ٹاپے کی بس میں وہی اہمیت ہوتی ہے جو گھر میں چارپائی کی۔ ٹاپا بس میں وہ مقام ہوتا ہے جس پر کم و بیش تمام کھڑی ہوئی سواریوں کو بٹھایا جا سکتا ہے۔صرف ٹاپے کی امید پر بس بھری ہونے کے باوجود سواریاں آتی رہتی ہیں۔ ٹاپے پر کسی سمت سے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی سو آپ کسی بھی طرف کسی بھی پوز میں ٹاپے پر سوار ہو سکتے ہیں۔ تعاون، بھائی چارے اور اپنائیت کا اس سے بہترین احساس اور کیا ہو گا کہ یہ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ آپ کی ایک ٹانگ آپ کی ہی دوسری ٹانگ پر چڑھی ہے یا فرطِ جذبات میں کسی دوسری سواری کی ٹانگ سے بغلگیر ہو گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹاپے نے ہماری نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ ہم اپنے رستے کے ہر موڑ پر ٹاپے کی امید پر کھڑے رہتے ہیں۔
ہم بابصیرت لوگوں، مفکروں، فلسفیوں، سیاست دانوں اور رہنماﺅں کی جگہ ٹاپے پیدا کر رہے ہیں جن پر ہر خاص و عام کو سوار کیا جا سکتا ہو۔ ہم نے معیار ہی یہ بنا دیا ہے کہ آپ سوشل ورک، سیاست یا مذہب میں وہ کام کریں جو ٹاپا کر سکتا ہے۔ سبھی کو لاد کر چل پڑیں۔ اپنا پرایا، خاص و عام ، اچھا برا، محمود و ایاز سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ کیسے ماضی میں انسانی تہذیب نے لکرگس جیسے کرداروں کو جنم دیا۔ سپارٹا کے عیش پرست طبقات سے الگ تھلگ، مساوات اور اجتماعی انسانی بہبود کے لیے سوچنے والا شخص۔ سیاست میں اپنی فکر سے لکرگس نے معاشی اصلاحات کا پورا نظام تشکیل دیا۔ وہ شاید ہمارے لوگوں کی طرح یہ نہیں جانتا تھا کہ سبھی کو راضی کر کے زندگی میں آگے بڑھا جا سکتا ہے یا پھر ٹاپے کی طرح ہر سواری کو اٹھا کر دنیا گھومی جا سکتی ہے۔
مارکس آریلیس کو روم کی تہذیب نے اس وقت جنم دیا جب بادشاہت اپنی قطعی حیثیت میں قائم تھی۔ مارکس آریلیس نے فلسفی بننا پسند کیا۔ وہ روم کے پانچ اچھے شہنشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اس کے نظریات سے متاثر ہوئے۔اس کی تحریر "Meditations" ایک ذاتی ڈائری کے طور پر ہے، جس میں اس نے زندگی، فرض، اخلاقیات، موت اور انسانی فطرت پر غور لکھا۔ مارکس آریلیس کے سماج نے اسے ٹاپا نہیں فلسفی بنایا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں کو فکر و فلسفے میں صرف کیا اور انسانیت کی خدمت علمی اور نظریات میدان میں کی۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر سقراط سبھی کو راضی کرنے کا فیصلہ کر لیتا اور معذرت کر لیتا تو آج انسانیت کہاں کھڑی ہوتی ؟ سقراط نے ٹاپا بننے پر زہر کے پیالے کو ترجیح دی۔ اس نے ہزاروں برس پہلے بتایا کہ آدمی اپنے مو¿قف سے شناخت پاتا ہے اور مو¿قف دلیل کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا نہ بغیر دلیل کے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سقراط کے سامنے اصولی مو¿قف تبدیل کرنے والے بازاری آدمی یا طوائف کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی؟ ۔
سوال یہ ہے کہ زمانہ آگے جا رہا ہے یا پیچھے؟ ہم بڑے کردار پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑے لوگ ناپید ہو رہے ہیں۔ عالمی سیاست کا سب سے بڑا ہنر ٹاپہ سازی ہے۔ کوئی ملک اپنا قطعی موقف نہ رکھے کسی قوم کی کوئی قدر حتمی نہ ہو۔ کسی رائے کو استقلال حاصل نہ ہو اور کسی کو کسی کی کچھ سمجھ نہ آئے۔
مفاد آپ کا خدا ہو۔ ہم بکثرت ایسے لوگوں کو اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں جن کی اپنی کوئی رائے ہی نہیں ہوتی۔ ان کی پسند مفاد کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔ یہ لوگ سیاست و قیادت میں ٹاپے ڈھونڈتے ہیں جو ان سب کو سوار کرنے پر قادر ہوں۔ سبھی کا بوجھ اٹھا سکتے ہوں۔ یہ ٹاپے جیسے تیسے پوری بس کو راضی رکھیں۔ یہی معاشرے میں بڑی مہارت تسلیم کی جاتی ہے۔ بھئی آپ بظاہر بھلے آدمی ہی دکھتے ہوں لیکن آپ کا مزاج ٹاپے جیسا ہونا چاہیے وگرنہ آپ سیاست کر سکتے ہیں اور نہ قیادت۔ بس سیکھ لیجیے دائیں اور بائیں دونوں جانب سلام کیسے کرنا ہے۔ حمایت اور مخالفت کے درمیان کیسے ڈٹے رہنا ہے۔ پسند نہ پسند کو کیسے گھمانا ہے؟ یعنی آپ کو نہ تو اصل خوشی کا احساس ہوتا ہو اور نہ ہی دکھ حقیقی لگے۔ غصہ بھی مفاد کو ٹھیس پہنچنے پر دستیاب ہو۔ اگر خوشی اور غم دونوں میں ذاتی عوامل کار فرما ہوئے تو کام خراب ہے۔ پھر آپ اس معاشرے میں ترقی یافتہ نہیں ہو سکتے۔
جس قدر مضحکہ خیز اور نا قابلِ اعتبار کردار آج کے انسان نے عالمی سطح پر پیش کیے ہیں یہ ماضی کے انسانی تعارف سے بہت مختلف ہیں۔ یہ لوگ اسی قبلے کے امین ہیں جو تاریخ میں دھتکارا گیا تھا۔ یہ کیسی صورت حال ہے کہ مادی ترقی نے جس حیران کن حد تک انسان کی روحانی اور اخلاقی اقدار کو مجروح کیا ہے اس سے نظر چرا کر ترقی کرتے رہنا اجتماعی انسانی غلطی ہو گی۔ اور ہم سب یہ غلطی مل کر رہے ہیں۔ آنے والا دور ہماری نسلوں کے کی تنہائی اور اجنبیت کا دور ہو گا۔ ہم نے معاشرے سے تعلق پہلے خاندان کو کھو کر توڑا تھا۔ اب معاشی رشتوں سے شناخت کیے جانے والے معاشرے نے نئی شکل لینی ہے۔ آنے والا دور جب آمدنی کے تصور اور ذرائع کو یکسر بدل دے گا تو معاشرتی تعلق کی ضرورت مکمل ختم ہو جائے گی۔