Wed, September 16, 2026

جرمنی نے ایپل اور گوگل سے چینی AI ایپ ’ڈیپ سیک‘ ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

جرمنی نے ایپل اور گوگل سے چینی AI ایپ ’ڈیپ سیک‘ ہٹانے کا مطالبہ کر دیا

برلن : جرمنی کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے ایپل اور گوگل سے کہا ہے کہ وہ چینی مصنوعی ذہانت کی ایپ ’ڈیپ سیک‘ کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔ یہ اقدام جرمن صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات کے پیش نظر اُٹھایا گیا ہے۔

ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر مائیکے کمپ کے مطابق، ’ڈیپ سیک‘ صارفین کا ڈیٹا چین منتقل کر رہی ہے، اور کمپنی یہ واضح نہیں کر سکی کہ یورپی معیار کے مطابق ڈیٹا چین میں کیسے محفوظ رکھا جا رہا ہے۔

کمشنر کا کہنا ہے کہ چین میں حکومتی اداروں کو مقامی کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جو صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی میں ’ڈیپ سیک‘ کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ یورپی قوانین پر عمل کرے یا ایپ جرمنی سے خود ہی ہٹا لے، لیکن کمپنی نے کوئی اقدام نہیں کیا۔

اب جرمن حکام نے ایپل اور گوگل سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ وہ اس ایپ کو جرمن ایپ اسٹورز سے ہٹا دیں۔ ایپل اور گوگل اس درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم تاحال دونوں کمپنیوں اور ڈیپ سیک کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ وہی ایپ ہے جس نے جنوری 2025 میں یہ دعویٰ کر کے دنیا کو چونکا دیا تھا کہ اس نے ایسا AI ماڈل تیار کیا ہے جو چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید ماڈلز کا مقابلہ کرتا ہے، لیکن قیمت میں کہیں سستا ہے۔

یورپ میں اس ایپ کے ڈیٹا پالیسی پر پہلے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اٹلی نے سال کے آغاز میں ہی اس ایپ کو بلاک کر دیا تھا جبکہ نیدرلینڈز میں سرکاری اداروں کو اس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔

رائٹرز کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’ڈیپ سیک‘ مبینہ طور پر چین کی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے، جس سے اس کے خلاف عالمی سطح پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

امریکہ میں بھی قانون ساز ایسی قانون سازی پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت سرکاری اداروں میں چینی AI ماڈلز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے۔

ٹیگز: