ملک مےں جاری مہنگائی، بےروزگاری، کرپشن، سےاسی انتشار کے باعث ذہنی مرےضوں کی تعداد مےں روز بروز اضافہ ہونے لگا، ہر سال 40 فےصد سے 55 فےصد تک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ اےک رپورٹ کے مطابق اس ذہنی بےماری مےں ڈپرےشن ، اداسی، ماےوسی، پرےشانی، شدےد غصہ، چڑچڑا پن، طبیعت مےں تےزی، نےند اڑ جانا، الٹے سےدھے خےالات آنا شامل ہےں۔ اس سارے عمل مےں مرےض ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس تعداد کے بڑھنے کی بنےادی وجہ عوام بےروزگاری، دن بہ دن بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشرافےہ کی کرپشن اور سےاسی عدم استحکام سے شدےد پرےشان ہےں اور ملک کو درپےش مسائل مےں سے ےہ انتہائی اہم سنگےن مسئلہ ہے لےکن اےسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اسے دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔
اےک رپورٹ کے مطابق ملک کے 15 تا 40 سال کے درمےان عمر کے لوگ کے مہنگائی، بےروزگاری اور غربت کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہےں۔ ملک مےں بےروزگاری کی سنگےن صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے ےہ کافی ہے کہ ڈگری ےافتہ نوجوان معمولی ملازمتےں کرنے پر مجبور ہےں اور اکثر دےکھا گےا ہے کہ اعلیٰ تعلےم کے حصول کے باوجود بھی اےسے نوجوان درجہ چہارم کی سرکاری ملازمت کے لئے درخواستےں دے رہے ہےں۔ اس حقےقت سے انکار ممکن نہےں کےا جا سکتا کہ ملک کی ترقی کی رفتار مےں بےروزگاری اےک بڑی رکاوٹ ہے۔ نئی لےبر فورس سروے رپورٹ بڑی ہوشربا ہے جس کے مطابق ملک مےں 80 لاکھ بے روزگار افراد ہےں۔ گزشتہ مالی سال مےں پاکستان کی بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فےصد ہو گئی ہے جو گزشتہ 21 برسوں کی بلند ترےن سطح ہے۔ پاکستان بےورو آف سٹےٹکس کے چےف ڈاکٹر ظفر نعےم کے مطابق بے روزگاری کی شرح 2021ءمےں 6.3 فےصد تھی، جو 2024-25ءمےں بڑھ کر 7.1 فےصد ہو گئی، ےہ شرح 2003-4ءکے بعد سب سے زےادہ ہے جب بے روزگاری 7.7فےصد رہی تھی۔
ملک کے لاکھوں خاندان مہنگائی کی بنا پر زندگی تنگ محسوس کر رہے ہےں۔ نچلا طبقہ تو ہے ہی بےچارہ لےکن اب تو مہنگائی نے متوسط طبقے کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب متوسط طبقہ بہت سی اشےاءجن مےں بکرے اور مرغی کا گوشت، اعلیٰ معےار کے چاول اور دالوں کو اپنے مےنےو سے خارج کر چکا ہے۔ آج متوسط طبقے کی اکثرےت بےنکوں ےا انفرادی افراد کی مقروض ہے۔ مجھے اےک سونے کا کاروبار کرنے والے بتا رہے تھے کہ اپنے بجلی کے بل ادا کرنے کے لئے اپنے زےورات بڑی تعداد مےں فروخت کر رہے ہےں۔ ادھر پاکستان گلوبل ہنگر انڈےکس 2025ءکے مطابق123 ممالک مےں 106 وےں نمبر پر ہے جو کہ بہت الارمنگ ہے۔ بنےادی طور پر ےہ انڈےکس بھوک کی بنےاد پر نہےں ہوتا بلکہ زےادہ غذائےت اور وہ بھی بچوں کی غذائی قلت پر مبنی ہے۔ ےہ بھی سچ ہے کہ رواےتی معنوں مےں بھوک کا مطلب غذائی اجناس کی دستےابی مےں کمی ہے، جو پاکستان مےں موجود نہےں ہے۔
مہنگائی سے عوام کے صبر کا پےمانہ لبرےز ہو رہا ہے، عوام نفسےاتی مرےض بنتے جا رہے ہےں اربابِ اختےار کو سنجےدگی سے سوچنا چاہئے کےونکہ اب مزےد معاشی قتل کی قوم متحمل نہےں ہو سکتی ، علاوہ ازےں جس بے رحمی کے ساتھ عوام کی معاشی زندگی اور ان کے معصوم سے مستقبل کے خواب چکنا چور ہوتے رہے ہےں اس کا اربابِ اختےار نے اگر جلد ادراک نہ کےا تو عوام کے صبر کے پےمانے کو چھلکنے مےں شائد دےر نہ لگے۔ وہ اب بھی "آرزو صبرطلب اور تمنا بے تاب" جےسی نفسےاتی کشمکش مےں مبتلا ہےں۔
ہمارے ملک مےں تمام تر ذرائع معاش پر صرف چند ہاتھوں کا قبضہ ہے۔ پہلے انہوں نے زمےن پر قبضہ کےا اور پھر اس سے حاصل ہونے والے اسباب پر اپنی گرفت ہوس انگےز مضبوط کر لی۔ آج عالم ےہ ہے کہ اس ملک کے لوگ عزت کی دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہےں۔ موجودہ دور مےں تو عزت کی روٹی کا سوال نہاےت سنجےدہ ہے۔ ہمارا مشورہ ےہ ہے کہ لفظ عزت کا بذرےعہ سادہ مگر پروقار جنازہ دفنا دےا جائے۔ دلےل اس قبر بندی کی ےہ ہے چونکہ ہمارے معاشرے مےں ضرورت مند کو ضرورت کی کوئی بھی چےز فراہم نہےں ہے، لہٰذا عزت کی تلاش کے اضافی بوجھ کو اٹھائے رکھنے کی کوئی ضرورت نہےں ہے بلکہ عزت پر منوں مٹی ڈال کے اس کی موت کا اعلان کر دےا جائے۔ سیکڑوں تلاشوں مےں سے اےک تو کم ہو گی۔ لےکن ہماری قوم چونکہ خمےری اعتبار سے ماضی پرست ہے، اس لئے اب بھی غالب آبادی کا مسئلہ اےک ہی نظر آتا ہے کہ عزت کی روٹی کس طرح کمائی جائے۔ بھوک اور خوف کی زندگی اللہ کے دو بڑے عذابوں مےں سے ہےں۔ اسی لئے دونوں سے بچنے کے لئے اس نے زمےن اور آسمان مےں جو کچھ ہے اسے ہمارے لئے مسخر کر دےا کہ ہم اس سے کام لےں۔ ہم سے مراد صرف پاکستانی ےا پاکستانی مسلمان نہےں بلکہ تمام بنی نوع انسان ہےں۔ قدرت نے اپنے وسائل اور قوانےن کے لازمی نتائج کی مساوی تقسےم سے ےہ مسئلہ حل کر دےا۔ اس طرح قوانےنِ فطرت در حقےقت طبعی قوانےن ہوئے۔ اس لئے زندگی سے متعلق جو کچھ بھی ساز و سامان ہے وہ انہی قوانےن کے اتباع سے ملے گا۔
اس سال آئی اےم اےف نے پاکستان کے بارے مےں رپورٹ مرتب کی جسے حکومت نے تےن ماہ تک خفےہ رکھا اور آخر کار آئی اےم اےف کے دباو¿ پر شائع کرنا پڑی۔ اس رپورٹ مےں آئی اےم اےف نے پاکستان کی حکمرانی اور کرپشن کے بارے مےں اپنے مشاہدات بےان کئے ہےں۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہےں بلکہ وسائل کے غلط استعمال، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے اور غےر جوابدہ حکمرانی کا ہے۔ ےہی وہ بنےادی کمزورےاں ہےں جو معاشی اصلاحات کو بار بار ناکام بناتی ہےں۔ آئی اےم اےف کے مطابق پاکستان کے ٹےکس نظام مےں شفافےت کی شدےد کمی ہے بڑے طبقے کے لئے ٹےکس استثنیٰ نچلے طبقے کے لئے بوجھ جو نچلے طبقے کو مزےد نےچے لے جا رہا ہے۔ رپورٹ مےں مزےد بےان کےا گےا ہے کہ نچلی سطح کی کرپشن نے رےاست کے ساتھ شہری کے تعلق کو کمزور کر دےا ہے جب کہ بڑی کرپشن نے ملکی معےشت کی بنےادےں ہلا کر رکھ دی ہےں۔ ےہ چےزےں عوام کا ڈپرےشن مزےد برھاتی ہےں، عوام اپنے آپ کو بڑا بے بس پاتے ہےں جب دےکھتے ہےں کہ باثر افراد کو تو لوٹ مار کی کمائی سے من و سلویٰ مےسر ہے مگر بےچارے بے اثر افراد کے بچوں کو دو وقت کی مناسب روٹی بھی مےسر نہےں ہے۔ آئی اےم اےف کے مطابق پاکستان کا ٹےکس کا نظام بھی بہت ناقص ہے جس کا غرےبوں پر امراءکی نسبت بوجھ زےادہ ہے۔ ےہی وجہ ہے ملک مےں مہنگائی، بےروزگاری اور دےگر مسائل کی وجہ سے لوگوں مےں ڈپرےشن کے مرض مےں اضافہ ہو رہا ہے۔