Wed, September 16, 2026

وَتُعِزُ مَن تُشَائُ

وَتُعِزُ مَن تُشَائُ

تجزیہ جذبات میں ڈوب کر کرلیں،کسی کی محبت میں ڈوب کر کرلیں،کسی کی نفرت میں آلودہ ہوکر دیکھ لیں،معروضی حالات کا جائزہ لے لیں۔ جانبدارہوکر دیکھ لیں ،غیر جانبداررہ کر خیالات کو کھلا چھوڑ لیں ۔دیکھنے ،سوچنے یا لکھنے بولنے کے لیے کوئی بھی کیفیت اپنے اوپر طاری کرکے تخلیق کو موقع دے لیں ۔حال کی گھڑی میں جو رفعت،جو وقعت ،جو امتیاز،جو عروج،جو عزت ،جو وقار اللہ کی نُصرت اور مہربانی سے پاکستان کے حصے میں چل رہا ہے اس سے آنکھیں چُرانا ،اس کے خلاف کچھ لکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔جو کوئی بھی اس عزت افزائی کو دیکھ یا محسوس کرنے سے عاجز ہے وہ حسد کی آگ میں جل چکا یا پھر ہمارے دشمن کی زلف کا اسیر ہے ۔حال یہ کہ اس عزت افزائی کو دیکھ کر جو اس کی تعریف نہیں کرسکتا وہ خاموش تورہ سکتا ہے لیکن اس کو جھٹلا نہیں سکتا،یہاں تک کہ عمران خان صاحب نے بھی پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی معاہدے کو درست ،برمحل اور پاکستان کے لیے قابل فخر قراردیا ہے ۔وہ عمران خان جنہوں نے نے اس حکومت کی کبھی تعریف کی نہ وہ ایسا سوچ ہی سکتے ہیں وہ بھی خاموش نہیں رہ سکے باقی پیچھے کیا بچتا ہے ۔
پاکستان کی عزت افزائی کا یہ وہ جادو ہے جو دنیا کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔قطر کی میزبانی میں ہوئی امریکی صدر سے اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کے ڈونلڈ ٹرمپ سے ہاتھ ملانے کے سیکنڈ شمار کرنے والے بھی حیران اور ششدر ہیں کہ امریکی صدر نے نیویارک آئے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو سارے پروٹوکول توڑکر،بغیر کسی پیشگی سفارتکاری اور ترلے منتوں کے اتنی جلدی ملاقات کی آفر اور پھر ملٹری بیس پر ریڈ کارپٹ استقبال کے بعد درجنوں موٹر سائیکل سواروں کے پروٹوکول میں وائیٹ ہاؤس لانے اور ملاقات سے پہلے پریس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف اور فیلڈ مارشل کی آمد کا اعلان انہیں بہترین لیڈر کہہ کرکرنے میں کیا رازچھپا ہوا ہے۔اس میں میں ویسے تو اب کوئی راز ہے نہیں لیکن اگر ہوتا بھی تو ایسے کوتاہ اندیش اسے دیکھنے اور سمجھنے سے یکساں قاصر ہی رہتے جو وطن کوگالی دے کر اس کی قیمت وصولتے ہوں وہ اس راز کو دیکھ کر بھی قبول نہیں کرسکتے کیوں کہ اس سے ’’قیمت‘‘ پر کمپرومائز ہوتا ہے جو ان کی روزی روٹی کا ماڈل بنا ہوا ہے۔
پاکستان کی دنیا میں ایسی قبولیت کبھی بھی کسی بھی دور میں نہیں رہی ۔یہ اللہ کا فضل ہی ہے کہ وہ شہبازشریف اور عاصم منیر کی جوڑی کو اس قدر عزت دے کر ان سے پاکستان کی خدمت کروائے جارہا ہے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ’’وتعز من تشاء ،وتذل من تشائ‘‘ عزت اور ذلت قفط اللہ کی طرف سے تو پھر ہم یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ اس وقت پاکستان کی جو عزت افزائی ہورہی ہے وہ اللہ کریم کی طرف سے ہے؟ اس وقت پاکستان چین اور امریکا کے لیے یکساں قابل قبو ل ہے۔عین اس وقت جب وزیراعظم شہباز شریف وائیٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے مل رہے تھے تو ادھر چین میں سی پیک کے سب سے بڑے فورم جوائنٹ کواپریشن کمیٹی (جے سی سی)کا اجلاس ہورہا تھا۔ایک دن پہلے وزیراعظم قطر کے امیر سے ملاقات کررہے تھے تو دوسرے دن سعودی ولی عہد کے ساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط کررہے تھے۔
تجزیہ کرتے یا کوئی بھی رائے قائم کرتے وقت ایک بات ہمیشہ ذہن میں رہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہماری’’پھپھی کا پُتر‘‘نہیں ہے ۔ہر ملک کو اپنا مفادعزیز ہے اور دنیا کے تعلقات صرف ملکی مفادپر استوار رہتے ہیں ۔جب تک کسی کا مفاد قائم رہتا ہے تعلقات اور وابستگی قائم رہتی ہے مفادات معدوم ہونے لگیں تو تعلقات سے پہلو تہی یقینی ہوجاتی ہے۔ہم بھی جس سے مل رہے ہیںیا کوئی ہمیں بلاکرعزت دے رہا ہے اس میں بھی اپنے اپنے ملکی اور قومی مفادہی ہیں۔اگر ٹرمپ کے پیش نظر مفادات ہیں تو ہم بھی اپنے مفادا ت کے لیے امریکا سے مل رہے ہیں۔جملہ معترضہ کے طورپر یہ بیان ہوجائے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بابت جتنی شدت سے ہمارے تجزیہ کاروں کے تجزیے اوندھے منہ گرے ہیں شاید ہی کبھی ایسا پہلے ہوا ہو۔یہاں مشاہد حسین سید جیسے جہاندیدہ تجزیہ کار شدت جذبات سے مغلوب ’’چورن فروشی ‘‘میں مصروف تھے کہ ’’ٹرمپ جدوں آوے گالگ پتہ جاوے گا‘‘ایک فون آئے گا اور اڈیالہ کا دروازہ کھل جائے گا لیکن یہ سب تجزیے منہ کے بل گرے اور ٹرمپ کبھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ظہرانہ دیتا دکھائی دیا اور کبھی وزیراعظم شہبازشریف کو اوول آفس کی سیر کراتا نظر آیا۔
گزرے ایک ماہ سے بھی قلیل عرصے میں وزیراعظم پاکستان دنیا کی تین بڑ ی فیصلہ سازطاقتوں کے سربراہان سے مل چکے ۔اگست کے آخری ایام میں شنگھائی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم روس کے صدر ولادی میر پوتن سے ملے تو چینی صدر شی جن پنگ کے تین دن مہمان رہے۔پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے لیے سرخ قالین کھول دیا۔چینی اور امریکی صدر سے ملاقات کے درمیانی عرصے میں جو عرب ممالک میں پاکستان کی عزت افزائی ہوئی وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔میں لکھتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ بچا کون ہے جس نے شہبازشریف سے ہاتھ نہیں ملالیا ؟ہاں اگر کوئی بچ گیا ہے تو وہ فتنہۃ الہندوستان کا پردھان منتری شری نریندر مودی ہے جو شرمندہ ہی اس قدر ہے کہ ہاتھ ملانے کی حسرت دل میں لے کر اقتدار سے رخصت ہوجائے گا لیکن ہزیمت کے ڈر سے کبھی ہاتھ ملانے کی بات نہیں کرے گا۔
پاکستان کو یہ عزت مفت میں نہیں ملی بلکہ ہندوستان کی جارحیت کو واپس گنگا جمنا میں گاڑنے سے ملی ہے ۔پاکستان نے آپریشن سندور کو جس طرح ذلت اور رسوائی کی خاک چٹوائی ہے اس کی مثالیں رہتی دنیا تک دی جائیں گی ۔پاکستان ایئر فورس کی کامیابی دنیا کے جدید جنگی نصابوں کا حصہ بن چکی یہ عزت ،یہ تکریم سوائے اللہ کے اور کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا ۔اب اللہ کے شکرانے کے ساتھ ساتھ یہ ہماری قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس عزت سے پاکستان کے لیے خیر کی تلاش میں رہیں۔ دوسروں کے مسائل حل کرنے کے لیے خدمات دینے کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل بھی ذہن نشین رہیں۔اپنی اقتصادیات کا کوئی مستقل بہتری والا حل نکالیں۔بیرونی سرمایہ کاری کے میدان تلاش کیے جائیں ۔اپنے روپے کو مضبوط اور ڈالر کو کمزوررکھنے کا بندوبست کیا جائے ۔پٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم رکھنے کی جستجوکی جائے ۔اور پاکستان کے مغربی بارڈر پر جو عاقبت نااندیش ہم پر دہشتگردی کے لیے مسلط ہیں ان کی ناک بھی اسی طرح خاک آلود کردی جائے جس طرح سات مئی کو ہندوستان کی کی گئی کیونکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس راستے سے خوشحالی ملکوں کا رخ کرتی ہے۔ ہمیں اس امن کی ضرورت ہے ۔دہشت گردوں سے بات چیت کا فارمولہ انتہائی بوسیدہ اور پرانا ہے ۔ہم یہ سب کچھ درجنوں بار کرچکے ،نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کہ ان کو واپس لاکر یہاں بسا لو یہ اسی بندوق سے اپنا رشتہ دوبارہ جوڑکر پھر ہمارے ہی جوانوں کا لہو بہانے لگتے ہیں۔اس کا مستقل بندوبست ہمارے مستقبل کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: