فرانسسکو گویا نے کہا تھا ’’عقل کا خواب، عفریتوں کو جنم دیتا ہے‘‘۔ مدتوں بعد ہنّا آرنٹ نے یاد دلایا کہ سیاست میں طاقت اکثر اپنے اندر کے خوف کو تماشوں، نعروں اور عظیم دعووں کے پردے میں چھپا لیتی ہے۔ یہی دو جملے اگر ایک فریم میں رکھ دئیے جائیں تو آج کے بھارت کی ایٹمی قانون سازی پورے قد کے ساتھ اس میں آن کھڑی ہوتی ہے، جو چمک دار بھی ہے اور متلاطم بھی، مگر اندر سے بے چین اور مضطرب بھی ہے۔انڈیا کی پارلیمان سے منظور ہونے والا نیا ایٹمی توانائی بل محض ایک قانون نہیں۔ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایک ایسا اعلان جو اعتماد کی کوکھ سے نہیں بلکہ طاقت دکھانے کی خواہش کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ اسے دور رس، انقلابی اور فیصلہ کن کہا جا رہا ہے، مگر اس کے نیچے جو منطق سانس لے رہی ہے وہ خود اعتمادی نہیں، اضطراب ہے۔ یہ خواہش کہ جدید نظر آیا جائے، مضبوط دکھائی دیا جائے، چاہے بنیادیں ابھی کچی ہی کیوں نہ ہوں۔سال 2047 تک ایک سو گیگا واٹ ایٹمی توانائی کا ہدف کاغذ پر بڑا دلکش لگتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ بڑے ہدف ہمیشہ بڑی صلاحیت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اکثر وہ انا کے آئینے میں خود کو بڑا دیکھنے کی خواہش ہوتے ہیں۔ بی جے پی شانتی بل 2025 کو ترقی کی ضمانت بنا کر پیش کر رہی ہے، جیسے محض ایک دستخط سے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ حکمران جماعت اسے خودکفالت کی سیڑھی کہتی ہے مگر اپوزیشن اسے خطرے کی چھلانگ قرار دیتی ہے۔ ایوان میں واک آؤٹ ہوا، بحث سے گریز کیا گیا اور مستقل کمیٹی کے دریچے بھی بند رکھے گئے۔ اگر یہ عمارت واقعی مضبوط ہے تو پھر روشنی سے گھبراہٹ کیوں؟
یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت میں نجی شعبے کو ایٹمی توانائی کے مقدس احاطے میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے اور یہیں سے کہانی ایک نئے موڑ پر آ جاتی ہے۔ جوہری توانائی کوئی عام صنعت نہیں کہ منافع اور نقصان کے ترازو میں تولی جائے۔ یہ ایک ایسا نظمِ تہذیب مانگتی ہے، جہاں ہر پیچ، ہر والو اور ہر فیصلہ اجتماعی ذمہ داری کے بوجھ تلے ہو۔ نجی شعبے کی دنیا میں مگر رفتار، کٹوتی اور شارٹ کٹس کامیابی کے نسخے سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں خطرات سر ابھارنا شروع کرتے ہیں۔ چرنوبل اور فوکوشیما تاریخ کی گرد میں دفن ابواب نہیں۔ یہ جدید دنیا کی یادداشت کے زخم ہیں۔ یہ حادثات وہاں ہوئے جہاں ادارے مضبوط تھے، نگرانی موجود تھی اور ٹیکنالوجی جدید تھی۔ وہاں بھی ایک لمحے کی لغزش نے نسلوں کو عمر بھر کا روگ دے دیا۔ اب ذرا انڈیا کی طرف دیکھیے، جہاں انفراسٹرکچر پر سوالات ہیں، شفافیت محض ایک دعویٰ ہے اور ریگولیٹری کلچر اکثر کاغذی پیراہن اوڑھے رہتا ہے۔ ایسے میں نجی سرمایہ کاروں کو اس رزم گاہ میں اتارنا آگ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟توانائی کے ماہر نریندر تنیجا ایٹمی نظام کو ہوائی جہاز کی مرمت سے تشبیہ دیتے ہیں کہ یہاں کوئی سمجھوتہ نہیں چلتا۔ بات درست ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ نظام کیسا ہونا چاہیے؟ سوال یہ ہے کہ کیا نظام چلانے والے بھی ویسے ہی ہوں گے؟ یا پھر وہی کہانی دہرائی جائے گی جو پلوں، ڈیموں، شاہراہوں اور فیکٹریوں کے ٹھیکوں میں لکھی جاتی رہی ہے۔ جلد بازی، کم خرچ اور زیادہ منافع کی کہانی۔ہندوستان کے پاس کچھ پرانے چراغ ہیں، جو اب بھی جل رہے ہیں۔ وہاں اب تک کوئی بڑا حادثہ نہ ہونا خوش قسمتی ہے، ضمانت نہیں۔ خاص طور پر اُس وقت، جب جوہری زمام سنبھالنے کیلئے نجی سرمایہ کار سٹیج میں داخل ہوں، جنہیں ہر سہ ماہی میں شیئر ہولڈرز کو جواب دینا ہوتا ہے۔ وہاں حفاظت اکثر اکاؤنٹس کے حاشیے میں چلی جاتی ہے۔
ریڈیو ایکٹیو فضلہ اس کہانی کا سب سے خاموش کردار ہے۔ ایسا زہر جو دکھائی نہیں دیتا، مگر صدیوں تک زمین، پانی اور ہوا میں سرایت کیے رہتا ہے۔ اپوزیشن نے اس پر سوال اٹھایا تو جواب میں آئی اے ای اے کی نگرانی کا حوالہ دیا گیا۔ کاغذ پر یہ دلیل مضبوط ہے، مگر عملی دنیا میں آئی اے ای اے بھی ریاستی تعاون کی بیساکھی پر چلتی ہے۔ نجی کمپنیوں کے اندرونی فیصلے اس کے دائرے سے باہر رہتے ہیں اور خطرہ وہیں پلتا ہے جہاں نگرانی ختم ہو جاتی ہے۔عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ایٹمی توانائی چند ہی ممالک کی جاگیر ہے۔ امریکہ، فرانس، چین، روس، پاکستان، جنوبی کوریا۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جنہوں نے دہائیاں اس میدان میں گزاریں، انسانی وسائل پیدا کیے اور حفاظتی نظم مضبوط کیا۔ انڈیا اس فہرست میں شامل ہونے کی خواہش ضرور رکھتا ہے مگر خواہش اور استعداد کے بیچ ایک گہری خلیج ہوتی ہے۔چین کی مثال دی جاتی ہے، مگر چین کا ماڈل ریاستی کنٹرول پر کھڑا ہے۔ وہاں نجی سرمایہ کار پالیسی کا رخ متعین نہیں کرتے۔ انڈیا کی کہانی مختلف ہے، یہاں سیاست، سرمایہ اور میڈیا کا مثلث اکثر حفاظتی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔درحقیقت یہ بل توانائی سے زیادہ امیج بلڈنگ کا منصوبہ ہے۔ شائننگ انڈیا کی پرانی داستان کا نیا ایڈیشن۔ عالمی طاقت بننے کے نعرے، جی ٹوئنٹی کی چمک، خلائی مشنوں کی تشہیر۔ سب ایک ساتھ۔ مگر زمین پر کھڑے کروڑوں شہری آج بھی کوئلے کے دھوئیں اور بجلی کی قلت میں سانس لے رہے ہیں۔
توانائی میں خودکفالت کا راستہ شور سے نہیں، توازن سے نکلتا ہے۔ شمسی توانائی، ہوا، پانی، مقامی گرڈ کی اصلاح اور لائن لاسز میں کمی۔ یہ وہ راستے ہیں جو کم خطرناک اور زیادہ پائیدار ہیں۔ مگر یہ کم چمک دار ہیں، اس لیے سٹیج پر کم نظر آتے ہیں۔اس قانون کے علاقائی سائے بھی لمبے ہیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ ایٹمی ہتھیار، سرحدی تنازعات اور سیاسی بے یقینی۔ ایسے میں ایٹمی توانائی کا پھیلاؤ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتا۔ ہوا اور پانی سرحدیں نہیں دیکھتے۔ ایک حادثہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے لیے یہ فیصلہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ کیونکہ انہیں نہ معلومات کا حق حاصل ہے، نہ نگرانی کا کوئی مؤثر نظام ہے۔ یہ خطے میں عدم اعتماد کو مزید گہرا کرے گا اور شاید ایک نئے اسلحہ جاتی مقابلے کی بنیاد بھی رکھ دے۔انڈیا کا یہ بل ترقی کی علامت نہیں، محض ایک بیانیہ ہے۔ عالمی سٹیج پر سنائی جانے والی ایک دلکش مگر کھوکھلی کہانی۔ توانائی میں خودکفالت خطرات سے آنکھ چرا کر حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ حقیقت کا سامنا کر کے ہی حاصل ہوتی ہے۔شانتی کے نام پر منظور ہونے والا یہ قانون سکون نہیں لایا، یہ اضطراب لے کر آیا ہے۔ شانتی بل ایک نئے راکھشس کے جنم کا باعث بن سکتا ہے اور شاید یہی اس کی سب سے سچی تمثیل ہے۔