Wed, September 16, 2026

مودی، بھارت کا گورباچوف

مودی، بھارت کا گورباچوف

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات، جیسے کہ "آپریشن سندور موخر ہوا ہے ختم نہیں" ، "پاکستانی عوام روٹی کھائے ورنہ میری گولی تو ہے ہی"، " سیماں پار گھس کر ماریں گے" وغیرہ ایک بار پھر نہ صرف بھارت کی جارحانہ اور تنگ سوچ کی عکاسی کر رہے ہیں بلکہ کسی بھی وقت بھارت کی جانب سے دوبارہ مہم جوئی کا پیغام بھی دے رہے ہیں۔ وہیں عوامی سطح پہ ایسے بیانات پاکستان کے خلاف دشمنی کی فضا کو اور ہوا دے رہے ہیں۔ مودی کے ان بیانات کے بعد مقامی و بین الاقوامی تجزیہ نگاروں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا مودی حکومت اپنی خفت مٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف ایک اور فوجی مہم جوئی کی تیاری کر رہی ہے؟ کیا یہ بیانات محض انتخابی مفادات کے لیے ہیں یا حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی مرکز (راشٹریہ سیوک سنگھ) آر ایس ایس کی جانب سے دباو¿ کا نتیجہ ہیں؟ یہیں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اگر بھارت ایک بار پھر حملہ کرتا ہے تو پھر پاکستان کا ردعمل کتنا شدید ہوگا؟ ۔
مودی کے یہ بیان ا±س وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت کی کئی ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں۔ تاریخی طور پر، کئی بھارتی رہنماﺅں بالخصوص بی جے پی لیڈران نے پاکستان کے خلاف جنگی بیانات کو ہمیشہ اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ 2019 کے پلوامہ حملے اور بعد میں بھارت کی طرف سے بالاکوٹ ایئر سٹرائیک کے بعد مودی کی مقبولیت میں یک دم اضافہ ہوا تھا اور پاکستان کی جوابی کارروائی میں دو طیارے مار گرائے جانے اور پائلٹ کے پکڑے جانے کے باوجود بی جے پی الیکشن جیت گئی تھی۔ 
اب جب کہ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان کی طرف سے بھرپور جواب کے باعث بھارتی عوام میں بے چینی ہے، بھارتی دفاعی صنعت اور معیشت مشکلات کا شکار ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، کسانوں کے احتجاج جاری ہیں، کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں اور بھارتی حکمرانوں کو اقلیتوں کے خلاف مظالم پہ دنیا بھر میں سخت تنقید کا سامنا بھی ہے۔ تو ایسے حالات میں بھی مودی ایک بار پھر پاکستان کارڈ کھیل رہا ہے۔ اس کے بیانات سے 
واضح ہے کہ وہ اپنی عوامی حمایت بڑھانے کے لیے جنگ کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن کیا یہ محض انتخابی نعرے ہیں یا واقعی بھارت ایک اور فوجی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟۔ 
مئی2025 میں، بھارت نے پاکستان پر فضائیہ کے ذریعے میزائل حملہ کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے " بھارت کیخلاف برسر پیکار مجاہدین کے تربیتی کیمپ" کو نشانہ بنایا ہے لیکن وہ در حقیقت مساجد اور مدرسے تھے۔ اسکے جواب میں پاکستانی فوج اور فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس تین روزہ جنگ میں نا صرف 6 بھارتی طیارے مار گرائے بلکہ 27 فوجی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے انہیں ناقابل استعمال بنا دیا۔ اس شکست نے بھارت کے بین الاقوامی سطح پر بنے بڑی طاقت کے بھرم کو ختم کر دیا بلکہ یہ مہم عالمی سطح پہ اسکی جگ ہنسائی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ 
اس جنگ میں بھارت کے دفاع کے ضامن روس سے خریدے گئے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم جسے دنیا کا سب سے طاقتور فضائی دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اسے پاکستان کے ایم 400 اور فتح ٹو ہائپر سونک میزائلوں نے تباہ کر کے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت S-400 جیسے جدید سسٹم کو بھی بے اثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کل 6 جنگی طیارے تباہ کئے گئے جن میں 4 بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد ان طیاروں کی جنگ میں کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اور اسی طیارے کو لیکر اس وقت بھارت اور فرانس ایک دوسرے پہ الزام لگا رہے ہیں۔ 
ان تمام ناکامیوں کے باوجود، اگر مودی ایک بار پھر جنگ کی بات کر رہا ہے تو اس کی ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں: پہلے تو مودی اپنی پارٹی بی جے پی کو مضبوط کرنے اور الیکشن میں کامیاب کرانے کے لیے قوم پرستی کی لہر جگانا چاہ رہا ہے۔ دوسرا چین، بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعات، ہمسایہ ممالک میں مسلسل دہشتگردی کو ہوا دینے اور اس ضمن میں بڑھتے ہوئے انٹرنیشنل پریشر اور درپیش گمبھیر اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی پاکستان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ 
تیسری وجہ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) بھارت کی ایک انتہا پسند ہندو تنظیم ہے جو بی جے پی کی پشت پر کام کرتی ہے۔ یہ گروہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی کا حامی رہا ہے۔ کئی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آر ایس ایس مودی حکومت پر غیر ضروری دباو¿ ڈالتی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ورنہ وہ اسے اقتدار سے الگ کر دے گی۔ 
اب اگر مودی واقعی آر ایس ایس کے دباو¿ میں ایک اور فوجی حملے کی تیاری کر رہا ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی پہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے سے نہ پہلے کبھی پیچھے ہٹا ہے اور نہ اب ہٹے گا یقینی طور پہ پاکستان اپنے دفاع کے لئے اب پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہو گا۔ 
لہٰذا اگر بھارت ایک بار پھر جارحیت کرتا ہے تو پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ اپنا جواب صرف روایتی یا فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رکھے گا، بلکہ بھارت کی فوجی تنصیبات سمیت اس کی اقتصادی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا۔ پاکستان دفاعی ٹارگٹس کے علاوہ بھارت کے اہم تجارتی مراکز، بندرگاہوں اور صنعتی زونز کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کرے گا اور اس سے بھارتی معیشت کو اس قدر نقصان پہنچے گا کہ دوبارہ دنیا کی بڑی اکانومی بننا صرف خواب رہ جائیگا۔ 
 یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر بھارت پاکستان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان پوری قوت سے جوابی حملہ کرے گا۔ کیونکہ پاکستان نے سیکنڈ سٹرائیک کی صلاحیت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس جدید سائبر وارفیئر یونٹس ہیں جو ایک دفعہ پھر بھارت کے مواصلاتی نظام کو نشانہ بنا کر اسے شدید نقصان پہنچانے ہوئے بیکار بنا سکتے ہیں۔ 
مودی کے جنگی بیانات چاہے سیاسی مفاد کے لیے ہوں یا آر ایس ایس کے دباو¿ کے تحت، ایک بات واضح ہے کہ جنگ دونوں ممالک کے لیے تباہی لائے گی۔ بھارت اگر ایک اور غلطی کرتا ہے تو اس کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب ہر محاذ پر دیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی جارحانہ پالیسی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ صرف علاقائی ہی نہیں دنیا کی مکمل تباہی کا سامان ثابت ہو گی۔

ٹیگز: