Wed, September 16, 2026

بھارتی پراکسی بی وائی سی، بلوچ خواتین کی بربادی کی ذمہ دار

بھارتی پراکسی بی وائی سی، بلوچ خواتین کی بربادی کی ذمہ دار

بلوچستان ایک طویل عرصے سے بھارتی مداخلت، پراکسی جنگ اور منظم پراپیگنڈے کی زد میں ہے۔ اس پراکسی جنگ میں جہاں کالعدم تنظیمیں ڈالروں کے لیے اپنی ہی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں، وہیں ایک نیا اور نہایت تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے، خواتین کو بطور آلہ کار استعمال کرنا، انہیں برین واشنگ کے ذریعے گمراہ کرنا اور بالآخر انہیں خودکش بمبار یا سہولت کار کے طور پر تیار کرنا۔ فتنہ الہندوستان کی پراکسی بلوچ یکجہتی کمیٹی اوربلوچ وویمن فورم اسی خطرناک سازش کا ایک نمایاں چہرہ بن چکی ہیں، اور ان نیٹ ورکس کی نام نہاد لیڈران ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، ڈاکٹر شلی بلوچ اور ان جیسے دیگر عناصر بلوچ خواتین کے جذبات اورمحرومیوں کے من گھڑت بیانیے کو ہتھیار بنا کر انہیں کالعدم تنظیم بی ایل اے، بی ایل ایف و دیگرکے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف خود کو انسانی حقوق کی علمبردار ظاہر کرتے ہوئے دراصل ایک منظم بھارتی پراکسی نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان نیٹ ورکس کی سب سے خطرناک جہت خواتین کا استعمال ہے، کیونکہ عورت کے نام پر ہمدردی، میڈیا کوریج اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ اور ڈاکٹر شلی بلوچ جیسے کردار خود کو ’’حقوق نسواں‘‘ اور ’’جبری گمشدگیوں‘‘ کے من گھڑت بیانیے کے پیچھے چھپا کر، بلوچ خواتین کو ذہنی طور پر ریاست دشمن ایجنڈے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ برین واشنگ کا یہ عمل ایک دن یا ایک تقریر میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ ایک منظم، مرحلہ وار اور نفسیاتی حربوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر حملے کر کے وہاں مسائل پیدا کرتی ہیں اور پھر پسماندگی اور محرومیوں کا بیانیہ گھڑ کر ریاست اور اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اور آخر میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مسلح جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ اس پورے عمل میں مذہبی، سماجی اور ثقافتی اقدار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ بلوچ بچیوں کے معصوم ذہنوں میں نفرت، انتقام اور بغاوت کے بیج بوئے جا سکیں۔ ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ اور ڈاکٹر صبیحہ بلوچ جیسی بھارتی پروردہ ایجنٹ بلوچ بچیوں کو ’’بلوچ آزادی‘‘ کے نام پر دئیے جانے والے دھرنوں میں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے سے گمراہ کرتی ہیں، اور پھر انہیں کالعدم تنظیموں کے نظریات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں سہولت کاری، معلومات رسانی اور بعض صورتوں میں، جن میں ان معصوم خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں خودکش حملوں کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ تربت سے گرفتار ہونے والی خودکش بمبار عدیلہ بلوچ کی کہانی اس حقیقت کا زندہ اور واضح ثبوت ہے، کہ کس طرح اس خاتون کو بی ایل اے کے تربیت یافتہ کارندے نے پیار کے جھانسے میں پھنسا کر اس کا ریپ کیا اور کرایا اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر اس کو خود کش حملہ کرنے پر مجبور کیا گیا، شاری بلوچ کو بھی اس کے شوہر حبیطان بلوچ نے مجبور کیا تھا، جو کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اعلیٰ ترین رکن تھا۔ واضح رہے کہ ان نام نہاد ’’بلوچ آزادی‘‘ کی تنظیموں کے سرغنے خود کبھی میدان میں نہیں آتے۔ وہ محفوظ ٹھکانوں، بیرون ملک پناہ گاہوں یا خفیہ نیٹ ورکس میں بیٹھ کر بلوچ نوجوانوں اور بلوچ خواتین کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی خواتین کو ’’قربانی‘‘ اور ’’شہادت‘‘ کے جھوٹے نعروں سے بہلایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک بے رحم استحصال ہے جس کا مقصد صرف خوف پھیلانا اور ریاست کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہوتا ہے۔ فتنہ الہندوستان کی اس پراکسی جنگ میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بی وائی سی سے منسلک اکاؤنٹس منظم انداز میں جھوٹی خبریں، من گھڑت کہانیاں اور جذباتی مواد پھیلاتے ہیں۔ ازخود روپوش دہشت گرد یا سہولت کار کو ’’جبری گمشدہ‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ خودکش حملہ آوروں کو فدائی، مجاہد اور شہید قرار دیا جاتا ہے۔ اس من گھڑت بیانیے کا اصل مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خواتین کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ اس کی وجہ نہایت سادہ مگر خوفناک ہے۔ ایک طرف ان کو ریاستی مظالم اور ناانصافیوں کی جھوٹی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور دوسری طرف جذباتی نعروں اور جھوٹے خوابوں کی چکا چوند یہ سب مل کر خواتین کو آسان ہدف بنا دیتے ہیں۔ بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف کے تربیت یافتہ ایجنٹ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور انہیں ایک ایسے راستے پر ڈال دیتے ہیں جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ریاست اور اداروں نے بارہا اس خطرے کی نشاندہی کی ہے اور عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، بحالی پروگرام، تعلیمی و سماجی منصوبے یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچستان کے لیے سنجیدہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ایسے پراکسی نیٹ ورکس کو پہچانے، ان کے جھوٹے نعروں کو مسترد کرے، اور اپنی بیٹیوں کو اس تباہ کن راستے سے بچائے۔ علمائ، اساتذہ، قبائلی عمائدین اور والدین سب کو مل کر یہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ بلوچ خواتین کو تعلیم اور شعور فراہم کیے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہیں یہ باور کرانا ہو گا کہ تشدد، خودکش حملے اور ریاست دشمنی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ صرف مزید خونریزی اور بدحالی کو جنم دیتے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی، تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فتنہ الہندوستان کی پراکسی بی وائی سی، بی ڈبلیو ایف اور اس کی تربیت یافتہ خواتین کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ یہ کوئی حقوق کی تحریک نہیں، بلکہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد بلوچستان کودہشت گردی، بدامنی، انتہا پسندی کی آگ میں جھونکنا اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اگر آج ہم نے اس فتنے کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل شاری بلوچ، سمعیہ قلندرانی، ماہل بلوچ، گنجاتون اور زرینہ رفیق جیسی مزید معصوم زندگیاں گمراہی کا شکار ہو کر اس پراکسی جنگ کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔ قوم کو ریاست کے ساتھ مل کر اس فتنہ کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ خاموشی خود ایک جرم بن جائے گی۔

ٹیگز: