عرفان وڑائچ شہر اقبال سیالکوٹ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے منتخب صدر اور ایک منجھے ہوئے جانے مانے وکیل ہیں۔ اتفاق سے اب تک میری ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر میں انہیں ناروے میں مقیم ہمارے خوبصورت دوست اور معروف شاعر آفتاب وڑائچ کے بڑے بھائی کی حیثیت سے اور ایک نامور قانون دان کے طور پر ایک عرصے سے جانتا ہوں۔ حال ہی میں آفتاب وڑائچ کی وساطت سے مجھے عرفان وڑائچ کے کالموں کے مجموعہ ’’فرد جرم‘‘ کا مسودہ ملا تو سیاسی و سماجی موضوعات پر جیسے جیسے میں عرفان وڑائچ کی رواں اور سلیس نثر پڑھتا گیا اس نے مجھے ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ قانون اور دیگر گوناگوں مصروفیات کے حامل کسی بھی شخص کی ادبی چاشنی سے بھرپور ایسی خوبصورت نثر یقینا ایک حیران کن ’’کارنامہ‘‘ ہے مگر عرفان وڑائچ کی’’فرد جرم‘‘ پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ وہ صرف ایک منجھے ہوئے وکیل ہی نہیں بلکہ ایک بھرپور ادبی شخصیت بھی ہیں۔ ’’فرد جرم‘‘ ایک منفرد ادبی کاوش ہے جس میں ایک وکیل کی پیشہ ورانہ بصیرت کو ایک ادبی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ موضوعات کے چنائو کے ساتھ ان کی تحریر کی سادگی اور روانی ان کے اسلوب کی ایسی خوبی ہے جو انہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ وہ اپنے کالموں میں قاری کو لفظوں کے جال میں الجھانے کی بجائے سیدھے سادے انداز میں جس طرح اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں وہ قاری کو بندھی ہوئی کہانی کی طرح کالم کے آغاز سے آخر تک جوڑے رکھتا ہے۔ ان کی تحریر کی گہرائی اور تفہیم کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بات کو آسان زبان میں پیچیدگیوں کے بغیر بیان کر دیتے ہیں۔ اس کتاب کا ایک خوبصورت اور منفرد پہلو یہ بھی ہے اس میں قانونی پہلوؤں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی مسائل کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ کتاب میں شامل کالموں میں انسانی حقوق، مساوات اور عدل و انصاف کے لیے جد و جہد کی روح جھلکتی ہے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس مجموعے میں شامل مضامین صرف قانونی مباحث نہیں ہیں بلکہ یہ ہماری معاشرتی و سیاسی منافقتوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ عرفان وڑائچ اپنے کالموں میں ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور انصاف کی تلاش میں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ سماج میں ہر فرد کا کردار ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک فعال شہری کے طور پر معاشرے کا ہر فرد مثالی معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ’’فرد جرم‘‘ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسی ’’فرد‘‘ ہے جو ناصرف ہمیں ہمارے اپنے ارد گرد کے مسائل کی طرف متوجہ کرتی ہے بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ ہم کس طرح اپنے معاشرتی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں اور کس طرح ایک مؤثر شہری کی حیثیت سے ملک کی تعمیر ترقی اور بہترین معاشرے کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے ’’فرد جرم‘‘ ایک اہم کتاب ہے جو زندگی کے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے اہم معلومات کی فراہمی کے ساتھ قاری کو ایک بہتر مستقبل کے لیے غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی منفرد تخلیق ہے جو وکالت اور صحافت کے درمیان تعلق کو بھی نہایت خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب صرف وکالت سے منسلک یا دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مددگار نہیںبلکہ عام قارئین اور قانون کے طلبا کے لیے بھی ایک اہم علمی اور فکری بصیرت فراہم کرتی ہے۔ ’’فرد جرم‘‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک وکیل کو صرف قانونی معاملات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک باشعور اور پڑھے لکھے شہری کی حیثیت سے اسے معاشرے میں سماجی مسائل کے حل اور انسانی حقوق کی دستیابی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وکالت محض ایک پیشہ نہیںبلکہ یہ ایک مشن ہے جو انسانیت کی خدمت کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ ’’فرد جرم‘‘ میں ایک کامیاب اور منجھے ہوئے وکیل کی خوبصورت نثر اور دلکش انداز تحریر پڑھ کر یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ
وکالت اور صحافت دو الگ شعبے ہونے کے باوجود ان دونوں کے مابین ایک اہم دوطرفہ رشتہ موجود ہے۔ کسی بھی کیس میں جج کے سامنے وکیل کو دلائل پیش کرنے کی مہارت حاصل ہونی چاہیے جو صحافتی باریکیوں اور مہارتوں کو سمجھے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح صحافیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ قانونی امور کو سمجھیں تاکہ وہ اپنی خبر اور تجزیے میںمعاشرتی مسائل کی اصل صورت حال اور اُن کا درست حل پیش کر سکیں۔ عرفان وڑائچ نے اپنی تحریروں میں اس تعلق کو بڑی مہارت سے اجاگر کیا ہے۔ ان کے کالموں میں جس انداز میں مختلف کیسز اور سماجی و سیاسی واقعات کی عکاسی کی گئی ہے وہ قانونی، سیاسی اور سماجی پیچیدگیوں کو ایک عام قاری کے سمجھنے کے لائق بناتے ہیں۔ ’’فرد جرم‘‘ میںعرفان وڑائچ کی فکری اور نظریاتی اسلوب کی بات کریں تو ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی تحریروں میں ہمیں ان کی زندگی کے تجربات کا بڑا گہرا اور واضح اثر نظر آتا ہے۔ وہ معاشرتی مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف ایک طاقتور آواز بلند کرتے ہیں جو انہیں ایک کامیاب وکیل کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کالم نویس بھی بناتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک مستقل احساس ملتا ہے کہ وہ وکالت کے ذریعے ایک عام آدمی تک نہ صرف قانونی بلکہ سماجی انصاف کی فراہمی کو بھی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ آخر میں، میں یہ کہوں گا کہ ’’فرد جرم‘‘ ایک ایسی زبردست اور اہم کتاب ہے جو صرف وکلا، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر اس فرد کے لیے اہمیت رکھتی ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی کی خواہش کرتا ہے۔ عرفان وڑائچ کی یہ تخلیق ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری ایک آواز ہے اور اس آواز کے ذریعے ہم ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ یہ کتاب درحقیقت ایک فرد کی زندگی کی عکاسی ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم بھی اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک مؤثر شہری بن سکتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ ’’فرد جرم‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے گرد و نواح میں کس قسم کی مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں اور انہیں اس تبدیلی کے لیے کس قسم کی کاوش کرنی چاہیے۔ ’’فرد جرم‘‘ عرفان وڑائچ کی ایک خوبصورت کاوش ہے جس پر وہ یقینا لائق تحسین اور پیشگی مبارک باد کے مستحق ہیں۔