Wed, September 16, 2026

عوامی راج اور روایتی سیاسی جماعتیں

عوامی راج اور روایتی سیاسی جماعتیں


جب بھی ملک میں عام انتخابات ہوئے رولا ضرور پڑا۔ پھر جب حکومت وجود میں آئی تو حزب اختلاف نے اس کے خلاف کمر کس لی کہ حکومت کو کام نہیں کرنے دینا یوں اسے قدم قدم پر مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اس نے بمشکل اپنے دور اقتدار میں کچھ منصوبے مکمل کیے تو اگلی حکومت نے ان منصوبوں کو غیر فعال بنانے کی پوری کوشش کی۔ اس کے جو منصوبے ادھورے رہ گئے ان پر کام روک دیا گیا۔ یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ اس سے قومی دولت ضائع ہو گی اور عوام کو کس قدر تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا مگر چونکہ مقصد پچھلی حکومت کو غیر مقبول اور نا اہل ثابت کرنا ہوتا ہے لہٰذا اس کے ہر ایک کام کو بے کار اور بے سود بنانے کی سعی کی جاتی ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ طالع آزماو¿ں کی حکومتوں میں کافی ترقی ہوئی عوام کو بہت سے ریلیف ملے۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان حکومتوں نے وہ منصوبے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائے جو ملک کو خود کفالت کی سیڑھی پر چڑھا سکتے تھے قرضوں سے چھٹکارا دلا سکتے تھے ان کے ادوار میں جو بھی کام ہوا وہ سطحی تھا۔ اسی طرح کا منتخب حکومتوں کا بھی طرز عمل رہا۔ بدعنوانی کے نئے ریکارڈز قائم ہو رہے ہیں مگر انہیں کوئی خوف نہیں کوئی احساس نہیں اگر ایسا ہوتا تو ملک میں بے روزگاری غربت بیماری جہالت اور ناانصافی نہ ہوتے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے اختیار کیے گئے ہیں۔ عوام کی کبھی نہیں مانی گئی مگر آئی ایم ایف نے جو کہا اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا گیا۔
بہرحال آج معاشی بحران خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے اس طرح سیاسی بحران بھی مگر مجال ہے حکمرانوں کے دل میں کوئی ہمدردانہ لہر ابھری ہو وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ملکوں ملکوں گھوم پھر رہے ہیں اور کہہ یہ رہے ہیں کہ وہ عوام کی بہتری کے لئے دورے کر رہے ہیں مگر جب واپس لوٹتے ہیں تو ہاتھ خالی ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی ملک امداد یا فنڈز دینے کو تیار نہیں۔ انہیں شاید یہ معلوم نہیں ہو گا کہ اب جب عام آدمی آگاہی رکھتا ہے تو دوسرے ملکوں کے حکمران کیوں نہیں جانتے ہوں گے کہ ان کی بھیجی گئیں رقوم کا استعمال متعلقہ منصوبوں پر نہیں ہو تا جو ہوتا بھی ہے وہ معمولی اور اس میں گھپلے بھی ہوتے ہیں؟ اس صورت میں حکومتی عہدیدار جتنے مرضی یورپی یا مغربی ملکوں کے دورے کریں ان کا کوئی فائدہ نہیں الٹا خزانے پر بوجھ بڑھتا ہے۔ دورہ تب کیا جائے جب کچھ حاصل ہونے کی امید ہو اور کسی دورے میں چند افراد ہونے چاہئیں۔
ایسے اللوں تللوں کی وجہ سے ہی معیشت کا بیڑا غرق ہوا ہے۔ ہماری حزب اختلاف کی جو جماعتیں ہیں بہت کم اپنی آواز بلند کرتی ہیں ان کا مقصد صرف حکومتوں کو اقتدار سے الگ کرنا ہوتا ہے لہٰذا وہ اس کے لئے کانفرنسیں کرتی ہیں میٹنگیں کرتی ہیں اور جلسے کرتی ہیں مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ موجودہ حزب اختلاف بھی حکومت کو محروم اقتدار کرنا چاہتی ہے لہٰذا اس نے دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے اس میں وہ جماعت بھی شامل ہے جسے اپنے قائد کو رہا کرانا ہے باقی معاملات بعد میں دیکھے گی جبکہ اسے چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے لئے بھی شور مچائے تاکہ حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ٹیکسوں کی بھر مار سے ہاتھ پیچھے کھینچ لے۔ مہنگائی کو قابو کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں جب کسی جماعت کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے تو وہ دوسرے پہلوﺅں کو ایک طرف رکھ دیتی ہے اب بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ 
اسی گھن چکر میں اناسی برس بیت گئے ہیں کہ حکومتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں کبھی بھی مل کر نہیں بیٹھیں لہٰذا معاشی و سیاسی حالات تبدیل نہیں ہو سکے اور اس وقت صورت حال بڑی تکلیف دہ نظر آتی ہے اور لوگ کہنے لگے ہیں کہ اب یہ حکومت گھر چلی جائے کیونکہ وہ ان کی زندگی کو پُر آسائش نہیں بنا سکی مگر جو آئے گی وہ بھی ایسی ہی ہو گی وہی چہرے وہی سوچ ہو گی کیونکہ دونوں طرف کی جماعتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں جو سٹیٹس کو کے خلاف نہیں ہوتیں اور عوام کو دھوکا دیتی ہیں بیوقوف بناتی ہیں اندھیرے میں رکھتی ہیں عوام کو اپنے پیچھے لگا کر اصل مقصد سے دور کرتی ہیں۔ اس وقت جو جماعتیں بر سر اقتدار ہیں اور جو ان کے سامنے دوسری جانب کھڑی ہیں سب ہی عوام کو فریب دے رہی ہیں کیونکہ ان میں سے جو بھی آئندہ اقتدار میں آئیں گی وہ دودھ کی نہریں نہیں بہا سکیں گی کیونکہ یہ نظام جس کے تحت آئیں گی وہ انہیں ہلنے نہیں دے گا دیکھ لیجئے اب تک وہ ترقی نہیں ہو سکی جس کی عوام نے خواہش کی ۔ وجہ یہی ہے کہ انہوں نے حالات کو تبدیل نہیں کرنا ہوتا اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوتی ہے لہٰذا اناسی برس سے وہ کھیل جاری ہے۔جو تب ختم ہو گا جب لوگوں میں یہ احساس گہرا ہو جائے گا کہ اب انہیں روایتی جماعتوں پر انحصار بند کردینا چاہیے کہ وہ سب کی سب دولت اور شہرت کی بھوکی ہیں۔

ٹیگز: