زمین کا مزاج بدل چکا ہے اور فطرت نے اپنے معمول کے قاعدے اور ضابطے لپیٹ کر رکھ دئیے ہیں۔ رواں سال دنیا بھر میں موسموں کی جو بے ترتیبی اور تیور دیکھنے میں آئے ہیں، وہ محض اتفاقی اتار چڑھا نہیں بلکہ اس سیارے کی جانب سے جاری کردہ وہ سرخ تنبیہ ہے جسے اب تک بنی نوع انسان نظر انداز کرتی آئی تھی۔ سال رواں کے چند ماہ کے دوران جو کچھ دنیا کے مختلف خطوں میں ہوا، اس نے جغرافیائی سرحدوں، اور موسموں کی روایتی تقسیم کو یکسر مٹا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ہی وقت میں کہیں زمین آسمان سے برستی آگ میں جھلس رہی ہے، کہیں صدیوں پرانے گلیشیئرز پگھل کر بستیوں کو نگل رہے ہیں اور کہیں بادلوں کا بے قابو غیظ و غضب چند گھنٹوں میں جدید شہروں کو جھیلوں میں تبدیل کر رہا ہے۔ رواں برس دنیا نے وہ تپش دیکھی ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ کے ریکارڈ میں نہیں ملتی۔ وہ ممالک جن کی شناخت ہی برف پوش پہاڑ، خوشگوار ہوائیں اور معتدل موسم تھے د ڈ س، شدید گرمی کی لہروں کے سامنے بے بس نظر آئے۔ برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور یونان جیسے یورپی ممالک میں جب درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سے تجاوز کر گیا، تو وہاں کا پورا انفراسٹرکچر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ لندن کی سڑکوں پر تارکول پگھلنے لگی، ریلوے کی پٹریاں ٹیڑھی ہو گئیں اور ایئر کنڈیشننگ کے بغیر بنے پرانے گھر تندور کی طرح دہکنے لگے۔ بحیرہ روم کے ساحلی جنگلات میں لگی آگ نے ہزاروں ایکڑ رقبے کو خاکستر کر دیا اور ہزاروں سیاح جان بچانے کے لیے سمندر کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔ امریکہ اور کینیڈا کے شمالی خطوں کے لوگ بھی ہیٹ اسٹروک سے ہسپتالوں میں پہنچنے لگے۔ بحرِ اوقیانوس سے لے کر بحر الکاہل تک سمندروں کا درجہ حرارت اپنے تاریخی عروج پر پہنچ چکا ہے، جو دراصل اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری زمین کے سمندر اب مزید اضافی گرمی جذب کرنے کی سکت کھو رہے ہیں۔
حال ہی میں نیپال میں گلیشیر پھٹنے اور گلیشیائی جھیل کے ٹوٹنے کا ہولناک واقعہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ گلوبل وارمنگ ہمارے قطبین اور پہاڑی گلیشیئرز کو کس رفتار سے فنا کر رہی ہے۔ ہمالیہ اور قراقرم کے وہ پہاڑ جو کروڑوں انسانوں کے لیے میٹھے پانی کا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ ہیں، اب بارود کا وہ ڈھیر بن چکے ہیں جس کی بتی سلگ چکی ہے۔ جب درجہ حرارت غیر فطری طور پر بڑھتا ہے تو صدیوں پرانی جمی ہوئی برف تیزی سے پگھل کر جھیلوں کی شکل اختیار کرتی ہے اور پھر پتھر اور مٹی کے کچے بند توڑ کر نیچے واقع وادیوں پر قہر بن کر ٹوٹتی ہے۔ نیپال کے اس سانحے نے نہ صرف دور دراز کے دیہات کا نام و نشان مٹا دیا بلکہ جنوبی ایشیا کے ان تمام ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جن کی بقا انہی ندی نالوں اور دریاں کے پانی پر منحصر ہے۔ پاکستان موسمیاتی جنون کے بالکل دہانے پر کھڑا ہے۔ وہ ملک جو عالمی سطح پر گرین ہاو¿س گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصے دار ہے، مسلسل دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔ رواں سال مون سون کے موسم نے پاکستان میں تباہی مچائی اور اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں بادلوں کا یوں برسنا جیسے آسمان کا کوئی دہانہ کھل گیا ہو، شہری سیلاب کا ایسا بھیانک منظر پیش کر رہا تھا جس نے ہمارے نکاسی کے نظام کی قلعی کھول دی۔
کلاو¿ڈ برسٹ اور مسلسل شدید بارشوں نے نالہ لئی اور اردگرد کی آبادیوں کو پانی کے محاصرے میں لے لیا۔ ملک کے دیگر حصوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے جنوبی اضلاع میں ایک بار پھر وہی مناظر دہرائے جا رہے ہیں۔ بارشیں اب رحمت کی بجائے خوف اور بے یقینی کی علامت بنتی جا رہی ہیں کیونکہ جب بادل برستے ہیں تو مہینوں کا پانی گھنٹوں میں برسا دیتے ہیں اور جب خشک سالی آتی ہے تو زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ابھی گرمی کی شدت اور بارشوں کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے زخم بھرے بھی نہیں کہ اگست کے آخری ایام ہی میں عالمی اور علاقائی موسمیاتی اداروں نے آنے والی سردیوں کے حوالے سے ہوش ربا پیش گوئیاں شروع کر دی ہیں۔
سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اس گرین ہاﺅس اثر کا ناگزیر نتیجہ ہے جسے صنعتی انقلاب کے بعد سے انسان نے اپنے اندھے لالچ کی نذر کر دیا ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس کے بے دریغ استعمال نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کی ایسی موٹی چادر تان دی ہے جو سورج کی حرارت کو باہر جانے نہیں دیتی۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، دریاﺅں کے قدرتی راستوں پر کنکریٹ کے جنگل کھڑے کرنا اور زرعی زمینوں کو ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں بدلنا ہمارے وہ اجتماعی جرائم ہیں جن کا خمیازہ اب پوری نسل بھگت رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والی موسمیاتی کانفرنسیں، معاہدے اور کوپ کے اجلاس محض سفارتی خوش بیانیوں اور وعدوں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ہر سال نقصان کے ازالے کے لیے فنڈز کے بلند بانگ اعلانات ہوتے ہیں مگر جب عملی اقدام کا وقت آتا ہے تو سرمایہ دارانہ مفادات انسانی جانوں پر بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ کلائمیٹ جسٹس یا ماحولیاتی انصاف کا نعرہ اب تک ایک بے اثر صدا بن کر رہ گیا ہے۔ہمیں اب اس خود فریبی سے باہر نکلنا ہوگا کہ یہ سب کچھ وقتی ہے اور اگلے سال حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ رواں سال کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ اب کوئی سال معمول کا سال نہیں ہوگا۔