اسلام آباد: سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارت ایک طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث خود قانون شکن بن چکا ہے۔
حنا ربانی کھر نے اپنے بیان میں کہا کہ کوئی بھی ملک کھلے عام ایک پوری تہذیب کو ختم کرنے کے عزائم کا اظہار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کرنے کا خواہشمند ملک عالمی معاہدوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق کہا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنا عالمی قانون کے مطابق ممکن نہیں، جبکہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کا منفی طرز عمل خطے میں تعلقات کی بہتری کی کوششوں میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کو عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی اجازت دی گئی تو یہ پورے عالمی قانونی نظام کے لیے خطرناک مثال بن جائے گی۔