Wed, September 16, 2026

بیرون ملک پاکستانی کیا صرف ڈالر مشین ہیں؟

بیرون ملک پاکستانی کیا صرف ڈالر مشین ہیں؟

ہم پاکستانیوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہم نے صرف پاکستان کے اندر ہی رہنا، جینا مرنا اور دیگر کاروبار ِ زندگی کے امور بھی یہیں سر انجام دینے ہیں نہ ہمارا کسی سے کوئی واسطہ ہے اور نہ کسی نے ہمارے ساتھ کوئی واسطہ رکھنا ہے اس لیے ہم جو مرضی کریں کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں ہماری حکومتوں میں اس وقت ایسے افراد نہ ہونے کے برابر ہیں جن کا کوئی ’’قومی یا بین الاقومی ویژن‘‘ ہی ہو دنیا کے ساتھ چلنا تو بہت دور کی بات ہے ہمارئے اکابرین ملت و حکومتی ذمہ کے اندر تو اتنی بھی عقلی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ ملک کے اندر چند گروہوں ،جماعتوں طاقت ور جتھوں اور افراد کی جانب سے پیدا کئے جانے والے سماجی ،معاشرتی و مذہبی مسائل اور خوف سے ہی عہدہ براہ ہو سکیں یا ان کا کوئی مثبت حل پیش کر سکیں۔ہم ایک ایسا معاشرہ بنتے جارہے ہیں جس میں کسی قانون ،ضابطے ، اخلاقی قدروں، یا بین الاقوامی قوانین کی بھی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہر طاقت ور گروہ ، جتھے یا جماعت کا اپنا قانون ، اپنا سچ اور اپنی اخلاقی قدریں ہیں جن کے خلاف جانے والے دیگر افراد معاشرہ قابل گردن زنی ہیں۔ اس طرح کے حالات ان معاشروں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں حکومت کی رٹ ،قانون اور نظام انصاف اپنی افادیت اور فعالیت کھو چکا ہو۔
دنیا گلوبل ویلج سے بھی آگے جاچکی ہے اب یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی ملک دنیا سے کٹ کر رہ سکے مختلف النوع سماجوں، معاش، تعلیم و صحت کی ضرورتوں نے دنیا کے سات ارب سے زائد انسانوں کو ایک کنبہ بنا کر رکھ دیا ہے جن کی معاملات اور ضرورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور الگ تھلگ رہنے کا تصور ہی خوفناک ہے لیکن پاکستان کے اندر چند ایسے خاص مائنڈ سیٹ کے حامل گروہوں جتھوں اور افراد جن کے نزدیک کنواں ہی دریا ہے اور ہر سوال کا جواب دیتی ہوئی سائنسی تعلیم سے انحراف جیسی قدامت پسندانہ سوچ میں اضافہ ہونا اور اسے معاشرے کی عمومی سوچ پر اسے اپنے فہم کے مطابق زبردستی مسلط کرنا اور اس زعم میں رہنا کہ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں اور نہ ہم کسی کے مرہون منت ہیں نے ان پاکستانیوں کی جو 
پاکستان کے اندر رہ رہے ہیں یا بیرون ممالک کام کر رہے ہیں خوف ،پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے کہ وہ اور ان کی نسلوں کا مستقبل کیا اور کیسا ہو گا؟ 
پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار بیرون ممالک کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور سرمایہ کاری پر ہے اس بات کا ادراک حکومت کو بھی ہے مگر اسے برقرار رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے حوالے سے جن اقدامات کے کرنے کی ضرورت ہے پر کام نہیں کر رہی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان معاشی لحاط سے دن بدن کمزور بھی ہوتا جارہا ہے اور اس کے قرضوں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔۔
بیرون ممالک پاکستانیوں کے احساسات کا ادراک اور احساس پاکستان کی سیاسی اشرافیہ، جرنیلوں اور بیوروکریسی کے ان افسران اور تاجر حضرات کو جو آئے دن بیرون ممالک کے دوروں پر ہوتے ہیں سے زیادہ کس کو ہو گا کہ ایک پاکستانی پاکستان کے اندرونی حالات سے کس قدر دل برداشتہ ہے اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کا ’’ٹریڈ مارک‘‘ کیا بن چکا ہے۔سبز پاسپورٹ کی وقعت کتنی ہے اور اس کے حاملین سے کس طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن حیرت ہے دنیا سے بہتر تعلقات قائم کرنے اور ملکی حالات کو بدلنے کے دعوئے دار یہ تمام افراد اس مرض کی تشخیص نہیں کر سکے جس کی جانب دنیا بھر کے افراد کے ساتھ پاکستانی اور ان کے ساتھ ہونے والا سلوک توجہ دلا رہا ہے کہ بھائی آپ کے ملک کا مرض یہ ہے اس کا علاج کر لیں پاکستان دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔پاکستان کے قومی زرمبادلہ سے زائد بیرون ممالک کام کرنے والے پاکستانی ہر سال ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں جس سے ’’گلشن کا کاروبار‘‘ چلتا ہے ،
 بیرون ممالک میں ہندوستان افرادی قوت کو برآمد کرنے والا اہم ملک بن چکا ہے جس کے ایک کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ شہری بیرون ملک کام کررہے ہیں اور ہر سال 71 ارب ڈالرز کے قریب وطن واپس بھیج رہے ہیں، جہاں تک چھوٹے ممالک کی بات ہے جیسے نیپال، تاجکستان اور دیگر، ترسیلات زر ان نے مجموعی جی ڈی پی کا بالترتیب 42 اور 29 فیصد پر مشتمل ہے۔پاکستان میں ترسیلات زر ملک کے لئے بہت اہم ہے اور معیشت کے لیے غیرملکی زرمباد لہ کا سب سے اہم ذریعہ ہیں، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اس سے ملک کے ادائیگیوں کے توازن میں استحکام آتا ہے اور یہ اس کی درآمدات کے نصف کی نمائندگی کرتی ہے۔پاکستان کی یہ افرادی قوت بیرون ملک جاکر رقوم بھیج کر ناصرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کررہی ہے بلکہ وہ ملک میں آنے والی کسی بھی قدرتی آفت کے موقع پر امداد کا بڑا حصہ بھیجنے کی ذمہ داری بھی پوری کرتی ہے۔
 اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے پرکشش ماڈل کو اپنایا نہیں جاتا،پاکستان میں سیکورٹی کے مسائل اور’’ ہجوم کی اجارہ داری اور انصاف‘‘ کے قائم رہتے ہوئے ہم ترقی کی اس معراج تک نہیں پہنچ سکتے جس پر ہمارے ہمسایہ ممالک پہنچ رہے ہیں کل تک ہمارا ہی حصہ رہنے والا ملک(بنگلہ دیش) بھی انسانی ترقی کے اشاریوں میں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ہم سے آگے ہے ’’اگر ہم اپنے پیٹ سے قمیض کے اٹھنے کا برا نہ منائیں تو پاکستانی سرمایہ کار بھی بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنے کو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے‘‘ ۔اب یہ ہی دیکھ لیجیے ہمارے جیسے ملک کو جس کی معیشت کا دارو مدار بیرونی قرضوں، امداد اور بیرونی ترسیلات زر پر ہے ہمیں ان حالات سے نکلنے کے لئے دن رات کام کرنے ، توانائی کے تمام ذرائع کو سستا کرنے کے ساتھ اس کی مستقل بنیادوں پر فراہمی کو یقینی بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیے جبکہ ہم قومی و دیگر تہواروں پر ہفتہ ہفتہ سرکاری تعطیلات کرتے ہیں ۔ ہمیں اس طرز عمل س باہرآ جانا ہے مگر ہمارے تعلیمی اداروں میں سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں چند مہینے ہی پڑھائی ہوتی ہے باقی سارے دن چھٹیوں کی نظر ہو جاتے ہیں، اتنی زیادہ چھٹیوں کے پیچھے بھی سیکورٹی خدشات، موسموں کی شدت اور انتہا پسندوں کا خوف اور حکومتی نااہلی ہے جو ابھی تک اس طرح کے مسائل کا کوئی ٹھوس حل نہیں نکال سکی۔ہماری حکمران اشرافیہ نے اگر اب بھی ہوش کا دامن نہ تھاما اور جو مرض لاحق ہے جسے دنیا نہ صرف بتا رہی ہے بلکہ ہمیں اچھوت سمجھ کر کنارہ کشی بھی اختیار کر رہی ہے کا علاج نہ کیا تو ہم دنیا کے ساتھ تو کیاا پنے ساتھ چلنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔

ٹیگز: