Wed, September 16, 2026

پھانسی کا سال، سٹریٹ ایجی ٹیشن

پھانسی کا سال، سٹریٹ ایجی ٹیشن

2025ء جوں توں گزر گیا۔ جنگ و جدل، مار دھاڑ، اداروں میں تبدیلیاں، کالے بھونڈوں کا خاتمہ۔ کئی آئے کئی گئے، انقلاب نہیں آیا۔ واقعات و حادثات تھمنے میں نہیں آ رہے، محیر العقول واقعات دل دہلانے والے حادثات، پاکستان کے دوستوں میں اضافہ ہوا، صدر ٹرمپ تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز بن گئے۔ 2032ء تک اندرونی بیرونی دشمنوں کے سینوں پر مونگ دلتے رہیں گے سرنڈر مودی شکست کے بعد سے اب تک خوفزدہ ہے گھر کا رہا نہ گھاٹ کا، فوج متحد و منظم، ملک مضبوط، ناقابل تسخیر، معیشت مستحکم ہوئی؟ مہنگائی میں کتنے فیصد کمی آئی؟ پتا نہیں، عوام مطمئن ہیں؟ معلوم نہیں بس خاموش ہیں۔ اداروں کی نجکاری شروع، عارف حبیب کنسورشیم نے ایک کھرب 34 ارب میں پی آئی اے خرید لی، 2015ء میں یہ عمل ہوتا تو قومی ایئر لائن دو ڈھائی کھرب میں جاتی، تاہم نجی کنسورشیم کے حوالے کرنا نیک شگون ہے۔ عارف حبیب کے کاروباری تجربے سے پی آئی اے کو دوبارہ اپنی حیثیت اور شہرت بحالی میں مدد ملے گی۔ 2026ء سر پر ہے، حالات کو دور تک دیکھنے والے مختلف خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ آنے والا سال پھانسی کا سال ہو گا تاہم وقت کے ساتھ بدلنے والے ستارہ شناسوں کا کہنا ہے کہ فروری میں بڑی رہائی بھی عمل میں آ سکتی ہے۔ ٹامک ٹوئیاں مارنے میں کیا حرج ہے۔ 73 سال کی عمر میں 32 سال قید، ابھی مقدمات باقی ہیں، سچ پوچھیے تو وہی اصلی اور خطرناک مقدمات ہیں ان کا ادراک کیے بغیر عقل و فہم سے عاری ٹوئٹس، ذاتی دشمنی کی باتیں، سٹریٹ ایجی ٹیشن کی ہدایات، قتل کی دھمکیاں، کیا زندگی موت کا فیصلہ کافروں، خوارج یا منافقین کے ہاتھ میں ہے؟ خان کے موجودہ عاشق سہیل آفریدی بڑی بڑھکیں مار کر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ ایک نکاتی ایجنڈا لے کر چلے خان کی رہائی، عشق عمران میں شہادت لیکن شہادت سے بچنے کے لیے پشاور سے گارڈز کی پوری پلٹن لے کر لاہور پہنچے گارڈز کے ہاتھوں میں پارٹی کے جھنڈے اور ڈنڈے تھے کیا کرنے لاہور آئے کیا لبرٹی میں شاپنگ کرنا تھی یا وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز کا صاف ستھرا لاہور دیکھ کر شرمندہ ہونا تھا۔ شرمندگی ہوئی لاہوریوں کو سڑکوں پر نہ نکال سکے۔ لاہوریے پولیس سے ڈرنے والی مخلوق نہیں البتہ لیڈر نا اہلی دکھائے تو اس سے منہ موڑ لینے کی سزا ضرور دیتے ہیں۔ لیڈر کے لیے بے اعتنائی سب سے بڑی سزا ہے۔ پنجاب کی ترقی دیکھنے اور خاتون وزیر اعلیٰ کی صلاحیتوں سے کچھ سیکھنے آئے تھے اپنا سامنہ لے کر رہ گئے۔ دکھانے اور سکھانے کو کچھ نہیں تھا۔ لاہوریوں نے لفٹ نہیں کرائی، گھروں میں بیٹھ کر پھجے کے پائے کھاتے رہے۔ عرصہ ہوا اہل لاہور نے بینر اور جھنڈے لے کر لیڈروں کے لیے لاٹھیاں کھانا بند کر دی ہیں، چنانچہ وزیر اعلیٰ آفریدی پر گُل پاشی کرنے بھی کوئی نہ آیا۔ گارڈز نے اپنے لیڈر پر خود ہی پھول برسائے، یوتھیا یوٹیوبرز نے صحافیوں کی تصویریں کھینچ کر وائرل کر دیں اور ’’شاندار استقبال‘‘ کی سرخیاں جما دیں۔
انقلاب اور رہائی کے خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے وجہ دوغلاپن، متضاد پالیسیاں، جیل کے اندر سے مخاصمت اور مزاحمت کی تلقین، باہر مفاہمت اور مذاکرات کے لیے کوششیں، پی ٹی آئی اندر باہر کے بیانیوں میں پھنس کر رہ گئی۔ ’’تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے‘‘ بڑے خان صاحب جیل میں ملاقاتیوں کی شکل کو ترس گئے۔ قید تنہائی کا پراپیگنڈہ بھی بے اثر ثابت ہوا۔ جیل والوں نے قیدی نمبر 804 کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ پارٹی غیروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تین منحرف لیڈروں نے رابطے کرنے کی کوشش کی اوپر والوں نے پوچھا آپ کون کوئی مینڈیٹ کوئی گارنٹی، پارٹی ڈانواں ڈول، روپوش مفرور لیڈر شیخ وقاص اکرم نے مذاکرات کی مخالفت کی، علیمہ باجی نے دونوں مستعار لیڈروں کو پارٹی کا حصہ ماننے سے انکار کر دیا، لیکن مذاکرات تو شروع ہو گئے، وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتہ منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ پارٹی لیڈر بھاگے چلے آئے، حکومت کی طرف سے سپیکر سردار ایاز صادق، رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور علی ظفر نے پہلے دور میں شرکت کی۔ حکومت نے شروع ہی میں مخالف گروپ کی گردن دبوچ لی کہ محمود اچکزئی سے قطع تعلق کریں 
ان کا رویہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخالف ہے۔ زبان، دہن، ذہن سب بگڑے ہوئے ہیں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ خان کی رہائی پر بات نہیں ہو گی البتہ مذاکرات کی کامیابی سے مراعات مل سکتی ہیں، بیٹھک ختم، بعد ازاں پی ٹی آئی کا خفیہ اجلاس پانچ گھنٹے جاری رہا، ذرائع کا کہنا تھا کہ 85 فیصد شرکا کا کہنا تھا کہ خان کا موقف غلط ہے اس موقف نے ہمیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ 15 فیصد (جس میں علیمہ باجی اور سہیل آفریدی کے ہم نوا شامل تھے) نے خان کے موقف کی حمایت کی۔ اکثریت کی رائے تھی کہ محمود اچکزئی کو الگ کر کے مذاکرات کیے جائیں تاہم 5 گھنٹے کی مغز ماری کے باوجود کوئی فیصلہ نہ ہو سکا، ادھر محمود اچکزئی نے اپنے طور پر تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مختلف سفیروں سے رابطہ کریں گے خطوط لکھیں گے اور حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی ٹیم مائنس عمران فارمولے پر رضا مند نظر آئی، 85 فیصد ارکان نے بھی مائنس عمران کا اعتراف کیا۔ ڈیڑھ جماعتی قومی کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی خان کی رہائی کا ذکر خیر نہیں۔ اس کانفرنس کی روداد بھی دل گداز، ہم نوالہ ہم پیالہ ہم خیال مل بیٹھے تقریریں کر کے دل کی بھڑاس نکالی، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑے 29 لاکھ 50 ہزار بل ادا کرنا پڑا۔ 10 لاکھ مصطفی نواز کھوکھر نے دئیے باقی پانچ پانچ لاکھ حضرت علامہ، اچکزئی اور اختر مینگل کی جیبوں سے نکلے، حاصل حصول صفر بٹا صفر، 9 فروری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان، نتیجہ معلوم۔ رہائی کی کوششیں کرنے والوں اور والیوں میں خان کی تینوں بہنیں اور چند درجن فدائین باقی بچے ہیں گزشتہ جمعرات کو اس دھڑے نے جیل سے کچھ دور دھرنا دیا لیکن واٹر کینن کی بوچھاڑ کے خوف سے دس بجے رات ہی کو اٹھ کر چلے گئے۔ شنید ہے کہ خان مذاکرات کی خبروں سے قدرے خوش ہیں کہ ’’ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے‘‘ لیکن نہیں جانتے کہ اپنے یاروں نے ہی انہیں مائنس کر دیا ہے۔ صورتحال اچھی نہیں، اصلی تے وڈا مقدمہ 9 مئی آئندہ سال کے شروع میں سامنے آئے گا۔ سزا بھی وڈی ہو گی کسی نے کہا پھندہ تیار، دوسرا بولا عمر قید، شکر کیجئے جان بچی لاکھوں پائے تاہم لوٹ کر گھر کو نہیں آئے، 2026ء پاکستان کے لیے خوشخبریوں کا سال ہے۔ چینی اور امریکی صدور پاکستان کا دورہ کریں گے، عالمی منظر نامے کی تبدیلی کی توقعات، پاکستان لیڈنگ رول ادا کرے گا، ملکی حالات ہنگامہ خیز رہیں گے ’’گیا دور فیضیابی گیا، تماشہ دکھا کر مداری گیا‘‘ باقیات اس دور کی یادیں تازہ رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں گے۔

ٹیگز: