Wed, September 16, 2026

غزہ کا المیہ

غزہ کا المیہ


احمد حسین مجاہد کا شمار وطن عزیز کے نامور ادباءمیں ہوتا ہے ‘ کچھ عرصہ قبل انہوں نے غزہ کی صورتحال پر ایک پُر سوز تحریر لکھی جس کا ایک ایک لفظ دل پر اثر کرتا چلا گیا ۔ فلسطین کی صورتحال پران کی دلگداز یہ تحریر جب پڑھتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور سوچتا ہوں کہ امت مسلمہ اتنی طاقتور ہو کر بھی اتنی مجبور کیوں ہے کہ اہل غزہ کیلئے موثر آواز اٹھا نہیں پا رہی۔ ذیل میں احمد حسین مجاہد کی تحریر کے چند اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ اہل قلم غزہ کی حالیہ صورتحال میں کس کرب سے گزر رہے ہیں۔
پچھلے کئی دنوں سے مجھے ابوذر کا یہ شعر رہ رہ کر یاد آرہا ہے:
کچھ باتوں پر کھل کر رونا پڑتا ہے
کچھ صدمے صحراو¿ں جیسے ہوتے ہیں
میں ایک ایسے ہی صدمے سے دو چار ہوں جو تپتے صحراجیسا ہے۔صحرا جس میں دور تک کوئی شجر ہے نہ چشمہ،کوئی آدمی ہے نہ کوئی سایہ،ہوا کا کوئی ٹھنڈا جھونکا ہے نہ آسمان پر کوئی ابر پارہ۔بس ایک صحرا ہے جس کی وسعتوں میں ،میں اکیلا صبح سے شام تک بھٹکتا ہوں ،رات آنکھوں میں کاٹ دیتا ہوں مگر کوئی ایسا راستہ سجھائی نہیں دیتا جو مجھے اس وحشت بھرے صحرا سے باہر لے جائے۔مجھے اگر یہی صحرا درپیش ہوتا تو شاید میں اتنا عاجز نہ آتا لیکن واقعہ یہ ہے کہ دن رات مجھے طرح طرح کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں ۔چاروں طرف سے آنے والی یہ آوازیں مجھے بہت بے چین کر دیتی ہیں ۔کبھی کوئی بچہ چیختا ہے اور اس کے گالوں پر چمکتے آنسو میرے پورے بدن کو بے طرح بھڑکتے الاو¿ میں بدل دیتے ہیں۔کبھی کوئی جوان لڑکی دونوں بازو¿ں سے اپنے نیم برہنہ جسم کوچھپانے کی کوشش کرتے ہوئے بے بسی سے پکارتی ہے اور اس کی آواز صحرا میں گونجتی ہوئی میرے اندر اتر کر مرجھا جاتی ہے۔کبھی کوئی عورت سر پیٹتی ،ہجوم کو چیرتی ایک سمت بھاگتی ہے اور اپنے بچے کا نام لے لے کر اسے آوازیں دیتی ہے اور میں اس کی عورت کی آواز کا تعاقب کرتے ہوئے صحرائی ٹیلوں میں یہاں سے وہاں تک بھاگتا ہوں۔کبھی کوئی مرد اپنے معصوم بچے کی لاش اٹھائے دھاڑیں مار کر روتا ہے اور میں ریت پر اوندھا لیٹ کر اپنے آنسو و¿ں سے اس تپتے صحرا کو ٹھنڈا کرنے کی سعیِ ناکام کرتا ہوں۔ پھر مجھے گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے،تڑ تڑ تڑ تڑ ۔۔۔۔۔اور میری رگوں میں دوڑتا خون میری آنکھوں تک آجاتاہے۔کبھی کبھی مہلک اسلحے سے لدے جہاز میرے سر پر سے گزرتے ہیں اور دور کہیں کسی بستی کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیتے ہیں۔اِدھر اُدھر بھاگتے لوگوں کی چیخیں سنتے سنتے میں خود بھی ایک چیخ بن کر رہ گیا ہوں ۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اس تپتے صحرا میں ایک بچے کی آواز ابھری اور پھر ایسی لُو چلی کہ الامان و الحفیظ۔میں دیر تک یہ آواز سنتا رہا:
کہاں ہو تم ؟
مسلمانو! کہاں ہو تم؟
یہ ظالم جو ہمارے گھر میں گھس آئے ہیں 
ہم کو مار ڈالیں گے
ہماری حرمتیں پامال کر دیں گے
مسلمانو!
تمھیں اپنی تجارت کی پڑی ہے
تم ہمارے قاتلوں سے دوستی کرنے کے خواہاں ہو
ہمارے پاس کچھ بھی تو نہیں ہے
وہ غزہ میں پھر اکھٹے ہو رہے ہیں
تم کہاں ہو؟ اے مسلمانو! کہاں ہو تم؟
اس بچے کی آواز صحرا میں بھٹکتی رہی مگر اسے کوئی سننے والا نہ مل سکا ۔مجھے لگا جیسے ساری دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اور کہے،لبیک !لبیک! اے میرے بچے میں آ رہا ہوں ۔ہم جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ،یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کربلا صرف فلسطین کا مقدر ہے حالانکہ:
ہم اور آپ تو ہیں دشت ِ نینوا میں ابھی
کہ خیمہ زن ہے عدو ارض ِ انبیا میں ابھی
اس کربلا کا کوئی انت نہیں ۔یہ کربلا ہمارے ہر شہر کا مقدر ہے یہ صرف غزہ تک محدود نہیں۔وہ آگ جو اس فلسطین میں جل رہی ہے اس آگ کے شعلے فلسطین کی سرحدوں سے باہر نکلنے اور سب کچھ خاکستر کرنے کے درپے ہیں۔یہ ممکن نہیں کہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کا خون رائگاں چلا جائے :
اِ س میں جلیں گے شہر تمھارے بھی ایک دن
برسی ہے آگ جو مرے زیتون و تین پر
تاریکی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے،بے بسی ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی،فضا دھواں دھواں ہے ، سارے میں بارود کی بُو پھیلی ہوئی ہے ،نوحہ کناں ماو¿ں ،سینہ پیٹتی جوان بیواو¿ں،نالہ کرتے یتیم بچوں کی مجبور و مقہور آوازیں ہوتے ہوتے میری جان کو آ جاتی ہیں۔پھر بہت قریب سے مجھے ایک اور آواز سنائی دیتی ہے:
ومکرواومکراللہ واللہ خیر الماکرین
ترجمہ:اور انھوں نے خفیہ منصوبہ بنایا اور اللہ نے تدبیر فرمائی۔اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والاہے۔
اللہ کی تدبیر اٹل ہے ،جو وہ چاہے گا آخر وہی ہو گا۔کوئی چاہے کتنا ہی عیار کیوں نہ ہو، کوئی چاہے کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو ،مشیت ِ ایزدی کے سامنے اس کی ایک نہیں چلے گی۔
ستم یہ ہے کہ عین اس وقت جب اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر فضا سے آگ اور بارود برسا ہے اور اس کے ٹینک دہاڑتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں ،بیت المقدس خون میں نہایا ہوا ہے، اسرائیل کی پشت پہ کھڑے بنیادی انسانی حقوق کے علم بردار ساری اقدار فراموش کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور ہمارے اپنے بھی اسرائیل سے اظہار ِ محبت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔امن کی ہر کوشش اور ہر قرارداد پر امریکا خط ِ تنسیخ ہی نہیں کھینچ رہا بلکہ وہ اسرائیل کو مزید اسلحہ فروخت کر نے کا اعلان بھی کرچکا ہے۔یہ اعلان ہماری بے چارگی اور بے بسی پر وہ خندہ ¿ استحقار ہے جس سے ہمارے سینوں میں دراڑ پڑ رہی ہیں مگر ہم ایسے مصلحت پسند ہیں کہ ایک لفظ بھی منہ سے نکالنے کے روادار نہیں۔
ایک صحرا ہے جو یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا ہے ،ایک خاموشی ہے جو ختم ہی نہیں ہورہی۔اِدھر کشمیر اور اُدھر فلسطین جل رہا ہے،ہمارے باغ اجڑ رہے ہیں،ہمارے پھول مرجھا رہے ہیں،ہمارے خواب بکھر رہے ہیں۔شنکیاری (ہزارہ) کے محمد حنیف نے ایسے ہی کسی لمحے میں کہا تھا:
کسی نے آدھی رات کو مجھے جگا کے ہاتھ سے
کہا کہ پھول جھڑ گئے ہیں سب ہوا کے ہاتھ سے

ٹیگز: