تہران/واشنگٹن : امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ اب عسکری محاذ آرائی کے قریب پہنچ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے "وینزویلا سے بھی طاقتور" بحری بیڑے کی دھمکی کے بعد ایران نے جوابی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران کی طاقتور عسکری قوت، پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک پیغام جاری کیا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی جہاز نے ایرانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تو اسے فی الفور نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی بیڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں 9 کلومیٹر کے دائرے میں ہنگامی عسکری مشقیں شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
انتہائی کشیدہ صورتحال میں ایرانی صدر اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس نے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
سعودی قیادت نے ایران کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے علاقائی استحکام کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ان کی انٹیلی جنس ایرانی قیادت کے مذاکرات کی خواہش بتا رہی ہے، تاہم بحری بیڑے کی پیش قدمی ایران کو سمجھوتے پر مجبور کرنے کے لیے جاری رہے گی۔