”قرض کی پیتے تھے مے“ کے مصداق مانگے تانگے سے چلائے جانے والے سسٹم کے باعث حکومتی ایوانوں میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ معیشت بہت مضبوط ہے۔ سرکاری مزارے پریس کانفرنسوں میں زمین و آسمان ایک ہونے کے قلابے ملا رہے ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ہر حکومت میں پانچ وزرا کا ایک ٹولہ ہوتا ہے جو حکومتی قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا، آج بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس آٹا مہنگا مل رہا ہے، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں وبالِ جان بنی ہوئی ہیں، مہنگی گیس بیچی جا رہی ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جو پوچھنے والے ہیں، وہ خود کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، تو پھر کس طرح مان لیا جائے کہ معیشت مضبوط ہے؟ اب آ جائیں پٹرولیم مصنوعات کی طرف۔ پٹرولیم کمپنیوں کے ساتھ پندرہ دن کے لیے قیمتوں میں ردوبدل کا معاہدہ کیا گیا تھا، جسے مارچ میں ملیا میٹ کر کے ایک سو پچہتر ارب روپے دے کر کمپنیوں کو نوازا گیا۔ پھر سرکار نے ڈی ریگولیشن کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھانا شروع کر دیں، کیونکہ پہلے ایک ہی بار بیس، تیس روپے بڑھائے جاتے تھے تو عوام میں شور مچتا تھا، اب روزانہ پانچ، چھ روپے بڑھا کر ڈی ریگولیشن کے نام پر عوام کو ٹیکا لگایا جا رہا ہے۔ لیوی کے نام پر عوام سے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے، حالانکہ پورٹ پر پہنچنے والا ریفائن شدہ آئل تقریباً دو سو یا دو سو پانچ روپے فی لیٹر پڑتا ہے، جبکہ ایک سو بیس، تیس روپے حکومت لوٹ مار کر رہی ہے۔ اس پر کوئی ساٹھ روپے ٹیکس بھی لگایا جا رہا ہے، جو مہنگائی کے مارے عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ کیونکہ صاحبِ حیثیت شخص کوٹھی نما گاڑی خریدے تو اس پر اٹھارہ فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے، لیکن ملک کے ساٹھ فیصد موٹرسائیکل سوار پٹرول کی مد میں ایک سو بیس روپے تک لیوی
ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ جب حکومت نے پندرہ دن کی مدت کو ایک ہفتے پر لائی تو ایک ہفتے میں پٹرولیم کمپنیوں کو بیس ارب روپے کا منافع ہوا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کو پٹرولیم کمپنیوں کا کتنا درد ہے، جنہیں نوازنے کے لیے وہ رات دن ایک کیے ہوئے ہے۔ ڈی ریگولیشن کرنے کی منطق یہ تھی کہ ذخیرہ اندوزی نہ کی جا سکے، مگر اسی منطق کو جواز بنا کر حکومت نے اب پٹرولیم کمپنیوں کو روزانہ کی بنیاد پر نوازنا شروع کر دیا، بلکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنا شروع کر دیا۔ اصل حساب تو اقتدار سے جانے کے بعد ہی ہو گا، جب نیب کے کھاتے کھلیں گے۔ اب ریفائنریز کو بھی نوازا جا رہا ہے۔ انہیں بھی ایک دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا اور ان کے بینک بیلنس بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان حملے رکنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ آئل چھ فیصد کمی کے بعد 86 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ عالمی سٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ نارتھ سی کروڈ چھ فیصد کمی کے ساتھ 86.22 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 6.8 فیصد کمی کے ساتھ 83.22 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔ ماہرین نے مشرقِ وسطیٰ کی پُرسکون صورتِ حال کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کا 85 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرنا مشکل نظر آتا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے افراطِ زر کے خدشات میں بھی کچھ کمی آئی، جس سے یورپی اور ایشیائی مارکیٹوں کو سہارا ملا۔ اس کے باوجود پٹرولیم قیمتیں کم نہ کرنا حکومتی بددیانتی ہے۔ عالمی منڈیوں کی صورتِ حال کے پیشِ نظر سبسڈی عوام کو دینا چاہیے تھی، لیکن حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھا کر اور ایک روز ایک روپیہ کم کر کے نہ جانے کون سی ڈی ریگولیشن کو فروغ دیا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری اور اخراجات میں کٹوتی کا سارا بوجھ بھی عوام ہی پر ڈال دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل دردِ سر بن کر رہ گیا ہے، جبکہ یہ گتھی سلجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ حکومت فرما رہی ہے کہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے دن رات ایک کر رکھے ہیں اور پٹرولیم مصنوعات پر ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ سراسر عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ حکومتی موجودہ پالیسی کے تحت پٹرول کی حالیہ قیمتوں پر غور کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ مہنگائی کے مارے عوام پر روز پٹرول بم گرایا جا رہا ہے، جس سے دو فیصد طبقے کو تو شاید کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر غریب عوام مزید پریشانی میں دھنس جاتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر حکومت واقعی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے تو پھر وزارتِ پٹرولیم اور اوگرا کے موجودہ کردار پر بھی نظرثانی کی جانی چاہیے۔ ایسی صورت میں پٹرولیم سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے تاکہ پٹرولیم کمپنیاں خود درآمد، قیمتوں کے تعین اور فروخت کی ذمہ دار ہوں، جبکہ حکومت اور اوگرا اس عمل سے الگ رہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں مزید مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ حکومت عوامی مشکلات کو بھی مدنظر رکھے، کیونکہ روزانہ پٹرول مہنگا کرنے سے مہنگائی بھی بڑھتی ہے اور جب مہنگائی بڑھتی ہے تو کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ پھر جب مسائل بڑھتے ہیں تو عوام میں حکومت کے خلاف لاوا پکنے لگتا ہے۔ سرکار اس لاوے کو پکنے نہ دے، اسی میں ملک اور عوام کی بہتری ہے۔