پاکستان میں سیاستدانوں کی لانچنگ، ری لانچنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نواز شریف تک اور دیگر قومی و علاقائی یا دوسرے لفظوں میں نیشنلسٹ سیاسی جماعتوں سمیت مذہبی جماعتوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت ہیں۔ بلکہ بڑی قومی سیاسی جماعتوں کی نسبت نیشنلسٹ اور مذہبی جماعتوں نے ”جی حضوری“ کی اعلیٰ مثالیں قائم کر رکھی ہیں۔ یہ علاقائی اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم رہی ہیں اور ”کرنے والی سرکار“ نے ان جماعتوں اور مذہبی جتھوں کو مکمل تعاون کے ساتھ ہر طرح سے سنبھالا بھی۔ فیض آباد دھرنا اس کی بہتریں مثال ہے۔ ایوب خان کو ڈیڈی کہنے سے مرد حق ضیاء الحق پھر مشرف کو وردی میں 10 مرتبہ صدر بنانے کے دعوے اور ایم ایم اے کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ناجائز حکومت دینے تک ایک تاریخ ہے جو ”حاضر میرے آقا“ کی گردان ہے۔ یہاں تک کہ تمام سیاسی جماعتوں میں کوٹہ بیس پر کچھ پیرا شوٹرز ہوتے ہیں جو ہر وقت ”حاضر میرے آقا“ کہنے کو ہاتھ باندھے نظریں جھکائے کھڑے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی یہ مجبوری ہے یا اسٹیبلشمنٹ کی قربت کیلیے ایسے لوگوں کو اپنے سیاسی کارکنان پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اور یہی لوگ پھر تخت اور تختے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ سب اندرونی طور پر سیاستدانوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کیلیے ہوتا رہا، ہو رہا ہے اور شاید ہوتا رہے گا۔ تاہم عمران خان کے حوالے سے یہ کیس اس لیے بھی الگ حیثیت رکھتا ہے کہ عمران کو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ”مہرہ خاص“ کے طور پر 40 سال پہلے نامزد کیا اور پھر دنیا بھر میں اسے اپنے بغل بچہ کے طور پر متعارف کرایا۔ خان چونکہ شباب کباب کا رسیا تھا چنانچہ ان کیلیے آسان ہوگیا کہ ایسے شخص کو قابو کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ خان کی زندگی ایک پلے بوائے کی تصویر تھی چنانچہ 90 کی دہائی سے پراجیکٹ عمران خان کو باقاعدہ طور پر لانچ کیا گیا۔ اس بارے شہید حکیم سعید صاحب اور ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی پیشنگوئی جو سالہا سال قبل کی گئی تھی وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی گولڈ سمتھ خاندان کے داماد عمران خان نے اپنے سسرال اسرائیل کا ایجنڈا مکمل کرنے کیلیئے پاکستان کی اساس کو ہلاکر رکھ دیا۔ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو شدید ضرب لگائی اور خاندانی تشخص تک برباد کر کے رکھ دیا۔ عمران خان بین الاقوامی پراجیکٹ تھا اور ہے جسے ہماری فوج کے ایک مخصوص حلقے نے پروان چڑھایا۔ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات تو ہے نہیں کہ جنرل ظہیر الاسلام کا بیان ریکارڈ پر ہے پھر جنرل پاشا کی حکمت عملی، باجوہ رجیم کی مجموعی کارکردگی اور بالخصوص جنرل فیض حمید اور منتخب وزیراعظم کے بیان پر ”ری جیکٹڈ“ کہنے والے قوم یوتھ کے نمائندے آصف غفور نے پراجیکٹ عمران خان یعنی گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی کا حق ادا کر دیا۔ پراجیکٹ گولڈ سمتھ لمٹڈ کی کامیابی کیلیے فیض حمید کے ساتھ اس وقت کے عدالتی غنڈوں جن میں گڈ ٹو سی یو والے ججز سمیت میڈیا مالکان شامل تھے چنانچہ پراجیکٹ عمران کو وہ پروجیکشن ملی کہ سادہ لوح لوگوں نے اسے اپنا مسیحا سمجھ لیا۔ یہ دجالی پیروکار گولڈ سمتھ کی اعلیٰ کارکردگی ہی شمار ہوگی کہ انہوں نے پراجیکٹ عمران کو بام عروج پر پہنچا دیا تھا۔ اسرائیل اور گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی کے اہم مقاصد یہی تھے کہ وہ پاکستان کا قومی تشخص برباد کریں، پاکستان کی مضبوط فوج کا اتحاد و اتفاق پارہ پارہ کر دیں، حساس فوجی تنصیبات کی نگرانی، ایٹمی پروگرام کو رول بیک، کشمیر بھارت کے حوالے کرنا، صوبہ خیبرپختونخوا میں افراتفری اور بلوچستان کو باقاعدہ شورش زدہ قرار دیں۔ یہ پراجیکٹ عمران گولڈ سمتھ لمیٹڈ کا ٹارگٹ تھا چنانچہ اسرائیل اس میں بھاری کامیابی حاصل کر چکا تھا کہ اللہ پاک نے پراجیکٹ عمران خان گولڈ سمتھ لمٹڈ کی ترکیب اور پلاننگ الٹا دی یہ کمپنی 2030 تک اپنے تمام ٹارگٹ حاصل کر کے مکمل طور پر پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر گولڈ سمتھ لمٹڈ کمپنی کی پلاننگ کو اللہ پاک کی حکمت نے ایسا الٹایا کہ پلک جھپکتے ہی پراجیکٹ عمران خان کا شیرازہ بکھر گیا اور پھر فوج کے اندر سے فیلڈ حافظ سید عاصم منیر کی صورت ایک ایسا غازی نکلا جس نے پراجیکٹ عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ حافظ سید عاصم منیر نے اسرائیل سپانسر عمران خان پراجیکٹ کو اپنے بوٹوں سے روندنے کے بعد اس کی باقیات کو اس پاک سر زمین سے غلاظت کی صورت پاک کیا اور پھر اسرائیل کے مذموم عزائم میں شامل بھارت کو عبرت ناک شکست دی۔ حافظ سید عاصم منیر کو اللہ پاک نے دنیا کیلیے امن کا داعی بنایا اور اس وقت وہ شخص جسے پراجیکٹ عمران خان گولڈ سمتھ لمٹڈ چیف بننے سے روک رہا تھا وہ دنیا میں سب سے اہم اور نمایاں شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسرائیل اور گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی پراجیکٹ عمران خان کو اپنا سب سے مہنگا اور لازوال پراجیکٹ کہتی ہے۔ اعلانیہ پراجیکٹ عمران کی حمایت کی جاتی ہے اور اس وقت بین الاقوامی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شکست خوردہ مہرے کی بازیابی یا رہائی کیلیئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ ساری دنیا میں کروڑوں ڈالر کے عوض لابنگ کی جا رہی ہے یہاں تک کہ کھیل جیسے غیر سیاسی، مذہبی اور رنگ و نسل سے پاک میدانوں کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے۔ گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی نے اپنے نواسوں یعنی عمران خان کے بیٹوں کو تیسری مرتبہ لانچ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہوئے۔ قاسم اور سلمان کو کبھی امریکہ، کبھی اقوام متحدہ اور کبھی لارڈز گراؤنڈ میں بھاری بھرکم رقم کے عوض لانچ کر کے دنیا میں اپنا مؤقف رکھنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی خودمختاری کو چیلینج کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا واضح مطالبہ ہے جس کا اظہار اسرائیلی اخبارات جیسے دی یروشلم پوسٹ اور ٹائمز آف اسرائیل میں کچھ تجزیاتی مضامین شائع ہوا ہے۔ ان مضامین میں یہ رائے ظاہر کی گئی تھی کہ عمران خان پاکستان کے ایسے مقبول لیڈر ہیں جو روایتی سوچ سے ہٹ کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جولائی 2023 میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کے نمائندے نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بالخصوص 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ حالانکہ واضح رہے کہ اسرائیل اور پاکستان کے سفارتی تعلقات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں تاہم اسرائیل کو اپنا پراجیکٹ ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کا پراجیکٹ عمران خان بارے ایک ہی موقف ہے۔ اب پراجیکٹ عمران خان کی ناکامی دیکھتے ہوئے اسرائیل اور گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔ وہ عمران خان کے بیٹوں کو کھیل کے میدان میں بھی اتارنے سے نہیں کترا رہے۔ دوسری طرف قاسم اور سلمان زمینی حقائق سے مکمل نا آشنا ہیں وہ حقائق کے منافی گفتگو کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی سگی پھپھی ان کے والد کی صحت بارے میڈیا پر ناقابل تدید بیان دے چکی ہیں کہ ان کے بھائی نہ صرف مکمل صحتیاب ہیں بلکہ پہلے سے بھی بہتر اور فٹ نظر آ رہے ہیں۔ قید تنہائی کا بیانیہ بھی مکمل جھوٹ پر مبنی ہے 4 مشقتی، لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں ڈاکٹرز روزانہ تین بار عمران خان کا معائنہ کرتے ہیں۔ ان کی بیگم بشریٰ مانیکا سے اب تک مکمل تخلیے میں 90 سے زیادہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ بہنوں سے ملاقات ہوتی ہے وکلا ملے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی اور پراجیکٹ گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی کا دکھ یہ ہے کہ ”گڈ ٹو سی یو“ والا پروٹوکول ملے۔ اڈیالہ جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کا دفتر ڈکلیئر کر دیا جائے جہاں دن میں دو دو بار سیاسی اجلاس ہوں۔ یہ وہ بات ہے جس کا دکھ تحریک انصاف سے اسرائیل تک محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس وقت اسرائیل اور گولڈ سمتھ لمیٹڈ کمپنی کی چیخیں اس لیے بھی نکل رہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں یہ طے ہوگیا یے کہ اب 9 مئی کیس کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونے جا رہا ہے۔ سنگین بغاوت، فوجی تنصیبات پر حملہ، غداری جیسے ناقابلِ معافی جرائم کا ٹرائل ہو گا اور اہم بات یہ ہے کہ تمام شواہد موجود ہیں۔ مجرم اور اس کے عزیزوں کو علم ہے کہ 9 مئی میں مجرم نہ صرف مکمل طور پر ملوث ہے بلکہ اس ساری پلاننگ کا سرغنہ بھی ہے۔ اس لیے اب چیخ و پکار زور و شور سے ہو گی۔ سہیل خان آفریدی کی گفتگو میں تند و تیزی اور اسلام آباد پر چڑھائی بھی 9 مئی کے کیسز کو روکنے کیلیے ہے کیونکہ 9 مئی میں ناقابلِ یقین حد تک ایسے شواہد موجود ہیں جن کی روشنی میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل اور تختہ دار کی راہ نکلتی ہے۔ یقیناً 9 مئی ایک ناقابلِ معافی جرم ہے اگر اس حوالے سے کوئی نرمی برتی جاتی ہے تو پھر اس بات کا بھی یقین رکھنا چاہئے کہ سہیل آفریدی دوسری بار 9 مئی کی طرز پر ریاست اور ریاستی اداروں پر اپنے جتھوں، بلوائیوں اور ٹی ٹی پی کے ساتھ حملہ آور ہو گا۔