداکرے کہ ایسے بابرکت مہینوں اورقبولیت والی گھڑیوں کی برکت سے نہ صرف ہردن اورصبح ہمارے لئے مبارک ومحترم ہوبلکہ ہردن اورہررات اس ملک وقوم کیلئے بھی عیدہو۔

ٹیگز: