کیا اس زمین پر صرف ایک ملک ہے جس کانام پاکستان ہے اورصرف اُس کو ہی سلامتی اور دفاع کی ضرورت ہے یا یہ خواہش اس سیارے پر بسنے والی دوسری مہذب ریاستوں کی بھی ہے ؟ اگر پاکستان میں دہشتگرد داخل ہوئے ہیں تو یہ افغان جنگ کے بعد کا تحفہ ہے اور اب یہ بات تو دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ افغان جنگ کن سرمایہ دار ریاستوں کی ضرورت تھی؟ کن کو لڑنی پڑی؟ اس کا سب سے زیادہ نقصان کسے ہوا؟ اور کون ہے جو آج تک اس جنگ کی باقیات کو اپنے خون کا لگان پیش کر رہا ہے جو کسی اور کا فرض تھا ۔ افغان جنگ سے پہلے لفظ دہشتگرد بھی پاکستان میں نہیں تھا اور اگر کہیں اس کا استعمال بھی ہوا ہو گا تو وہ ہرگز طالبان جیسے خوفناک دہشتگردوں جیسے لوگ توہر گز نہیں ہوں گے۔ ہمیں دنیا کی طاقتور ترین ریاستوں کے باہم مشورے سے اُس جنگ کا ایندھن بنایاگیا اور مقصد کے حصول کے بعدسب نے اپنی اپنی راہ لی اور ہمارے حصے میں پہ در پہ تقسیم ہونے والے دہشتگرد گروپ آئے جن کی گندگی صاف کرتے ہوئے ہمارے اپنے بیٹے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ۔ شہید ہونے والوں کی اکثریت اُن جوانوں کی ہے جو افغان جنگ کے خاتمے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے یعنی یہ جنگ انہیں وراثت میں ملی ہے لیکن ہماری بہادر فوج اُسے اپنی حقیقی جنگ سمجھ کر لڑ رہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ذہن کی مومی تختی پر ابھر کر سامنے آیا کہ برطانیہ میں موجود عمران نیازی کے سیاسی طالبان انسانی حقو ق کا نقاب لگا کر پاکستان کے خلاف ہر سازش کا حصہ بنے اپنے طالبانی بھائیوں کے پروگرام کا چوراہوں میں اعلان کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہ مادر پدر آزاد ہجوم اب کھلے عام دہشتگردوں کو پاکستان کے سب سے زیادہ باوقار فیلڈمارشل ٗ چیف آف ڈیفنس فورسز آرمی چیف عاصم منیر پر کار کے ذریعہ خود کش حملہ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے اور برطانیہ نے ان بیہودہ خیالات کا ہجوم دماغو ں میں پالنے والوں کو اپنی سرزمین پرکھلی اجازت دے رکھی ہے۔یہ ویڈیو پاکستان تحریک انصاف برطانیہ کے آفیشل اکائونٹ سے اپ لوڈ ہوئی جسے ازاں بعد ساری پی ٹی آئی نے شیئر کیا ۔ گو کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے نہیں رکتے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ اس گلوبل دنیا میں بھی اکٹھے چلا جا سکتا ہے ؟ کیا اشتعال انگیز اور دھمکیوں کی یہ پہلی واردات ہے جو برطانوی سرزمین سے پاکستان کیخلاف کی گئی ہے تو اس کا جواب ہے کہ ہرگز نہیں کیوں کہ 9مئی کی واردات کے بعد تو برطانیہ سے پھیلنے والا پروپیگنڈا کا سلسلہ یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ اور لاطینی امریکہ تک پہنچا ہے ۔ جہاں پی ٹی آئی کے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ان وارداتوں کی گنجائش پیدا کی گئی ہے ۔ گو کہ حکومت ِ پاکستان کی طرف سے برطانوی ذمہ داران کو بذریعہ خط مطلع کردیا گیا ہے کہ متعلقہ ویڈیو میں موجود چہرو ں کی نشاندہی کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔پاکستان میں انتشار اور نفرت پھیلانے والوں کومنظر عام پر لا کر اُن کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن کیا آج کے دن تک یہ برطانوی حکومت کی نااہلی نہیں ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم خود قانون دان اور انسانی حقوق کے بارے میں بہت باخبر انسان ہیں تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ برطانیہ میں سب کچھ ہونے کے باوجو د برطانوی وزیر اعظم کے علم میں نہیں تھا یا پھر اس گروہ کی پشت پناہی کرنے والے افراد برطانوی وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور ہیں ؟
برطانیہ کو عملی طور پر یقینی بنانا ہو گا کہ پاکستان کے خلاف برطانیہ میں بیٹھ کر سازش کرنے کی کوئی گنجائش کسی کیلئے بھی نہیں ہے۔وہ چیف آف ڈیفنس فورسز جس کاڈنکا دنیا میں بج رہا ہے دو ٹکے کا پی ٹی آئی ہاف ٹائمر اُس کے خلاف قتل کی منصوبہ بندی بارے برطانیہ جیسے ملک میں کھڑے ہو کر اعلان کررہا ہو اور برطانوی حکومت اس سے لا تعلق رہے تو اسے غیر جانبداری تو کسی صورت نہیں سمجھا جا سکتا ۔ کیا ایسے کوئی بیانات کرائون یا پھر برطانوی آرمی چیف کے بارے میں پاکستان کی سرزمین سے دیاجاتا تو پاکستان ایسے شخص یا ہجوم کے بارے میں کارروائی کرنے میں ہرگز دریغ نہ کرتا لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اس بدترین واقعہ بارے بھی برطانوی قونصلیٹ کی عدم موجودگی میں دوسرے ذمہ دارا ن کو طلب کرکے بتانا پڑاکہ آپ کی سرزمین پر اُس شخص کے قتل کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جو نہ صرف ہماری بینان مرصوص کی بنیادی اینٹ ہے بلکہ 26کروڑ پاکستانیوں کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قابل ِ فخر بیٹا ہے۔ دنیا کو یا د ہونا چاہیے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے والی دنیا کی واحد قوم ہیں جنہوں نے دنیا کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے شہریوں اور دفاعی عہدیداروں کی قربانیاں دی ہیں ٗ اربوں ڈالر کا نقصان کرکے اپنے لوگوں کو بھوک اور ننگ میں دھکیل دیا ہے لیکن اس جنگ سے منہ نہیں موڑ ا ور آج بھی روزانہ نائن الیون اور سیون سیون ہو رہے ہوتے ۔برطانیہ کا قانون ٗ عالمی قانون اور انسانوں کا اجتماعی ضمیر دہشتگردی کا نہ صرف مخالف ہے بلکہ دہشتگردوں کو پناہ دینے یا اُن کے خلاف کارروائی نہ کرنے والوں کو دہشتگردوں کا ساتھی سمجھتا ہے ۔ برطاینہ دنیا کے مہذب ترین ممالک میں سے ہے لیکن ایسی غلط حکمت عملی اور دہشتگردی کو آزادی ء اظہار کے نام پر کھلی چھوٹ دینا عجیب و غریب تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو افغانستان بنانے کی کوشش بھی ہے جہاں اس وقت پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے ٗ افواج ِ پاکستان پرحملے کرنے والے اورپاکستان کی عوام پر خود کش حملے کرنے اورکروانے والوں کا اکٹھ بیٹھا ہوا ہے ۔ اب ان حالات میں پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ؟ یہ سوال اتنا اہم نہیں لیکن کیا دنیا افغانستان کو یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دے رہی ہے ؟ یقینا نہیں دے رہی اور اس کی مذمت کررہی ہے ۔ یہ صدی انفارمیشن کی ہے اور پروپیگنڈا میں انفارمیشن کا مرکزی کردار ہوتا ہے اور پاکستان کے فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز پر کار کے ذریعے خود کش حملے کی بات کرنا پاکستان کے 26کروڑ شہریوں پر حملے کے مترداف ہے جسے نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ قابل ِ معافی جرم ہے۔برطانیہ فیصلہ کرئے کہ وہ مہذب دنیا کے ساتھ کھڑا ہے یا پھر دہشتگردوں کے ۔کیونکہ پاکستان دشمنوں کے خلاف افواج پاکستان کھڑی ہے جسے فیلڈ مارشل لیڈر کررہے ہیں اور فیلڈ مارشل کی حفاظت کیلئے اللہ اور پاکستان کی عوام موجود ہے ۔برطانیہ کو اپنے جغرافیے کیلئے اور دنیا کی دوسری ریاستوں کیلئے حق ِ آزادیٔ اظہار کا معیار ایک ہی رکھنا ہو گا کہ سماج طبقاتی ہو سکتے ہیں لیکن ریاستیں طبقات میں بٹ گئیں تو طبقاتی ریاستیں دنیا کیلئے ایک بڑا خطرہ ہو گا جو شاید پہلے بھی بُری معیشت کی وجہ سے موجود ہے۔