ہر روز اخبارات کے صفحات، ٹیلی ویژن کی سکرینیں اور سوشل میڈیا کی خبروں میں ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی، خواتین پر تشدد، بچوں کا استحصال اور جنسی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ایک ایسا المیہ بن چکی ہے جس نے پورے معاشرے کو خوف، اضطراب اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب بھی کوئی اندوہناک واقعہ پیش آتا ہے تو عوام کا مطالبہ ہوتا ہے کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ بلاشبہ مجرم کو سزا ملنی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سزا دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ہر نئی سزا کے بعد ایسے واقعات کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جرم کے بعد سزا دینا علاج ہے، جبکہ جرم کے اسباب کو ختم کرنا اصل احتیاط اور تحفظ ہے۔ آج کا انسان موبائل فون کے ذریعے ایک ایسی دنیا سے جڑا ہوا ہے جہاں اچھی اور بری ہر قسم کی معلومات چند سیکنڈ میں اس کی دسترس میں آ جاتی ہیں۔ بازاروں، پارکوں، دکانوں، بس اڈوں اور گلی محلوں میں نظر دوڑائیں تو اکثر افراد کے ہاتھ میں موبائل فون دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک مفید ایجاد ہے، لیکن اس کے استعمال کا رخ اگر غلط سمت میں مڑ جائے تو یہی آلہ اخلاقی اور سماجی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود فحش اور جنسی مواد تک رسائی آج پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ متعدد ویب سائٹس اور بعض پلیٹ فارمز پر ایسا مواد نہ صرف کھلے عام دستیاب ہے بلکہ بعض اوقات اشتہارات کے ذریعے اس کی تشہیر بھی کی جاتی ہے۔ صارفین کو مختلف طریقوں سے راغب کیا جاتا ہے کہ وہ ادائیگی کر کے لائیو جنسی مناظر دیکھیں یا مخصوص قسم کے مواد تک رسائی حاصل کریں۔ یہ صورت حال صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی ماحول کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فحش مواد انسان کے ذہن، سوچ اور رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور سماجی علوم کے متعدد مطالعات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بعض افراد میں پُرتشدد یا استحصالی جنسی مواد کی مسلسل نمائش غیر صحت مند جنسی تصورات، دوسروں کو محض جسمانی شے سمجھنے کے رجحان اور بعض صورتوں میں جارحانہ رویوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنسی جرائم کی وجوہات صرف ایک عامل تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان میں نفسیاتی مسائل، سماجی ماحول، خاندانی تربیت، قانون کی عمل داری اور دیگر متعدد عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب معاشرے میں اخلاقی تربیت کمزور ہو، تعلیمی شعور محدود ہو، قانون کا خوف ختم ہو جائے اور احتساب کا نظام غیر مو¿ثر ہو۔ ایسی صورت میں بعض افراد اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کے بجائے دوسروں کے حقوق پامال کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک مہذب معاشرے کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اخلاقی تربیت کا دائرہ روز بروز سکڑتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کو مہنگے موبائل تو خرید کر دیتے ہیں لیکن ان کے استعمال کی نگرانی نہیں کرتے۔ تعلیمی ادارے امتحانات اور نمبروں کی دوڑ میں مصروف ہیں جبکہ کردار سازی کا پہلو پس منظر میں چلا گیا ہے۔ مذہبی، سماجی اور اخلاقی اقدار پر گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں معلومات تو بے شمار ہیں مگر رہنمائی کم ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر وہ شخص جو فحش مواد دیکھتا ہے لازماً مجرم بن جاتا ہے، کیونکہ لاکھوں افراد کبھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کرتے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ اور مسلسل نمائش بعض افراد کے خیالات اور رویوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں پر جن کی تربیت کمزور ہو، جنہیں قانون کا خوف نہ ہو یا جو پہلے ہی نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہوں۔ حکومتوں کی ذمہ داری صرف مجرموں کو گرفتار کرنا اور عدالتوں میں مقدمات چلانا نہیں ہوتی بلکہ ایسے عوامل کی روک تھام بھی ان کے فرائض میں شامل ہے جو جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک نے انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ مواد کے حوالے سے مختلف پالیسیاں اختیارکی ہیں۔ کہیں عمر کی تصدیق کے قوانین نافذ کیے گئے ہیں، کہیں مخصوص ویب سائٹس پر پابندیاں لگائی گئی ہیں اور کہیں ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ خاص طور پر بچوں اور کم عمر افراد کو ایسے مواد سے محفوظ رکھا جا سکے جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی اس موضوع پر سنجیدہ اور متوازن مکالمے کی ضرورت ہے۔ محض پابندیاں لگانا کافی نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی درکار ہے۔ اس حکمت عملی میں والدین کی تربیت، تعلیمی اداروں میں اخلاقی اور ڈیجیٹل شعور کی تعلیم، سائبر قوانین کا مو¿ثر نفاذ، آن لائن پلیٹ فارمز کی جواب دہی اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہونی چاہئیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے آن لائن استعمال پر نظر رکھیں، ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں اور انہیں انٹرنیٹ کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کریں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل اخلاقیات، انسانی احترام اور ذمہ دار شہری ہونے کے اصولوں کو نصاب اور تربیتی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں۔ میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور سنسنی خیزی کے بجائے شعور بیدار کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سائبر جرائم کے خلاف کارروائی کو مزید مو¿ثر بنائیں۔ بچوں کے استحصال، بلیک میلنگ، غیر قانونی مواد کی ترسیل اور آن لائن ہراسگی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ قانون کی بالادستی کا احساس پیدا ہو۔ معاشرے کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ جنسی جرائم کا مسئلہ صرف قانونی یا تکنیکی نہیں بلکہ اخلاقی، تعلیمی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب تک خاندان، سکول، مذہبی ادارے، میڈیا اور ریاست مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے، اس وقت تک محض سزاو¿ں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر سنجیدہ اور مو¿ثر اقدامات کا مطالبہ کریں۔ ہمیں ایسے معاشرے کی تعمیر کرنی ہے جہاں بچوں کو تحفظ حاصل ہو، خواتین خود کو محفوظ محسوس کریں، قانون کا خوف موجود ہو اور اخلاقی تربیت کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی معصوم بچی، کوئی بے گناہ بچہ یا کوئی کمزور فرد درندگی کا نشانہ نہ بنے تو ہمیں صرف مجرموں کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام عوامل کے خلاف بھی آواز اٹھانا ہوگی جو جرائم کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں صرف سزائیں دی جاتی ہوں، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں برائی کے اسباب کو پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک محفوظ، باوقار اور انسانی اقدار سے بھرپور معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔