تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب پاکستان نقشہ عالم پر ابھرا، تو ایران وہ پہلا برادر ملک تھا جس نے ہماری آزادی کو تسلیم کر کے ایک لازوال رشتے کی بنیاد رکھی۔ آج دہائیاں گزرنے کے بعد، جب میں حالیہ ایران امریکہ جنگ کے شعلوں کے درمیان، تہران کی گلیوں اور مازندران کی ہریالی میں موجود تھا، تو مجھے اس قدیم رشتے کی تپش پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوئی۔ جنگ کے وہ پینتالیس 45 دن محض ایک ریاست کا دفاع نہیں تھے، بلکہ ایک عظیم متمدن قوم کے آہنی عزم کا امتحان تھے، جس میں ایرانیوں نے اپنی بہادری اور جرا¿ت سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جنگ کے ابتدائی دو روز میں فضا میں ایک اضطراب ضرور تھا، پرائیویٹ ٹیکسیوں کے کرائے بڑھے اور عام آدمی کی جبین پر فکر کے آثار ابھرے، لیکن یہ کیفیت ایک ڈھلتی شام سے زیادہ نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ایرانی قوم نے خوف کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ تہران جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی اور نظم و ضبط کا یہ عالم تھا کہ بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ساکن رہیں اور رسد میں کوئی کمی نہ آئی۔ ایک ایسے وقت میں جب میزائلوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی، مازندران کے قہوہ خانوں اور ریستورانوں میں لوگوںکا ہجوم اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ یہ قوم موت سے ڈرنا بھول چکی ہے۔ ان کے رہبرِ معظم کی شہادت ایک بہت بڑا قومی سانحہ تھا، لیکن اس نے ایرانیوں کو توڑنے کے بجائے ایک لڑی میں پرو دیا۔ تکنیکی محاذ پر ایرانیوں کی خود انحصاری قابلِ رشک تھی۔ بین الاقوامی انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود ایتا، بلہ اور روبیکا جیسے مقامی پلیٹ فارمز نے رابطوں کو ٹوٹنے نہ دیا، بلکہ داخلی انٹرنیٹ کی ارزانی نے عوام کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ یہ بات کبھی نہ بھولنے والی ہے کہ جب میری رہائش سے کچھ فاصلے پر ایک بجلی گھر کو نشانہ بنایا گیا، تو مجھے گمان تھا کہ اب یہ علاقہ ہفتوں تاریکی میں ڈوبا رہے گا، لیکن وہاں کی انتظامیہ نے تو جیسے معجزہ کر دکھایا۔ محض چند دنوں میں بجلی گھر دوبارہ روشن تھا اور تباہ شدہ ریلوے لائنیں 48 گھنٹوں میں پھر سے ریل گاڑیوں کا بوجھ سہارنے کے لیے تیار تھیں۔ یہ سرعت اور حب الوطنی کا وہ جذبہ ہے جو صرف ان قوموں کا خاصہ ہوتا ہے جنہیں اپنی مٹی سے عشق ہو۔ اسی بارود کے دھوئیں میں جب سانس لینا دوبھر تھا، پاکستان کی جانب سے امن کی سفارت کاری اور ہمارے آرمی چیف کی مدبرانہ قیادت کی کوششیں ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح آئیں۔ ایرانی عوام نے جس والہانہ انداز میں پاکستان کی اس خیر سگالی کا اعتراف کیا، وہ ہمارے مشترکہ مستقبل کی نوید ہے۔ تہران کی منڈیوں میں ”شکریہ پاکستان“ کے نعرے دراصل اس بات کا اعلان تھے کہ ہم صرف ہمسائے نہیں، ایک ہی جسم کے دو حصے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس سفارتی قربت کو مضبوط معاشی اور تجارتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ پاک ایران سرحد پر تجارتی راہداریوں کی وسعت اور عوامی سطح پر بڑھتا ہوا یہ ربط ہمیں دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دوست بدل جاتے ہیں، عالمی اتحاد بدل جاتے ہیں، لیکن ہمسایگی کا رشتہ تقدیر کی طرح اٹل رہتا ہے۔ جنگ کے ان دنوں میں ایران میں قیام نے میرے دل میں اس یقین نے پختہ جگہ بنا لی کہ ایران اس جنگ سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور اور پُرامن ملک بن کر ابھرے گا۔ ہماری دعائیں اور ہماری خارجہ پالیسی کا محور اب صرف ایک ہی نعرہ ہونا چاہیے کہ خطے کی بقا اسی میں ہے کہ یہ دونوں برادر اسلامی ممالک ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر رہیں۔ اللہ کرے کہ یہ پیوندِ اخوت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو اور پاک ایران دوستی کا یہ سفر ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ پاک ایران دوستی زندہ باد!