ہمارے دیرینہ مسائل میں سے ایک مسئلہ پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونا ہے۔ حکومتی پراجیکٹس اور پالیسیوں میں تسلسل تب ہی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی استحکام اور امن و امان قائم رہے۔ ورنہ ہم نہ تو حقیقی مسائل کی نشاہدہی کر پائیں گے اور نہ ہی ان کا موثر حل ڈھونڈ پائیں گے۔ ہمیں کبھی کوئی ڈیم والا بابا دیکھنے کو ملتا ہے اور کبھی ایک ارب درختوں والا جگ دیش۔ہماری مثال اس منتظم کی ہے جو دروازہ بند کرنے کی بجائے دیوار اونچی کرتا رہتا ہے۔ یہ حکایت بھی یوسفی صاحب کی زبانی سن لیجیے۔
یوسفی صاحب نے ہمارے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کینگرو کی ایک حکایت بیان کی۔ بات کچھ یوں تھی کہ ایک بار چڑیا گھر میں ایک کینگرو کا اضافہ ہوا تو اس کے لیے خاص طور آٹھ فیٹ اونچی دیوار کا احاطہ بنایا گیا، تا کہ بھاگ نہ جائے لیکن اگلے دن دیکھا کہ کینگرو باہر گھوم رہاہے۔ لہٰذا دیوار کی اونچائی بڑھا کر پندرہ فیٹ کر دی گئی۔ اس کے باوجود اگلے دن دیکھا کہ کینگرو پھر باہر کھڑا مستا رہا ہے۔ چڑیا گھر کا منتظم بہت سٹپٹایا اس نے طیش میں آ کر دیوار پورے تیس فٹ تک اونچی کرا دی پھر بھی کینگرو سٹک گیا۔ ایک زراف نے کینگرو سے پوچھا کیا خیال ہے تمہارا اب کی بار یہ لوگ دیوار کتنی اونچی کریں گے؟ کینگرو نے جواب دیا یہ تو میں نہیں کہہ سکتا، ممکن ہے ایک ہزار فیٹ بلند کرنی پڑے، اگر انھوں نے اسی طرح دروازے پر تالا نہیں لگایا تو"۔ ہم نے بھی سیلاب کا دروازہ بند نہیں۔ سیلاب سے اپنا پرانا لیں دین ہے۔ کئی دہائیوں پہلے کی بات نہیں کرتے۔
بھارت کی آبی جارحیت سے جون سے اگست 2022 تک ریکارڈ مون سون بارشوں اور دریاؤں میں شدید طغیانی کی وجہ سے پاکستان بھر میں تباہ کن سیلاب آیا۔ جنوبی پنجاب (خصوصاً ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ، بہاولپور) سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل تھے۔صرف جنوبی پنجاب میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ دیہات مکمل طور پر بہہ گئے۔ پاکستان بھر میں سیلاب سے 1,700 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جن میں سینکڑوں کا تعلق جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی
سرحدی پٹی سے تھا۔ کپاس، گنا، دھان اور چارہ کی فصلیں برباد ہو گئیں۔ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے برساتی نالوں میں طغیانی سے مکمل تباہ ہوئے۔ سڑکیں، پل، سکول، ہسپتال اور گھروں کی ایک بڑی تعداد سیلابی ریلوں میں گر گئی۔ کھیت کھلیان تباہ ہونے سے خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی اور ملک گیر معیشت پر بڑا بوجھ پڑا۔
بلوچستان میں خضدار، لسبیلہ، جعفرآباد، نصیرآباد، جھل مگسی، صحبت پور،پورے کے پورے اضلاع ڈوب گئے، کئی علاقے ہفتوں تک باقی ملک سے کٹ گئے۔ سب سے زیادہ انفراسٹرکچر، سڑکیں اور پل، بلوچستان میں بہہ گئے۔سندھ میں دادو، خیرپور، سجاول، بدین، لاڑکانہ، شہدادکوٹ، نوابشاہ، سکھر متاثر ہوئے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ لاکھوں گھر تباہ ہوئے، کھڑی فصلیں، چاول، کپاس، سبزیاں ختم ہو گئیں۔ خیبر پختونخوا ہمیشہ کی طرح متاثر ہوا۔ سوات، دیر، چترال، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے سیلاب کی زد میں آئے۔
ایک اندازے کے مطابق 3 کروڑ 30 لاکھ (33 ملین) سے زیادہ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔
مارچ 2023 سے جولائی 2023 تک آنے والے سیلاب میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، اور پنجاب کے علاقے متاثر ہوئے۔اس سے 159 افراد جاں بحق اور 264 زخمی ہوئے۔ فروری 2024 کے بعد آنے والے سیلاب میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، اور گلگت بلتستان میں تقریباً 100 افراد جاں بحق اور 62 زخمی ہوئے۔
مارچ 2024 سے ستمبر 2024 تک پاکستان اور افغانستان میں آنے والے سیلاب سے پاکستان میں تقریباً 384 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس ضمن میں حکومتوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے بعض مواقع پر غیر معمولی انتظامات بھی دیکھنے میں آئے لیکن ایسے نقصانات سے تب ہی بچا جا سکتا ہے جب ہنگامی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے کچھ بندو بست کر لیا جائے۔ مثلاً کئی ممالک نے شہروں کو بچانے کے لیے جدید سسٹمز اپنائے ہیں۔ چین نے ارلی وارننگ ریڈار سسٹمز، فلوڈ کنٹرول ڈیمز اور ریزر وائرز بنائے ہیں جو بارش یا دریاؤں کے اچانک بڑھنے پر پانی کو روک کر آہستہ آہستہ چھوڑتے ہیں۔ بنگلہ دیش نے بڑے پیمانے پر فلوڈ ایمبین کمنٹس (بند) اور واٹر ڈائیورڑن چینلز بنا کر شہروں کو نسبتاً محفوظ کیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں شہروں کے اردگرد واٹر اسٹوریج بیسن، بارش کے پانی کے زیرِ زمین ٹینک اور ڈرینیج ٹنلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈیم یا ریزر وائر واقعی مؤثر طریقہ ہے، لیکن اس کے ساتھ جدید نکاسی آب اور بروقت وارننگ سسٹم بھی لازمی ہیں، کیونکہ صرف ڈیم پر انحصار کافی نہیں ہوتا۔
پاکستان کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک ایسا مربوط ماڈل درکار ہے جس میں بڑے ڈیمز کے ساتھ چھوٹے ڈیم اور چیک ڈیم ہر ضلع میں تعمیر کیے جائیں تاکہ برساتی پانی کو مقامی سطح پر روکا اور زراعت کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور پشاور میں زیر زمین ڈرینیج ٹنلز بنائے جائیں جو بارش اور فلیش فلڈ کے پانی کو فوری طور پر دریاؤں یا ذخائر کی طرف منتقل کریں، جبکہ شہروں کے اردگرد مصنوعی جھیلیں اور واٹر بیسن بنائے جائیں تاکہ اضافی پانی جمع ہو کر بعد میں پینے اور کھیتی باڑی کے کام آ سکے۔ اس کے ساتھ سیٹلائٹ اور ریڈار پر مبنی ارلی وارننگ سسٹم قائم ہو جو موبائل فون کے ذریعے ہر گاؤں تک بروقت اطلاع پہنچائے اور دریاؤں کے ساتھ ڈائیورڑن چینلز تعمیر کیے جائیں تاکہ زیادہ پانی آنے پر اسے محفوظ راستے سے گزارا جا سکے۔ اگر اربن پلاننگ میں شہروں کے کنارے گرین بیلٹس اور پارکس رکھے جائیں تو یہ بھی پانی جذب کر کے سیلابی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ لیکن اس سب کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔ حکومتیں استحکام کے ساتھ طویل مدت تک اپنا کام جاری رکھیں تا کہ منصوبے مکمل ہو سکیں۔ ورنہ ٹھوس بنیادوں پر کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ ملکی معیشت اور ترقی کا دارو مدار سیاسی استحکام پر ہوتا ہے اگر ہم اس وقت بھی سنجیدگی سے اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انتشار اور نفاق کے ہر رستے سے بچ کر ریاستی اور ملکی مفاد میں امن و امان کے قیام اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہو گا۔