فلسطین محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ انسانیت کے زخمی ضمیر پر ثبت وہ چیختا ہوا نوشتہ ہے جو ہر صبح تازہ لہو میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ یہ وہ داستانِ الم ہے جو صدیوں کی گرد میں نہیں، صرف چند دہائیوں کی راکھ میں دبی ہوئی ہے، مگر اس کی تپش آج بھی دلوں کو جلا دیتی ہے۔ ہر گزرتا دن اس کہانی میں ایک نیا باب نہیں، ایک نیا جنازہ لکھتا ہے اور ہر نئی صبح ایک تازہ قبر کا اضافہ رقم کرتی ہے۔ امیدوں کی شمع بجھتی جاتی ہے اور مایوسی کا اندھیرا پھیلتا چلا جاتا ہے۔
1948ءکا سال تاریخ کے ماتھے پر اس بدنما داغ جیسا ہے جس نے فلسطینیوں کو ان کے گھروں، گلیوں، مسجدوں اور قبرستانوں تک سے بے دخل کر دیا۔ یہ صرف ہجرت نہ تھی، یہ شناخت کی جلاوطنی تھی۔ پھر 1967ءکی جنگ آئی، انتفاضہ کی آگ بھڑکی اور اوسلو کے کاغذی چراغ جلائے گئے، مگر ہر بار روشنی کے بجائے دھواں ہی اٹھا۔ معاہدے طاقچوں میں سجا دیئے گئے، وعدے فائلوں کی دھول میں دفن ہو گئے اور فلسطینی عوام کے حصے میں صرف ملبہ، آنسو اور لاشیں آئیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دنیا نے اس المیے کو ایک مستقل خبر سمجھ کر قبول کر لیا ہو، جس پر اب کوئی چونکتا ہی نہیں۔
سوال یہ نہیں کہ فلسطین کا مسئلہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں واقعی اسے حل کرنا چاہتی ہیں، یا اسے اپنے مفادات کی بساط پر ایک مہرہ بنا کر رکھنا ہی کافی سمجھتی ہیں۔ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور انسانی حقوق کے عالمی منشور سب یک زبان کہتے ہیں کہ ہر قوم کو حق ِ خودارادیت حاصل ہے۔ مگر جب بات فلسطینیوں کی آتی ہے تو یہ ساری کتابیں بند ہو جاتی ہیں، یہ سارے اصول خاموش ہو جاتے ہیں۔ طاقت کا پلڑا بھاری ہو تو انصاف کی ترازو الٹ جاتی ہے۔ یہی المیہ فلسطین کا مقدر بن چکا ہے۔
فلسطین پر اسرائیلی قبضہ محض ایک عسکری حقیقت نہیں، یہ ایک زندہ قوم کی سانسوں پر رکھا ہوا وہ بوجھ ہے جو ہر لمحہ اسے کچل رہا ہے، مسل رہا ہے۔ بستیوں کی توسیع، دیواریں، ناکہ بندیاں، چیک پوسٹیں اور بمباری سب مل کر یہ اعلان کرتی ہیں کہ مسئلہ سکیورٹی کا نہیں، مسئلہ انصاف کے قتل کا ہے۔ جب تک انصاف زندہ نہیں ہوگا، امن کی ہر بات ایک کھوکھلی صدا ہی رہے گی، ایک ایسا نعرہ جو خود اپنی گونج میں مر جاتا ہے۔
ایسے اندھیروں میں پاکستان ایک جلتا ہوا چراغ ہے، جو اپنی لرزتی ہوئی لو کے باوجود بجھا نہیں۔ پاکستان خود استعمار کی زنجیروں کو توڑ کر وجود میں آیا۔ اسی لیے یہ قوم غلامی کے زخموں کی ٹیس کو پہچانتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فلسطین کو محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ امت کے ضمیر کا سوال قرار دیا تھا۔ تب سے آج تک پاکستان کی ریاستی پالیسی ایک ہی محور کے گرد گھومتی رہی ہے، یعنی ”فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی قبضے کی مخالفت“۔ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس اصول سے پیچھے ہٹا۔ یہ استقامت محض سفارتی جملوں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، انسانی امداد اور اخلاقی و سیاسی حمایت میں بھی جھلکتی رہی ہے۔
آج غزہ کی سرزمین ایک کھلے مقتل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ شہروں کے شہر ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں۔ ہسپتال قبرستانوں میں بدل رہے ہیں۔ سکول وہ مقتل بن گئے ہیں جہاں کتابوں کے ساتھ بچوں کی لاشیں بکھری نظر آتی ہیں۔ بھوک ایک خاموش قاتل کی طرح ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیںبلکہ یہ ایک قوم کی نسل کشی ہے۔ یہ صرف فلسطین کا المیہ نہیں بلکہ یہ انسانیت کی شکست ہے۔
ایسے میں “بورڈ آف پیس” کا قیام ایک نئی سفارتی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ امید کی ایک باریک لکیر، جو اندھیروں کے سینے پر کھنچی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس پر سوالات بھی ہیں اور تحفظات بھی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ فلسطین کو عالمی ایجنڈے پر سنجیدگی سے لانے والی ہر کوشش اہم ہے۔ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت ایک تاریخی موقع ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے۔
پاکستان کو اس فورم پر سب سے پہلے یہ بات واضح کرنا ہو گی کہ فلسطین میں امن کی بنیاد دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی عبوری انتظام، کوئی تعمیر نو کا منصوبہ، کوئی معاشی پیکیج اس خلا کو پر نہیں کر سکتا جو آزادی کے بغیر پیدا ہوتا ہے۔ امن کا مطلب قبضے کو قابلِ قبول بنانا نہیں، بلکہ قبضے کا خاتمہ ہے۔ یہ بات پاکستان کو نہایت دو ٹوک انداز میں اپنانا ہوگی۔
پاکستان کو انسانی امداد کے معاملے میں بھی صفِ اول میں کھڑا ہونا چاہیے۔ غزہ کے لیے خوراک، ادویات، طبی ٹیمیں اور رہائش کی فراہمی کو سیاسی سودے بازی سے الگ رکھنا ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہر بڑے انسانی بحران میں کردار ادا کیا ہے۔ یہی روایت یہاں بھی دہرانا ہوگی۔
سفارتی سطح پر پاکستان کو او آئی سی اور دیگر ہم خیال ممالک کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط بلاک تشکیل دینا چاہیے۔ تقسیم شدہ امت کمزور امت ہوتی ہے۔ متحد آواز ہی بڑی طاقتوں کو سننے پر مجبور کر سکتی ہے۔ پاکستان اس اتحاد میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، جو مختلف ممالک کو ایک مشترکہ مقصد پر جوڑے۔
داخلی سطح پر شفافیت ناگزیر ہے۔ حکومت کو قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد کسی صورت فلسطینی مو¿قف سے انحراف نہیں، کیونکہ عوامی اعتماد کے بغیر کوئی خارجہ پالیسی دیرپا نہیں ہو سکتی۔
قارئین محترم! پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور نہ کرے بلکہ اس کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کا ذریعہ بنے۔ یقینا اقوام متحدہ میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے، مگر یہ اصولوں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔فلسطین میں دیرپا امن ایک دشوار راستہ ضرور ہے، مگر یہ بند گلی نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ انصاف کو بنیاد بنایا جائے، قانون کو طاقت پر ترجیح دی جائے اور مظلوم کی آواز کو سنا جائے۔ پاکستان اگر اس اصولی راستے پر ثابت قدمی سے چلتا رہا تو وہ نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن بنے گا بلکہ اپنے وجود کے فلسفے سے بھی وفادار رہے گا۔ اور یہی وفاداری قوموں کو تاریخ میں زندہ رکھتی ہے۔