لاہور : وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کی تشکیل سے قبل ہی وزارتوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق اچھی وزارتوں کے لیے ایک ارب سے 70 کروڑ روپے تک کے نرخ طے کیے جا رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "جو لوگ پیسے دے کر وزیر بنیں گے، ان سے دیانت داری کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟" ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع کیے جاتے ہیں جبکہ حصے بانٹنے کی بولیاں پہلے لگتی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 40 ارب روپے کا کوہستان کرپشن اسکینڈل اس طرزِ حکمرانی کی واضح مثال ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صرف ایک سال میں 80 ترقیاتی منصوبے شروع کیے، اور آج تک کسی ایک منصوبے پر بھی کرپشن یا بے ضابطگی کا الزام سامنے نہیں آیا۔