Wed, September 16, 2026

سیپسس کی تشخیص میں نئی پیشرفت

سیپسس کی تشخیص میں نئی پیشرفت

لندن: طبی ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد خطرناک بیماری ’سیپسس‘ کی جلد تشخیص کے نئے طریقے کی نشاندہی کی ہے۔ طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ماہرین نے کئی سالوں کی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’سسٹمز امیونالاجی‘ (Systems Immunology) کے کمپیوٹیشنل اور طبی تشخیصی طریقوں کے ذریعے ’سیپسس‘ کی جلد تشخیص ممکن ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ ’سسٹمز امیونالاجی‘ کی تشخیص کا طریقہ پیچیدہ اور مہنگا ہے، اس لیے اس کو سادہ بنانے کے لیے مزید تحقیق اور وسائل کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طریقہ کار کو بہتر بنانے سے ’سیپسس‘ کی جلد تشخیص ممکن ہو سکے گی، جس سے اموات کی شرح میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، ’سیپسس‘ ایک ایسی حالت ہے جو عام طور پر دیگر بیماریوں کے بعد شدت اختیار کرتی ہے اور متاثرہ شخص کے بچنے کے امکانات کو بہت کم کر دیتی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی 20 فیصد اموات کا ذمہ دار ’سیپسس‘ ہے، لیکن اکثر مریض اس بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کی تشخیص نہیں کر پاتے۔

’سیپسس‘ ایک سنگین وائرل بیماری ہے جو انفیکشن کی وجہ سے جسم میں سوزش کا باعث بنتی ہے، جس سے متعدد اعضاء کی ناکامی ہوسکتی ہے۔ یہ بیماری خون کے ذریعے جسم میں پھیلتی ہے اور اعضا کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کی علامات عام بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر اس کی علامات کو دیگر بیماریوں سے جوڑ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

’سیپسس‘ کی کوئی مخصوص تشخیصی تکنیک موجود نہیں، تاہم اس کی تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں، جیسے بلڈ ٹیسٹس، ایکس ریز، سی ٹی اسکین، لیکن بعض اوقات یہ طریقے بھی بیماری کی درست تشخیص کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین ’سیپسس‘ کو مختلف بیماریوں کے مرکب کے طور پر جانتے ہیں اور اسے تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، جن میں تیسری قسم کو انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ٹیگز: