Wed, September 16, 2026

مجھے کیا لگے....!

مجھے کیا لگے....!


چوپال سجی ہوئی تھی۔ سب ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے۔ چپ سائیں کی گرجدارآواز سن کر سب چونک گئے اوراحتراماکھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیاسب اپنی اپنی نشست پر براجمان ہوگئے۔ نتھونے کہا سائیں جی آج میری پھتو سے ایک بات”مجھے کیا لگے“ پر بہت بحث ہورہی ہے۔ میں اس کو اپنے دل کا دکھ سنارہا ہوں لیکن یہ بار بارکہ رہا ہے کہ مجھے کیا لگے؟۔۔۔ یہ یاں تو صرف اپنی بات کرنا چاہتا ہے یا پھر اجتماعیت کا قائل ہی نہیں ہے اور ایک ہی گردان مجھے کیا لگے؟۔رٹی ہوئی ہے۔ اس پر اب آپ ہی روشنی ڈالیں۔ 
چپ سائیں نے کہا نتھو اور پھتو میرے بچو انفرادیت کی بجائے اگر اجتماعیت کی سوچ رکھو گے تو پھر یہ مجھے کیا؟ والی بات ہر گز نہیں ہوگی۔زندگی میں ہر انسان کئی بار اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے فیصلے، جیسے لباس پہننا، رنگ کا انتخاب، یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ مجھے کیا لگے؟۔ یہ ایک عام سا جملہ ہے، لیکن اس کے پیچھے انسان کی سوچ، ذوق اور شخصیت چھپی ہوتی ہے۔صاحبو!روزمرہ زندگی میں ایسے بہت سے واقعات ہوتے ہیں جیسے کی مجھے چوپال میں موجود اکرم نے کل ہی بات بتائی تھی کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بازار گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ نیا لباس خریدے، لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کون سا لباس اس پر اچھا لگے گا۔ ہر کپڑے کو ہاتھ لگا کر دیکھتا، سوچتا اور پھر واپس رکھ دیتا۔ دوست اسے بار بار کہہ رہے تھے کہ کوئی بھی لباس خرید لے، لیکن علی بار بار کہتامجھے کیا لگے؟ یہ واقعی میرے اوپر کیسا دکھے گا؟۔
دوستو!یہ چھوٹا سا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی پسند پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ اکرم جانتا تھا کہ صرف دوسروں کی رائے پر بھروسہ کرنے سے وہ خوش نہیں ہو گا۔ وہ چاہتا تھا کہ لباس اس کی شخصیت کی عکاسی کرے، اس کے مزاج اور خوداعتمادی کو بڑھائے۔ آخرکار، اکرم نے ایک ایسا لباس چن لیا جو نہ صرف خوبصورت تھا بلکہ اس پر بہترین لگ رہا تھا۔ اس لمحے اس نے محسوس کیا کہ صحیح 
انتخاب انسان کو خوشی اور اطمینان دے سکتا ہے۔ صاحبو!یہی اصول زندگی کے بڑے فیصلوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چاہے وہ تعلیم کے شعبے کا انتخاب ہو، کیریئر کا راستہ، یا دوست اور ساتھیوں کے انتخاب کی بات ہو، ہمیں ہمیشہ سوچنا چاہیے کہ مجھے کیا لگے؟۔ دوسروں کی رائے اہم ہو سکتی ہے، لیکن آخرکار فیصلہ خود انسان کا ہونا چاہیے۔
یہ سوچ ہمیں خوداعتمادی اور ذاتی شناخت بھی سکھاتی ہے۔ جب ہم اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں تو ہم دوسروں کی رائے سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ یہ ہمیں مضبوط بناتا ہے اور ہر ماحول میں خود کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنے کی طاقت دیتا ہے۔زندگی میں چھوٹی چھوٹی مثالیں اس بات کو مزید واضح کرتی ہیں۔ مجھے کیا لگے۔۔۔ صرف ظاہری چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ 
دوستو! یہ کہنا درست ہوگا کہ زندگی میں اپنے دل اور دماغ کی سننا سب سے اہم چیز ہے۔ ہر شخص کو اپنے لیے سوچنا چاہیے کہ اسے کیا اچھا لگتا ہے اور کیا اس کی شخصیت کے مطابق ہے۔ یہی وہ راز ہے جو انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔مزید برآں، یہ سوال ہمیں اپنی اخلاقی اور فکری سوچ کی طرف بھی توجہ دینے پر مجبور کرتا ہے۔ زندگی میں ہر فیصلہ، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہمیں سوچنے اور اپنی ترجیحات طے کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمیں کس قسم کے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے، کون سی سرگرمی ہمارے لیے بہتر ہے، اور کس چیز میں ہم وقت اور محنت صرف کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سب انتخاب اسی جملے سے شروع ہوتے ہیں:“مجھے کیا لگے؟۔
زندگی میں صحیح انتخاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہمیں اپنے دل کی سننے کے لیے دوسروں کی تنقید اور مشوروں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ہر صحیح اور سوچ سمجھ کر کیا گیا انتخاب انسان کو خوشی، سکون اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ صاحبو!یہ کہنا درست ہوگا کہ جملہ مجھے کیا لگے؟صرف ظاہری چیزوں تک محدود نہیں۔ یہ انسانی شخصیت، ذاتی پسند، خوداعتمادی، اور فکری و اخلاقی ترقی کا آئینہ بھی ہے۔ زندگی میں ہر انسان کو اپنے دل اور دماغ کی سننا چاہیے، اپنی ترجیحات طے کرنی چاہیے اور وہ انتخاب کرنا چاہیے جو اسے واقعی خوش اور مطمئن کرے۔ یہی وہ راز ہے جو انسان کو زندگی میں کامیابی اور سکون فراہم کرتا ہے۔
دوستو!مجھے کیا لگے۔۔؟کے بارے میں بات کرنے سے قبل یہ بھی ضروری بات ہے کہ اس کو مد نظر رکھاجائے کہ ظاہری انتخاب، جیسے لباس، رنگ یا ذاتی طرز زندگی، بھی انسان کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی بھی شخص کا انتخاب اس کے مزاج، ذوق اور خوداعتمادی کو ظاہر کرتا ہے۔ صحیح انتخاب انسان کو نہ صرف خوشی دیتا ہے بلکہ اس کے دل میں اطمینان اور اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح، فکری اور عملی فیصلے، جیسے تعلیم کے شعبے یا پیشے کا انتخاب، انسان کی زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ہر فیصلہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور ترجیحات کو کس حد تک سمجھتا اور اہمیت دیتا ہے۔
 یہ سوال انسان کی اخلاقی اور فکری سوچ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زندگی میں ہر فیصلہ انسان کو اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق سوچنے اور اپنی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں میں درست سمت اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ صرف دوسروں کی رائے پر انحصار کرنے سے انسان کبھی مکمل مطمئن نہیں رہ سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے دل اور دماغ کی سنے اور اپنی ذاتی پسند، ذوق اور مزاج کے مطابق فیصلہ کرے۔ یہ عمل نہ صرف انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے بلکہ اس کے اخلاقی اور فکری معیار کو بھی بلند کرتا ہے۔
مجھے کیا لگے۔۔۔۔ایک سادہ سا جملہ ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے انسانی خوداعتمادی، ذاتی شناخت، ذوق اور فکری سوچ چھپی ہوتی ہے۔ یہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں ہر فیصلہ، چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اپنے دل اور دماغ کی سن کر کرنا چاہیے۔ انسان کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اپنی ذات کو سمجھنا اور اپنی پسند کے مطابق فیصلے کرنا زندگی کی کامیابی اور سکون کا سب سے اہم راز ہے۔۔۔ رہے نام اللہ!۔

ٹیگز: