یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جنگ محض فوجیں نہیں بلکہ قومیں لڑتی ہیں دنیا کی موجودہ اور قدیم تاریخ بتاتی ہے کہ بیرونی حملہ آوروں کو وہاں ہزیمت خیز شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں قومیں اپنی فوجوں کے پیچھے اور شانہ بشانہ کھڑی رہیں یہاں اکثریت میں ہونے کے باوجود حملہ آوروں کے دانت کھٹے ہوئے اور انہیں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد واپسی کی راہ لینا پڑی۔ ویت نام کی جنگ بھلا کسے یاد نہیں۔ اپنے سے کئی گنا بڑے ملک اور فوج کا سامنا جو کہ موجودہ انسانی تاریخ میں سب سے مہلک ہتھیار بھی رکھتی تھی ایک ایسی قوم سے پڑا جس نے اپنی جرأت و شجاعت اور استقلال کے باعث امریکیوں کا وہ حال کیا کہ وہ وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔
اس جنگ میں ویتنامی فوج تھوڑے ہی عرصے میں ڈھیر ہو چکی تھی تاہم ویت نامی قوم اپنے ملک کے دفاع میں پرعزم رہی اور ہر طرح کی قربانیاں دے کر اگلے کئی سال اس جنگ کو لڑا۔ غالباً یہی وجوہات تھیں جس سے گھبرا کر امریکہ نے دوبارہ ویتنام کی طرف رخ نہ کیا۔ بعد ازاں امریکہ اور اس کے حواریوں(نیٹو) نے آنے والے دنوں میں جو پالیسی اپنائی اس کا اظہار ہم خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں دیکھتے ہیں جہاں براہ راست حملہ کرنے سے اجتناب کیا گیا۔ یہاں یا تو مسلم ممالک باہم دست و گریباں کر کے ان کی قوت کو کمزور کیا گیا اور یاپھر ان ممالک میں خانہ جنگی کرا کر انہیں تباہ و برباد کیا گیا۔عراق، شام،یمن اور لیبیا جیسے ممالک اس کی واضح مثال ہے جہاں آج بھی انسانی خون ارزاں ، معیشت تباہ حال اور امن و سکون ایک خواب بن چکا ہے۔ ان ممالک کے عوام کو آزادی دلانے کے نام پر بدامنی کے جہنم میں دھکیل دیا گیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی
جنگ کے بادلوں میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ نئی دلی کی جانب سے خود ساختہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور جنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں وہ اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ خطے میں گریٹ گیم ایک نیا رخ لینے کو ہے۔ بھارتی لیڈرشپ کا پاگل پن اور عاقبت نا اندیشی دونوں ممالک کے عوام کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جو ان کے لیے کسی جہنم سے کم نہیں ہوگی۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں۔ اس امر کا تعین کرنا یقیناً مشکل ہے کہ اگر لڑائی شروع ہوتی ہے تو وہ کب تک روایتی جنگ تک ہی محدود رہے گی اور ایٹمی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف واضح کر چکے ہیں کہ اگر پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں پاکستان کی عسکری لیڈرشپ ہو یا پھر سول لیڈرشپ ، دونوں ایک پیج پر نظر آتے ہیں اور اس وقت بھارتی جنگی جنون کے جواب میں جو طرز عمل اختیار کیا گیا ہے وہ مناسب موزوں اور بروقت ہے۔ بھارتی لیڈرشپ غالباً اس خوش فہمی کا شکار کہ وہ ایک بڑی طاقت ہے اور وہ جیسے چاہے گی پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو ڈکٹیٹ کرلے گی۔بھارت شاید یہ بھول گیا ہے پاکستان میں اس وقت اس کا جس لیڈرشپ سے سامنا ہے اس میں سر فہرست آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہیں جو ایک مضبوط اعصاب کے مالک ، قائدانہ صلاحیت اور پروفیشنل ہنر مندی سے مالا مال اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک بے خوف اور وطن کی محبت میں سرشار شخص ہیں۔بھارت نے اگر کوئی مس ایڈونچر کیا تو وہ تگنی کا ناچ ناچنے پر مجبور ہو گا پاکستان کی جانب سے جواب بھرپور ،سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔ یہاں تھوڑا گریٹ گیم کو بھی سمجھنا ضروری ہے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مغربی سرحد کی جانب سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 71 خوارج کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت اس امر کا عندیہ دیتی ہے کہ بھارت اگر کوئی مس ایڈونچر کرتا ہے تو اس میں افغانستان بھی اس کا ساتھ دے گا۔ ایسے میں ایران کے علاقے بندر عباس میں ہونے والے مبینہ دہشت گردی اور اس سے قبل ایران ہی کے ایک علاقے میں پاکستانیوں کی دہشت گردی کے واقعہ میں شہادت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان دشمن قوتیں ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات خراب کرا نا چاہتی ہیں تا کہ پاکستان کو ہر طرف سے گھیرا جا سکے۔ چین کی جانب سے یہ واضح اعلان کہ اگر پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ پاکستان پر حملہ گویا چین پر ہی حملہ ہوگا کیونکہ اس وقت چینی معیشت کی شہ رگ پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈور پاکستان سے ہی گزرتا ہے۔ اس گریٹ گیم کے دو بڑے مقاصد نظر آتے ہیں اور اس میں یقینا بھارت امریکہ اور اسرائیل کی شیطانی ملی بھگت نظر آتی ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی بھی صورت میں پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے اور دوسرا گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی راہ میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کو اس کی تکمیل سے قبل اپنے گھٹنوں پر کرنا ہے تاکہ وہ کوئی مشکل نہ کھڑی کر سکے۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے پاکستانی قوم ملک کے دفاع اور سالمیت کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے ۔ تا ہم ایسے وقت میں قوم کی اکثریت دو وقت کی روٹی اور جسم روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ایک جبر مسلسل میں مبتلا ہے مہنگائی اور بے روزگاری کے تازیانے اس کی ننگی پیٹھ پر 24 گھنٹے برسائے جاتے ہیں۔ ملک کے اختیار و اقتدار اور وسائل کے سوتوں کا رخ ملک کی دو فیصد حکمران اشرافیہ کی جانب ہے سوال یہ ہے کہ اگر جنگ طوالت پکڑتی ہے تو ایسے میں ایک مفلوک الحال قوم کیسے یہ جنگ لڑ سکے گی۔