سعودی عرب کی پاک مٹی سے نہ صرف ہمیں بلکہ ہرکلمہ گومسلمان کوپیاربھی ہے،عقیدت بھی اورمحبت بھی۔ یہ ملک توہمیں جان سے بھی پیاراہے کیونکہ وہاں پرحرمین شریفین کے ساتھ اس ملک اورمٹی سے دونوں جہانوں کے سرداراورہمارے آقاومحبوب ﷺکی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ خانہ کعبہ اورروضہ رسولﷺکی توایک جھلک دیکھنے کے لئے دنیاجہاں کے مسلمان ہمیشہ مچھلی کی طرح تڑپتے رہتے ہیں۔اس لئے تو شاعر نے کہا تھا کہ۔ سلامت رہے تیرے روضے کامنظر،سلامت رہے تیرے روضے کی جالی۔ہمیں بھی عطاء ہوشوق ابوذر، ہمیں بھی عطاء ہوجذبہ بلالی۔ ہم مکہ اورمدینہ کی مٹی کوبھی سرمہ کے طورپر آنکھوں میں لگانے کواپنی سعادت سمجھتے ہیں پھراس مکے اورمدینے کی حفاظت یہ توہمارے لئے سعادت کے ساتھ وہ اعزاز ہے جس پرہم رب کاجتنابھی شکراداکریں وہ کم ہے۔ رب اگر مکہ اور مدینہ کی حفاظت وچوکیداری والاکام ہم سے لیں تواس سے بڑھ کراعزاز،خوشی اورکامیابی ہمارے لئے اور کیا ہو گی۔؟ پاکستان اورسعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات برسوں نہیں بلکہ صدیوں سے قائم ہیں اوراللہ پاک ان تعلقات کواسی طرح تاقیامت قائم رکھے۔دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات ذاتی مفادات،سیاست،ثقافت،قومیت،زبان،رنگ اورنسل سے بالاترہے۔سعودی عرب سے ہماراکوئی مفادہویانہ تب بھی مکہ اورمدینہ سے ہمارا جان سے زیادہ محبت اورعقیدت کاایک ایسارشتہ بندھاہواہے جس رشتے پرجان اورمال قربان کرنے سے نہ پہلے ہم نے کوئی دریغ کیااورنہ انشاء اللہ آئندہ کبھی انکار کریں گے۔ سعودی عرب کی پاکستان سے محبت اورپیارکاپاکستان نے بھی ہمیشہ توقعات سے بڑھ کرجواب دیا۔پاکستان ہردوراورہرمحاذمیں ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑارہا۔کئی مواقع پرحرمین شریفین میں قیام امن کے لئے پاکستانی فوج کا تاریخی کردارکسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قطرسمیت دیگراسلامی ممالک کوجب اسرائیل نے نشانہ بناناشروع کیاتوسعودی عرب کوایسے حالات میں بااعتماددوست،وفاداربھائی اورمضبوط سہارے کے طورپرپاکستان ہی نظرآیا۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ نہ صرف خطے میں قیام امن کے لئے معاون ثابت ہوگابلکہ اس سے پاک سعودی تعلقات، بھائی چارہ، محبت اور اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط سے مضبوط ترہوگا۔اس معاہدے کاسب سے بڑافائدہ یہ ہوگاکہ مکہ اورمدینہ کی طرف اب کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرسکے گا۔فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے ساتھ مسلم ممالک پرحملوں کے لئے باؤلاہونے والایہودیوں کالے پالک اسرائیل بھی اب سعودی عرب کی طرف دیکھنے سے پہلے ایک نہیں ہزاربارسوچے گا۔اسرائیل کی بدمعاشی،دہشتگردی اورغنڈہ گردی کی وجہ سے یہ خطہ باالخصوص عرب دنیااس وقت شدیدخطرات اوربدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ایران کے بعداسرائیل نے جس طرح قطر کو نشانہ بنایاوہ نہ صرف عرب اور باقی مسلم ممالک بلکہ ہرکلمہ گومسلمان کے لئے باعث تشویش ہے۔ یہودیوں کی اشیرباد سے اسرائیل جس طرح مسلم ممالک پرچڑھ دوڑرہاہے اس سے تویہی لگ رہاہے کہ مسلمانوں کے خون کے اس پیاسے اور باؤلے درندے کو اگر فوری طورپرنہ روکاگیا تو پھر یہ فلسطین، ایران اورقطرکے ساتھ دیگراسلامی ممالک کو نشانہ بنانے سے بھی کبھی دریغ نہیں کرے گا۔ اسرائیل جیسی کفریہ طاقتوں کے شرسے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک نہ صرف آپس میں پاکستان اورسعودی عرب جیسے دفاعی معاہدے کریں بلکہ نیٹوطرزپرکوئی ایسا مسلم بلاک اور اتحاد بنایا جائے کہ جس کے ذریعے ایک طرف جہاں اسرائیل جیسے آوارہ گردوں کاراستہ روکاجاسکے وہیں دوسری طرف اس سے مسلم ممالک کاہرممکن تحفظ بھی ہو۔ دنیاکی بہترین افواج، ایٹم بم، تیل اور دیگر معدنیات کے خزانے،ایمان کی حرارت وطاقت سے معمور افرادی قوت، جغرافیائی اعتبار سے سب سے اہم مقامات پر واقع بندرگاہیں، سمندر اور آبی گزرگاہیں۔ رب کی وہ کونسی نعمت ہے جومسلمانوں کے پاس نہیں۔اللہ نے دین کی برکت سے مسلم دنیاکوہرنعمت سے نوازاہے مگرافسوس مسلمانوں کے آپس میں اتحادواتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان ان سب نعمتوں کے باوجودآج دنیامیں مارکھارہے ہیں۔مسلمان اگرآپس میں متحدہوتے توکیااسرائیل انبیاء کی مبارک سرزمین پربے گناہ فلسطینیوں کااس طرح خون بہاتا۔؟ فلسطین کے حالات دیکھ کرایک بات واضح ہے کہ جب تک مسلمان خوداپنے بچائو کے لئے کچھ نہیں کرتے تب تک ان کوبچانے کیلئے کوئی نہیں۔